Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہونے سے  پہلے پہلے کر لے۔

 (۳) … اس وقت کوئی ایسا مباح کام سر انجام دے جس میں   جسم اور دل دونوں   کا فائدہ ہو۔

            مومن کے لئے مذکورہ اوقات کے علاوہ کوئی چوتھا وقت نہیں  ،   اگر اسنے کوئی چوتھا وقت نکالا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حدود سے  تجاوز کرنے والا شمار ہو گا اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حدود سے  تجاوز کرتا ہے وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرنے والا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین میں   نئی راہیں   پیدا کرنے والا یعنی بدعتی شمار ہو گا۔ پس جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دین میں   نئی باتیں   پیدا کرے وہ متقین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلنے والا ہے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا (۶۲)  (پ۱۹،  الفرقان:  ۶۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی اس کے لئے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے۔

            رات اور دن کے درمیان کوئی تیسرا وقت نہیں   ہے،   کیا آپ دونوں   اوقات یعنی رات اور دن کے درمیان کوئی ایسا وقت پاتے ہیں   جس میں   جہالت کا مظاہرہ کیا جائے یا نفسانی خواہش کی پیروی کی جائے؟

ذکر وشکر: 

            ذکر،   ایمان و علم کا نام ہے اور اس کا تعلق تمام اعمالِ قلوب کے ساتھ ہوتا ہے اور شکر،   ایمان اور علم سے  حاصل شدہ ان احکام پر عمل کرنے کا نام ہے جن کا تعلق  (دل کے علاوہ)  تمام اعضائے جسمانی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ ذکر و شکر کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   ارشاد فرمایا:

اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ- (پ۲۲،  سبا:  ۱۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے داود والو شکر کرو۔

        دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

فَاتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تَشْكُرُوْنَ (۱۲۳)  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہ سے  ڈرو کہ کہیں   تم شکر گزار ہو۔

        ایک جگہ ارشاد فرمایا:

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ (۱۵۱)  فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ (۱۵۲)   (پ۲،  البقرۃ:  ۱۵۲،  ۱۵۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جیسے  کہ ہم نے تم میں   بھیجا ایک رسول تم میں   سے  کہ تم پر ہماری آیتیں   تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں   پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں   وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں   علم نہ تھا۔ تو میری یاد کرو میں   تمہارا چرچا کروں   گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔

            مزید ارشاد فرمایا:

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْؕ- (پ۵،  النسآء:  ۱۴۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ تمہیں   عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو اور ایمان لاؤ۔

            جب طویل قیام کے باعث حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے قدمین شریفین مُتَوَرِّمْ  (مُ۔تَ۔ وَرْ۔رِم)  ہو گئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  اس کے متعلق عرض کی گئی تو ارشاد فرمایا: ’’کیا میں   اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کا شکر گزار بندہ نہ بنوں  ۔ ‘‘   ([1])

            جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس سے  مراد شکر ہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عمل کر کے بتا دیا کہ واقعی شکر سے  مراد عمل ہے۔

مراقبہ کا ابتدائی وقت: 

            مراقبہ کی ابتدا کا وقت اہلِ مراقبہ کی بیداری سے  شروع ہوتا ہے یعنی جب وہ بیدار ہوں   تو سب سے  پہلے یہ دیکھیں   کہ کیا اس وقت ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اوامر و نواہی میں   سے  کوئی فرض لازم ہے یا نہیں  ؟

٭   اگر ہو تو اپنے اعمال کی ابتدا اسی سے  کریں   یہاں   تک کہ اس سے  فارغ ہو جائیں  ۔

٭ اگر کوئی ایسا فرض نہ پائیں   تو پھر ان کا وہ وقت مستحبات و فضائل سے  خالی نہ رہے بلکہ جن امور کو افضل پائیں   ان پر عمل کرنا شروع کر دیں  ۔

٭ اگر اس لمحہ کسی عمل میں   ادنیٰ سی فضیلت بھی نہ پائیں   تو پھر چاہئے کہ بندہ اپنے نفس سے  ذاتی بہتری و بھلائی کے لئے اور اپنے آج کے دن سے  گزرے ہوئے کل کی خاطر کچھ کمائی کر لے اور اپنی موجودہ ساعت سے  پورے دن کی کمائی کر لے،   نیز اپنی دنیا سے  آخرت کے لئے کچھ حاصل کر لے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   حکم دیا ہے: 

 



[1]     صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ (لیغفرلک    الخ)، الحدیث: ۴۸۳۶، ص۴۱۳



Total Pages: 332

Go To