Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اس کی دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں   ہے:

وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ (۴۰)  (پ۳۰،  النازعات:  ۴۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور نفس کو خواہش سے  روکا۔

                                                مراد یہ ہے کہ نفس کو دنیا کو ترجیح دینے سے  روکا جائے کیونکہ قرآنِ کریم میں   صراحت کے ساتھ ایسے  لوگوں   کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں   کہ وہ سرکش اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دینے والے ہیں  ۔ چنانچہ اس کے بعد ارشاد فرمایا:

طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ (۱۶)  (پ۲۶،  محمد:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جن کے دلوں   پر اللہ نے مُہر کردی اور اپنی خواہشوں   کے تابع ہوئے۔

            پس خواہشِ نفس کی پیروی دل پر لگنے والی مہروں   سے  پیدا ہوتی ہے اور دل کی مہروں   کا سبب گناہوں   کی سزا ہے اور عقوبت و سزا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احکام کو سمجھنے سے  بہرہ ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

لَوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْۚ-وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (۱۰۰)  (پ۹،  الاعراف:  ۱۰۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم چاہیں   تو انہیں   ان کے گناہوں   پر آفت پہنچائیں   اور ہم ان کے دلوں   پر مُہر کرتے ہیں   کہ وہ کچھ نہیں   سنتے۔

کفر کی بنیادیں  : 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم غفلت کو کفر شمار کیا کرتے۔ چنانچہ ایک طویل روایت میں   ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا سلیمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کی خدمت میں   حاضر ہو کر عرض کی: ’’ہمیں   کفر کے متعلق آگاہ فرمائیں   کہ اس کی بنا کن امور پر ہے؟ ‘‘  تو آپ نے ارشادفرمایا: ’’اس کے چار مقامات ہیں۔ یعنی شک،   جفا،   غفلت اور اندھا پن۔ ‘‘   ([1])

دل کی سماعت سے  محرومی: 

        جب دل کی غفلت بہت زیادہ ہو جائے تو بندے پر فرشتے کا الہام کم ہو جاتا ہے،   اسے  دل کی سماعت کہتے ہیں ،   کیونکہ غفلت کا طویل ہونا دل کو سننے سے  بہرہ کر دیتا ہے اور فرشتے کے کلام کو نہ سننا گناہوں   کی سزا ہے جبکہ فرشتے کابندےکوخیروبھلائی اورطاعت وعبادت پرثابت قدم رکھنااللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے وحی اوربندےپراس کےفضل و

کرم کا سبب ہے۔ کیا آپ نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ- (پ۹،  الانفال:  ۱۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جب اے محبوب تمہارا ربّ فرشتوں   کو وحی بھیجتا تھا کہ میں   تمہارے ساتھ ہوں   تم مسلمانوں   کو ثابت رکھو۔

            ایک روایت میں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام فرشتوں   کا کلام سننے سے  محروم ہو گئے تو انہیں   وحشت محسوس ہونے لگی اور انہوں  نے عرض کی: ’’اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ! میں   فرشتوں   کی باتیں   نہیں   سن پا رہا؟ ‘‘  تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: ’’ اے آدم! اس کاسبب تیری لغزش ہے۔ ‘‘   ([2])

            بندےنے جب فرشتوں   کا کلام ہی نہ سنا تو مالک عَزَّ وَجَلَّ کا کلام بھی نہ سمجھا اور جب اسنے کبھی کلام ہی نہ سنا تو اللہعَزَّ وَجَلَّکی دعوت پر لبیک بھی نہ کہا ہو گا کیونکہ پکار کا جواب پکار سننے والے ہی دیتے ہیں  ۔

            حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور بندے کے درمیان گناہوں   کے سامنے ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔ چنانچہ بندہ جب اس حد تک پہنچتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور پھر کبھی بھی اسے  خیر و بھلائی کی توفیق نہیں   دی جاتی۔ پس اے حدود سے  تجاوز کر جانے والے انسان! توبہ میں   جلدی کر اور اس حد تک پہنچنے سے  پہلے پہلے فوراً واپس لوٹ آ،   ورنہ تھکاوٹ اور مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مہر لگانے والا فرشتہ رحمن عَزَّ وَجَلَّ کے عرش کے ساتھ معلق رہتا ہے،   جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حرام کردہ اشیاءکی حرمت پامال کی جاتی ہے تواللہعَزَّ وَجَلَّدلوں   پر مہر لگانے والے اس فرشتے کو بھیجتا ہے اور وہ ان لوگوں    (کے دل کی آنکھوں  )  کو اندھا کر دیتا ہے۔ ‘‘   ([3])

            یہی وہ قفل ہے جس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس طرح فرمایا ہے:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا (۲۴)  (پ۲۶،  محمد:  ۲۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں   یا بعضے دلوں   پر ان کے قُفل لگے ہیں  ۔

قساوتِ قلبی: 

 



[1]     جمع الجوامع، مسند علی، الحدیث: ۷۳۴۳، ج۱۳، ص۳۱۱

[2]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی المناسک، حدیث الکعبۃ، الحدیث: ۳۹۸۷، ج۳، ص۴۳۴ مفھوماً

[3]     الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث: ۳۷۹۳، ج۲، ص۵۲



Total Pages: 332

Go To