Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(۴) … مذکورہ صفات میں   سے  ہر ایک صفت اوصافِ عبودیت کا مطالبہ کرتی ہے،   مثلاً خوف،   تواضع اور عاجزی۔

           (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  اس کا مفہوم وہی ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں  ،   یعنی نفس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے  پیدا تو متحرک کیا گیا مگر اسے  حکم ساکن رہنے کا دیا گیا۔ چنانچہ اب نفس کیسے  حرکت کر سکتا ہے؟ جب تک کہ مالک عَزَّ وَجَلَّ اسے  قدرت نہ دے اور اسے  سکون کی دولت بھی اسی صورت میں   نصیب ہو سکتی ہے کہ اسے  حرکت دینے والا خیر و بھلائی کے ساتھ اسے  ساکن کر دے۔

نفسانی آزمائش سے  نجات کا ذریعہ: 

            بندہ اس وقت تک اخلاص کا پیکر نہیں   بن سکتا جب تک کہ مذکورہ پہلی تینوں   صفات سے  چھٹکارا حاصل نہ کر لے اور جب چوتھی صفت ثابت ہو جائے یعنی اوصافِ عبودیت پائے جائیں   تو وہ مذکورہ صفاتِ ربوبیت کی ابتلا سے  نجات حاصل کر لیتا ہے۔       پس علمائے دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے نزدیک خدائے واحد کی بندگی بجا لانے میں   مخلص ہونا عاملین کے نزدیک معاملات میں   مخلص ہونے سے  زیادہ سخت ہے۔ اسی وجہ سے  وہ مقاماتِ قرب کی بلندیوں   پر فائز ہوئے،   یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک ایک شخص اس وقت عابد کہلاتا ہے جب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر شے سے  بری ہو جاتا ہے۔ پس یہ کیسے  ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا بھی بندہ ہو اور اس کے بندے کا بھی بندہ ہو کیونکہ جو ہستی اسے  اپنی بارگاہ کی جانب کھینچ کر لے جائے وہی اس کی معبود بھی ہو گی اور جس کے اثرات اس پر مرتب ہوں   گے وہی اس کا ربّ ہو گا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عبادت گزار بندوں   اور علمائے ربانیین کے نزدیک یہ الوہیت و ربوبیت میں   شرک ہے۔ چنانچہ یہی وہ بندہ ہے جس کی ہلاکت و بربادی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشا د فرمایا: ’’ہلاک ہو جائے درہم و دینار کا بندہ ،   ہلاک ہو جائے بیوی کا غلام اور ہلاک ہو جائے لباس  (فاخرہ)  کا بندہ۔ ‘‘    ([1])

            پس یہی وہ بندے ہیں   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے شمار میں   ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ (۹۳)  لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ (۹۴)  (پ۱۶،   مریم:  ۹۴،  ۹۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: آسمانوں   اور زمین میں   جتنے ہیں   سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں   گے۔ بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گِن رکھا ہے۔

        نفسِ اَمارہ والے لوگ  (شیطان کی)  فریب کاریوں   میں   مبتلا ہوتے ہیں   اور خواہشِ نفسانیہ کے موافق اور اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کے مخالف ہوتے ہیں   جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں   کی شان یہ ہے:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پ۱۹،  الفرقان:  ۶۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں  ۔

        قرآنِ کریم میں   ان بندوں   کی مزید شان بھی بیان کی گئی ہے یعنی وہ نفسِ مَرْحُومَہ،   مُطْمَئِنَّہ اور مَرْضِیَّہ کے مالک ہوتے ہیں  ۔ نیز رحمن عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اہلِ علم و حکمت ہیں  ،   ان کا علم،   علمِ لدنی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   اپنے لئے خاص کر رکھا ہے۔

مرتبۂ ابدال پر فائز ہونا: 

            مرید ابدال کے مرتبہ پر اس وقت ہی فائز ہو سکتا ہے جب وہ صفاتِ عبودیت کو صفاتِ ربوبیت کے ساتھ،   اخلاق و صفاتِ شیاطین کو صفاتِ مومنین کے ساتھ اور جانوروں   کی فطری خصوصیات کو اوصافِ روحانیین یعنی اذکار و علوم کے ساتھ بدل دے۔ ایسا کر لینے سے  وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   مقرب ابدالوں   میں   سے  ایک ابدال شمار ہو گا۔

نفس پر غلبہ حاصل کرنے کا طریقہ: 

           (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  اس وصف کے حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا مالک بن جائے۔ بندہ جب نفس کا مالک بننا چاہتا ہے تو اس کے لئے نفس کو مسخر کر دیا جاتا ہے اور بالآخر وہ اس پر غالب آ جاتا ہے۔ لہٰذا اگر اپنے نفس کا مالک بننا چاہتے ہیں   تو جلدی نہ کریں   بلکہ پہلے اس پر سختی کریں   اور اسے  کوئی بھی آسانی فراہم نہ کریں  ،   اگر اس طرح آپ نے اس پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو یقیناً اس پر غالب آجائیں   گے اور اگر اس پر سختی نہ کی تو وہ آپ پر غالب آ جائے گا۔ اگر کامیابی چاہتے ہیں   تو اس کی خواہشات پوری نہ کریں   بلکہ اس کا ہر طرف سے  محاسبہ کریں   کیونکہ اگر آپ نے اسے  نہ روکا تو یہ آپ کو بھی اپنے ساتھ ہی بہا لے جائے گا۔ لہٰذا اگر اس پر قدرت چاہتے ہیں   تو اس کی خواہشات کے اسباب کا خاتمہ کر کے پہلے اسے  کمزور کریں   اور اس کی شہوات کے سامان کو روک کر رکھیں   ورنہ وہ آپ پر قابو پا کر آپ کو پچھاڑ دے گا۔ نفس پر قابو پانے کا سب سے  پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہر ساعت اور ہر گھڑی اس کا محاسبہ کیا کریں   بلکہ ہر لمحہ اس کی کڑی نگرانی کریں   اور دل میں   پیدا ہونے والے ہر خیال پر عمل کرنے کے بجائے پہلے توقف کریں   اور سوچیں   کہ اگر یہ خیال اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے ہو تو اس سے  پہلے کہ یہ فوت ہو جائے اس پر فوراً عمل کر گزریں   اور اگر وہ خیال اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے نہ ہو تو فوراً اسے  دل سے  نکال دیں   تا کہ وہ پختہ نہ ہونےپائے بلکہ اس خیالِ غیر کو خیالِ یار سے  بدل دیں تا کہ وہ آپ کو نہ بدل سکے۔

عمر میں   برکت کا مفہوم: 

            ایک حدیثِ پاک کی تاویل میں   مروی ہے کہ’’نیکی عمر میں   زیادتی کا سبب ہوتی ہے۔ ‘‘   ([2]) اور لوگوں   میں   بھی عام طور پر ایک دعا مشہور ہے کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری عمر میں   برکت دے۔ ‘‘  یا پھر ’’اس کی عمر میں   برکت ہو۔ ‘‘ 

 



[1]     صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال، الحدیث: ۶۴۳۵، ص۵۴۰ دون قولہ ’’عبد الزوجۃ‘‘

[2]     سنن ابنِ ماجہ، کتاب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۹۰، ص۲۴۸۳



Total Pages: 332

Go To