Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا (پ۲۰،  القصص:  ۷۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور دنیا میں   اپنا حصہ نہ بھول۔

            یعنی دنیا سے  اپنی آخرت کے لئے اپنا حصہ لینا نہ چھوڑ دے۔ دنیا سے  اسی طرح حسنِ سلوک کرو جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے اور دنیا میں   فساد نہ پھیلاؤ،   ورنہ اپنا دنیاوی حصہ کھو دو گے اور اُخروی حصے میں   سے  بھی کچھ باقی نہ بچے گا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی تمہیں   اس اجر و ثواب سے  محروم کر دے گا جس کا اسنے اپنے دوستوں   سے  وعدہ فرما رکھا ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے:

نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْؕ- (پ۱۰،  التوبۃ:  ۶۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہنے انہیں   چھوڑدیا۔

            یعنی انہوں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو چھوڑا تو اسنے بھی انہیں   چھوڑ دیا۔ بندوں   کے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو چھوڑ دینے سے  مراد یہ ہے کہ انہوں  نے اپنا حصہ چھوڑ دیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں   کو چھوڑ دینے سے  مراد یہ ہے کہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّنے ان کے اُخروی اجر و ثواب کو ختم کر دیا۔

        ایک عقل مند شخص اپنے وقت اور عمر کو غنیمت جانتا ہے اور جس آخرت کے آنے کا اسے  کامل یقین ہے اس کے لئے وقت و عمر میں   سے  ضرور کچھ حاصل کر لیتا ہے،   وہ اپنے وقت کو ان اعلیٰ و بہترین اعمال کی انجام دہی میں   بسر کرتا ہے جو اسی وقت کے ساتھ خاص ہوتے ہیں   اور کسی دوسرے وقت میں   ادا نہیں   کئے جا سکتے۔ یعنی اگر وقت ختم ہو جائے تو بندہ ان اعمال پر عمل نہیں   کر سکتا۔ چنانچہ سب سے  افضل عمل وہی ہے جس کی ادائیگی پر بندہ قادر ہو اور اس کا علم اس کی جانب اس کی راہنمائی کرے تا کہ وہ اپنے عمل کو اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے خالص کر سکے۔

اہلِ مراقبہ کی دو حالتیں  : 

        بندہ کسی بھی لمحہ خواہ وہ مختصر ہی ہو دو حالتوں   سے  خالی نہیں   ہو سکتا،   یعنی یا تو مقامِ نعمت میں   ہو گا یا پھر مقامِ مصیبت و ابتلا میں  ۔ پس مقامِ نعمت میں   بندے پر شکر کرنا اور مقامِ ابتلا میں   صبر کرنا لازم ہے۔ بندہ جب مقامِ نعمت یا مقامِ ابتلا پر فائز ہوتا ہے تو اس کے بعد ہر لمحہ نعمت کے مشاہدے میں   مصروف رہتا ہے یا پھر مُنْعِم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مشاہدے میں   مشغول رہتا ہے۔ اس اعتبار سے  کہ اس کا کوئی وقت مالک کے وجود اور مملوک کی حاضری سے  خالی نہیں   ہوتا۔ پس اس پر لازم ہے کہ واجب الوجود کی عبادت کرتا رہے اور اس کی بارگاہ میں   ہر دم حاضر رہے۔

        مراقبہ حضوری کی علامت ہے اور محاسبہ مراقبہ کی دلیل ہے اور بندے کو یہ نعمت اس کے ادنیٰ اوقات یعنی وقتِ مباح میں   بھی حاصل ہو سکتی ہے،   جو احوالِ مومن کی ایک ادنیٰ حالت ہے یعنی اسے  اس مباح وقت میں   بھی مُنْعِم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّیا اس کی نعمت کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے تا کہ اس کا کوئی بھی لمحہ و وقت ضائع نہ ہو یعنی یہ وقت بھی دنیا کے کاموں   میں   مصروف ہو کر نہ گزر جائے بلکہ وہ اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر کرتا رہے یا اس کی کسی ایسی نعمت کا ذکر کرتا رہے جو مُنْعِم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے حصول میں   اس کی رہنمائی کرے یا اسے  اس کی بارگاہ تک لے جانے والے راستے کی جانب نکال دے اور وہ اپنی آخرت میں   اس سے  نفع مند ہو کیونکہ آخرت متقین ہی کے لئے ہے۔

            اگر وہ مُنْعِم عَزَّ وَجَلَّکا مشاہدہ کرے گا تو ہیبت کی وجہ سے  سکون ووقار والی حیا اس پر چھا جائے گی،   یہ حالت خواص کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر نعمت کا مشاہدہ کیا تو اس کا تمام وقت شکر ادا کرتے ہوئے اور عبرت حاصل کرتے ہوئے گزرے گا۔ یہ حالت عام خواص کے لئے ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے پہلی قسم کے افراد کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (۴۹) فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ- (پ۲۷،  الذاریات:  ۵۰،  ۴۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو۔ تو اللہ کی طرف بھاگو۔

        اور دوسری قسم کے افراد کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَؕ- (پ۲۷،  الذاریات:  ۵۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ۔

        پہلی قسم کے لوگوں   کے مقام کے متعلق ارشاد فرمایا:

اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (۸۷) قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ (پ۱۸،  المؤمنون:  ۸۸،  ۸۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر کیوں   نہیں   ڈرتے۔ تم فرماؤ کس کے ہاتھ ہے ہر چیز کا قابو اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں   دے سکتا۔

            اور دوسری قسم کے افراد کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۸۴) سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (۸۵)   (پ۱۸،  المؤمنون:  ۸۵،  ۸۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ کس کا مال ہے زمین اور جو کچھ اس میں   ہے اگر تم جانتے ہو۔ اب کہیں   گے کہ اللہ کا تم فرماؤ پھر کیوں   نہیں   سوچتے۔

عقل مندوں   کے لئے نصیحت: 

            ایک روایت میں   عاقل کی صفات،   مراقب کا حال اور اوقات کو ان مناسب کاموں   میں   صرف کرنا مروی ہے جن کا ہم نے حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  



Total Pages: 332

Go To