Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ-  (پ۱۸،  النور:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: گندیاں   گندوں   کے لئے اور گندے گندیوں   کے لیے اور ستھریاں   ستھروں   کیلئے اور ستھرے ستھریوں   کے لئے۔

نفس کے لالچ کی مثال: 

        بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے نفس کے لالچ کو اس مکھی کی مثل قرار دیا ہے جو شہد لگی ہوئی روٹی کے پاس سے  گزرے اور سارا شہد حاصل کرنے کی خاطر اس میں   گر جائے اور اس کے پَر شہد سے  چپک جائیں   جس کے سبب وہ مر جائے۔ جبکہ ایک دوسری مکھی اسی روٹی کے پاس سے  گزرے تو شہد کے تھوڑا سا قریب جائے،   اپنی ضرورت پوری کرے اور محفوظ و سالم حالت میں   پیچھے ہٹ جائے۔

انسان ریشم کے کیڑے کی مثل ہے: 

        حکماءنے انسان کو ریشم کے کیڑے کی مثل قرار دیا ہے کیونکہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے  اپنے ہی اِرد گرد ریشم بُنتا رہتا ہے یہاں   تک کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں   بچتا،   اس طرح وہ خود کو ہی ہلاک کر ڈالتا ہے اور ریشم کسی دوسرے کا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات لوگ اسے  مار ڈالتے ہیں   یعنی جب وہ ریشم بُننے سے  فارغ ہوتا ہے اور ریشم اس کے اوپر لپٹے ہونے کی وجہ سے  جب وہ باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو لوگ اسے  دھوپ میں   ڈال دیتے ہیں   اور بسا اوقات ہاتھوں   سے  مَسل دیتے ہیں   تا کہ وہ ریشم نہ کاٹ ڈالے اور ریشم صحیح و سالم حاصل ہو سکے۔

        پس یہ ایسے  ہی ہے کہ کوئی جاہل کمانے والا ہو اور اسے  اس کا مال اور اہل و عیال ہی مار ڈالیں   اور اس کے وارث اس کے مال سے  عیش کریں   کہ جسے  کمانے کی خاطر اسنے مشقت اٹھائی تھی۔ اب اگر انہوں  نے اس مال کے سبب اطاعت کی تو اس کا اجر انہیں   ملے گا لیکن اس مال کا حساب اسی پر ہو گا اور اگر وہ اس مال کی وجہ سے  کسی نافرمانی کے مرتکب ہوئے تو وہ معصیت میں   ان کا شریک متصور ہو گا کیونکہ اسنے انہیں   یہ مال کما کر دیا ہے۔ لہٰذا اسے  نہیں   معلوم کہ دونوں   میں   سے  کون سی حسرت اس کے لئے زیادہ بڑی ہو گی: یعنی  (۱) … دوسروں   کی خاطر اپنی زندگی برباد کرنا  (۲) … یا پھر دوسروں   کے میزان میں   اپنے مال کا اجر و ثواب دیکھنا۔

نفس کے لالچ کی حکایت: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  میں  نے اپنے ایک ساتھی سے  نفس کے لالچ و حرص میں   مبتلا ہونے کے متعلق یہ حکایت سنی،   اسنے بتایا کہ ایک بزرگ ہمارے پاس تشریف لائے،   ہم نے اپنے ایک پڑوسی سے  ایک بھنا ہوا اونٹ خریدا اور اپنے ساتھیوں   کے ہمراہ ان کی دعوت کی۔ جب انہوں  نے اپنا ہاتھ کھانے کے لئے بڑھایا اور ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں   رکھا تو فوراً ہی باہر پھینک دیا اور اس کے بعد کھانے سے  الگ ہوتے ہوئے کہنے لگے کہ’’ تم سب کھاؤ،   مجھے ایک ایسی تکلیف ہے جو مجھے کھانے سے  روک رہی ہے۔ ‘‘  ہم نے عرض کی:  ’’ اگر آپ نہیں   کھائیں   گے تو ہم بھی نہیں   کھائیں   گے۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’ تم بہتر جانتے ہو،   بہرحال میں   نہیں   کھاؤں   گا۔ ‘‘  اس کے بعد وہ وہاں   سے  چل دیئے اور ہم نے ان کے بغیر کھانا کھانا پسند نہ کیا۔ پھر ایک دوسرے سے  کہنے لگے کہ ہمیں   اونٹ بھوننے والے کو بلا کر اس اُونٹ کی حقیقت کے متعلق پوچھنا چاہئے،   ممکن ہے ناپسندیدگی کی کوئی وجہ ہو۔ چنانچہ ہم نے بھوننے والے کو بلایا اور اس سے  مسلسل اور بار بار پوچھتے رہے تو آخر اسنے اِقرار کرتے ہوئے بتایا: ’’یہ اُونٹ مردہ تھا اور میرا نفس اس مردہ اونٹ کو بیچ کر قیمت حاصل کرنے کے لالچ میں   مبتلا ہو گیا،   پس میں  نے اسے  بھون لیا اور اتفاق سے  تم لوگوں  نے اسے  خرید لیا۔ ‘‘ 

        یہ سن کر ہم نے وہ اونٹ ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں   کو کھلا دیا۔ پھر جب میں   کافی دنوں   کے بعد اس بزرگ سے  ملا تو عرض کی: ’’کس وجہ سے  آپ نے اُونٹ کا گوشت کھانا چھوڑا تھا اور کیا عارضہ لاحق ہوا تھا؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا: ’’20 سال تک میرے نفسنے کسی کھانے کا لالچ نہ کیا لیکن جب تم لوگوں  نے کھانا پیش کیا تو میرا نفس اس کھانے کی ایسی حرص میں   مبتلا ہو گیا کہ اس سے  پہلے کبھی اُسنے ایسا نہ کیا تھا۔ چنانچہ میں  نے جان لیا کہ کھانے میں   کچھ خرابی ہے،   لہٰذا میں  نے نفس کے حرص کی وجہ سے  کھانا چھوڑ دیا۔  ‘‘  

          اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے،   ذرا دیکھیں   تو سہی کہ کس طرح دو قسم کے لوگ نفوس کے لالچ میں   شریک ہوئے

یعنی دونوں   کا مقصود ایک ہی تھا مگر توفیق و تذلیل میں   دونوں   مختلف تھے۔ عالم اپنے ورع و تقویٰ اور محاسبۂ نفس کے سبب مردار کھانے سے  محفوظ رہا اور جاہل یعنی اونٹ بیچنے والےنے نفسانی حرص کی موجودگی میں   حرص کے سبب تقویٰ و محاسبۂ نفس نظر انداز کر دیا اور اس بات کو بھی پیشِ نظر نہ رکھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  دیکھ رہا ہے اور باقی لوگ حسنِ ادب کے باعث بچ گئے۔ یعنی جب ان کے رفیقنے کھانے سے  ہاتھ کھینچا تو انہوں  نے بھی نفسانی حرص کو ختم کر دیا اور پھر بیچنے والےنے خریدار کی سچائی اور حسنِ نیت کی وجہ سے  آخر کار حقیقت بتا دی۔

نفس کی فطری و جِبلّی چار صفات: 

        نفس کی فطری و جبلی چار صفات ہیں  ،   جو نفسانی خواہشات کی اصل اور ان فطری امور کا تقاضا کرنے والی ہیں   جن پر ربّ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  پیدا کیا ہے:  (۱) … ان میں   سب سے  پہلی صفت ضعف و کمزوری ہے،   جو خشک مٹی جیسی فطرت کی متقاضی ہے  (۲) … بخل،   یہ نرم مٹی جیسی فطرت کا تقاضا کرتا ہے  (۳) … شہوت،   اس کا موجب کیچڑ ہے اور  (۴) … جہالت،   اس کا موجب بجتی و کھنکتی ہوئی مٹی ہے۔

آزمائش میں   مبتلا کرنے والی چار صفات: 

            نفس چار اوصاف کی وجہ سے  ابتلا و آزمائش کا شکار ہوتا ہے: 

 (۱) … سب سے  پہلا وصف صفاتِ ربوبیت کے معانی سے  متعلق ہے یعنی کبر،   جبر،   مدح کی محبت،   عزت اور غنا۔

 (۲) … پھر اخلاقِ شیاطین کی آزمائش کاشکار ہونا یعنی دھوکا،   حیلہ،   حسد اور بد گمانی جیسی صفات سے  متصف ہونا۔

 (۳) … نفس کا جانوروں   جیسی فطری ضروریات سے  آزمایا جانا یعنی کھانے پینے اور جماع وغیرہ کی محبت کا ہونا۔

 



Total Pages: 332

Go To