Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے؟ حالانکہ آپسے  ہی سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان مروی ہے کہ’’تم میں   سے  کوئی بھی اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے  اٹھا کر خود اس جگہ نہ بیٹھے،   بلکہ وسعت اور کشادگی اختیار کر لیا کرو۔‘‘  ([1])

سب سے  پہلی بدعت: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی نمازِ جمعہ کے لیے جلد جانے کے متعلق اسلاف کے حوالے سے  بیان فرماتے ہیں   کہ بعض بزرگ تو نمازِ جمعہ کے لئے شبِ جمعہ جامع مسجد میں   بسر کیا کرتے اور کچھ تو ایسے  بھی تھے جوہفتے کی رات بھی جامع مسجد ہی میں   بسر کیا کرتے تا کہ جمعہ کی مزید برکتیں   بھی نصیب ہوں  ۔ اکثر اسلاف جمعہ کے دن نمازِ فجر جامع مسجد میں   ادا کرتے اور پھر وہیں   بیٹھ کر نمازِ جمعہ کا انتظار کرتے رہتے تا کہ جلدی آنے کے سبب پہلی ساعت پانے کا اجر و ثواب حاصل کر سکیں   اور اس لئے بھی کہ قرآنِ کریم ختم کر سکیں  ۔ جبکہ عوام الناس اپنے محلے کی مساجد میں   نمازِ فجر ادا کرتے اور پھر جامع مساجد کا رخ کرتے۔ چنانچہ،   منقول ہے کہ سب سے  پہلی بدعت اسلام میں   یہ پیدا ہوئی کہ جامع مسجد میں   جلدی جانا چھوڑ دیا گیا۔

کیا آپ کو حیا نہیں   آتی؟

مزید فرماتے ہیں   کہ ہم جمعہ کے دن سحری کے وقت اور نمازِ فجر کے بعد دیکھا کرتے تھے کہ تمام راستے لوگوں   سے  بھرے پڑے ہیں   جو گلیوں   میں   پیدل چل رہے ہوتے اور جامع مسجد کی جانب جانے والے راستوں   میں   اچھی خاصی بھیڑ ہوتی جیسا کہ آج کل عید کے دنوں   میں   ہوتا ہے،   یہاں   تک کہ یہ عمل کم ہوتا گیا اور جیسے  لوگ اسے  جانتے ہی نہ ہوں   اور پھر اسے  مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا۔ کیا آپ کو اس بات سے  حیا نہیں   آتی کہ ذمی لوگ آپ کے جامع مسجد جانے سے  پہلے صبح سویرے اپنے عبادت خانوں   کا رخ کرتے ہیں  ؟ اور کیا آپ جامع مسجد کے ساتھ موجود کھلی جگہوں   میں   چیزیں   بیچنے والے تاجروں   کو ملاحظہ نہیں   فرماتے کہ وہ دنیا کمانے کی خاطر صبح سویرے ان میدانوں   کا رخ کرتے ہیں   اور لوگوں   کے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب جانے اور آخرت کا سرمایہ اکٹھا کرنے کی خاطر جانے سے  پہلے وہ وہاں   پہنچ جاتے ہیں  ؟ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ نمازی ایسے  لوگوں   سے  قبل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضر ہونے میں   سبقت لے جائے اور جلدی کرے۔  ([2])

٭ آپ وقت کے قدردان تھے: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی زندگی کا ہر ہر لمحہ یادِ الٰہی میں   بسر ہوتا،   آپ کا تعلق صوفیہ کے جس مکتبہ فکر سے  تھا گویا کہ وہ یادِ الٰہی سے  غفلت میں   لی جانے والی سانس کو سانس ہی شمار نہ کرتے۔ جیسا کہ تصوف کے اسالیب میں   حضرت سیِّدُنا سہل بن عبد اللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے ایک مرید کا واقعہ بیان ہو چکا ہے کہ کثرتِ یادِ الٰہی کی وجہ سے  اس کے خون کا ہر ہر قطرہ اللہ اللہ پکارنے لگا تھا۔ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی میں   بھی چونکہ اپنے مرشد حضرت سیِّدُنا شیخ سہل بن عبد اللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی تربیت کی جھلک موجود تھی جس کی وجہ سے  آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نہ صرف دن رات کو اپنے اوراد و وظائف وغیرہ کے لیے مختص کر رکھا تھا بلکہ راہِ سلوک پر چلنے والوں   کو بھی وقت کی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے تھے۔ قوت القلوب میں   کئی مقامات پر اس کی مثالیں   موجود ہیں  ۔ چنانچہ،   

ایک مقام پر فرماتے ہیں  : اہلِ مراقبہ میں   سے  کسی کے مشاہدہ کی ابتدا یہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی طور پر جان لے کہ کسی بھی وقت میں   اگرچہ وہ وقت کتنا ہی مختصر کیوں   نہ ہو،   تین باتوں سے  خالی نہ ہو:

 (۱) … اس وقت میں   اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی فرض لازم ہو گا،   جس کی دو صورتیں   ہیں  : وہ امر ایسا ہو گا جس کے بجا لانے یا چھوڑ دینے کا اسے  حکم دیا گیا ہو گا۔ اسے  منہیات سے  اجتناب کرنا بھی کہتے ہیں  ۔

 (۲) … وہ وقت کسی مستحب کام کی ادائیگی میں   بسر کر دے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب کا باعث بننے والے خیرو بھلائی کے کسی امر کی ادائیگی میں   سبقت لے جائے اور نیکی کا کام وقت ختم ہونے سے  پہلے پہلے فوراً ادا کر لے۔

 (۳) … وہ اس وقت میں   کوئی ایسا مباح کام سر انجام دے جس میں   جسم اور دل دونوں   کا فائدہ ہو۔

مومن کے لئے ان مذکورہ اوقات کے علاوہ کوئی چوتھا وقت نہیں  ،   اگر اسنے کوئی چوتھا وقت نکالا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدود سے  تجاوز کرنے والا شمار ہو گا اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدود سے  تجاوز کرتا ہے وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرنے والا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین میں   نئی راہیں   پیدا کرنے والا شمار ہو گا اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین میں   نئی باتیں   پیدا کرے وہ متقین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلنے والا ہے۔ ([3])

٭   آپ کا زُہد:

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی چونکہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے واسطہ سے  حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے اسلوبِ طریقت سے  وابستہ تھے،   جس کا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قوت القلوب میں   کئی مقامات پر اظہار بھی فرمایا ہے۔ چنانچہ،   

ایک مقام پر حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا قول کچھ یوں   نقل فرماتے ہیں  :

 



[1]     صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحریم اقامۃ الانسان   الخ، الحدیث: ۵۶۸۴۵۶۸۶، ص۱۰۶۵

[2]     قوت القلوب، الفصل الحادی و العشرون، ج ۱، ص۱۲۷

[3]     قوت القلوب، الفصل السادس و العشرون، ج ۱، ص۱۵۹



Total Pages: 332

Go To