Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں   مبتلا کر کے آزمائے جانے سے  زیادہ پسند ہے۔ ‘‘  اس عارف سے  اس کی وجہ پوچھی گئی تو اسنے بتایا: اس لئے کہ معصیت میں   میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی مخالفت و ناراضی ہے جبکہ آگ میں   اس کی قدرت اور انتقام کا اظہار پایا جاتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی مجھ پر بہت بھاری ہے اور میرے عذاب میں   مبتلا ہونے سے  عظیم تر ہے۔         اسی قسم کا ایک قول اہلِ یقین میں   سے  کسی سے  مروی ہے،   وہ فرماتے ہیں   کہ میرا دو رکعت نماز ادا کرنا مجھے جنت میں   داخل ہونے سے  زیادہ محبوب ہے۔ ان سے  وجہ پوچھی گئی تو انہوں  نے بتایا:  ’’دو رکعت نماز کی ادائیگی میں   میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا اور محبت ہے جبکہ جنت کے حصول میں   میری رضا اور خواہش ہے،   پس میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی رضا مجھے اپنی پسندیدہ شے سے  بڑھ کر محبوب ہے۔ ‘‘ 

        حضرت سیِّدُنا وُہیب بن وَرْد مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے متعلق مروی ہے کہ آپسے  دودھ پینے کا کہا گیا مگر آپ نے نہ پیا کیونکہ جب آپ کو دودھ کی اصل معلوم ہوئی  (یعنی جہاں   سے  حاصل ہوتا ہے)  تو آپ نے دودھ پینا اچھا خیال نہ کیا تو آپ کی والدہ ماجدہنے ان سے  فرمایا: ’’پی لو مجھے امید ہے کہ اگر تم اسے  پی لو گے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری مغفرت فرما دے گا۔ ‘‘  تو آپ نے عرض کی:  ’’ میں   اس شے کو پینا پسند نہیں   کرتا جس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّمیری مغفرت فرمائے۔ ‘‘  والدہ ماجدہنے پوچھا: ’’وہ کیوں  ؟ ‘‘  تو آپ نے عرض کی: ’’میں   نہیں   چاہتاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معصیت میں   مبتلا ہو کر اس سے  مغفرت طلب کروں  ۔ ‘‘

جملہ اوصافِ نفس کی اَصل: 

        نفس کے تمام اوصاف میں   دو مفہوم پائے جاتے ہیں  : غصہ اور لالچ۔ غصہ،   جہالت سے  پیدا ہوتا ہے اور لالچ،   حرص کی پیداوار ہے۔ یہ دونوں   نفس کی فطرت میں   شامل ہیں  ۔ حالتِ غضب میں   نفس ہموار زمین پر پڑے ہوئے اخروٹ یا گیند کی مثل ہوتا ہے،   اگر آپ اسے  تھوڑی سی حرکت دیں   تو وہ حرکت کرنے لگتا ہے کیونکہ اس کا وزن کم ہوتا ہے اور اس کی فطرت میں   گھوم جانا شامل ہے۔ نفس کی حرص کے سبب پیدا ہونے والے لالچ کی مثال آگ میں   گر جانے والے پروانے و پتنگے جیسی ہے۔ جس کا سبب اس کا جاہل ہونا اور اس بات کا حریص ہونا ہے کہ وہ اپنی جہالت کے سبب روشنی حاصل کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس میں   اس کی ہلاکت ہے۔جب تمہیں   کوئی شے ملے اور نفس کے لالچ کی وجہ سے  اس شے کی تھوڑی مقدار پر قناعت نہ کر سکو بلکہ مزید کی حرص رکھو اور مزید روشنی طلب کرو جبکہ وہ شے نفسِ چراغ ہو تو جل جاؤ گے۔ اگر دور ہی سے  تھوڑی سی روشنی پر قناعت کر لو گے تو محفوظ رہو گے۔ حالتِ غضب میں   نفس کی کیفیت عجلت سے  پیدا ہوتی ہے اور لالچ میں نفس کی کیفیت طمع وحرص سے  پیدا ہوتی ہے۔

مقام فکر: 

            معصیت دنیا کی آبادی کا سبب ہے اور طاعت آخرت کی آبادی کا۔ چنانچہ منقول ہے کہ دنیا کی محبت ہر غلطی و کوتاہی کی اور زہد ہر طاعت کی اصل ہے۔  ([1])

            غور کریں   کہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی ایک لغزش کی وجہ سے  جنت سے  نکالا گیا اور تم ہو کہ اس میں   داخل ہونا چاہتے ہو جبکہ تم بہت زیادہ گناہوں   کی وجہ سے  اس کی جانب دیکھنے تک کی طاقت نہیں   رکھتے۔ چنانچہ،   

            ایک روایت میں   ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ایمان بے لباس ہے،   اس کا لباس تقویٰ،   اس کی زینت حیا اور اس کا ثمرہ علم ہے۔   ‘‘  الفردوس بماثور الخطاب،   الحدیث:  ۳۸۰،   ج۱،   ص۷۲

            اسی وجہ سے  منقول ہے کہ’’جنت پاکیزہ ہے اور پاک افراد کے علاوہ اس میں   کوئی نہیں   رہے گا،   پس جب تم پاک ہو جاؤ گے تو اس میں   داخل بھی ہو جاؤ گے۔ ‘‘  کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ طَیِّبِیْنَۙ-یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُۙ- (پ۱۴،  النحل:  ۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جن کی جان نکالتے ہیں   فرشتے ستھرے پن میں   یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر۔

            مزید ارشاد فرمایا:

وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ (۷۳)  (پ۲۴،  الزمر:  ۷۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کے داروغہ ان سے  کہیں   گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنّت میں   جاؤ ہمیشہ رہنے۔

            کیونکہ اس کا فرمان ہے: 

وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ-  (پ۱۰،  التوبۃ:  ۷۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور پاکیزہ مکانوں   کا بسنے کے باغوں   میں  ۔

                                                 چونکہ گناہ ناپاک ہوتے ہیں   اس لئے فرمایا:

وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ  (پ۹،  الاعراف:  ۱۵۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور گندی چیزیں   اُن پر حرام کرے گا۔

            پس جب ان گناہوں   سے  پاک ہو جاؤ گے تو جنت بھی تمہارے لئے پاک ہو جائے گی اور اس مفہوم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   کتنی خوبصورتی سے  اس طرح ذکر فرمایا ہے:

 



[1]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذم الدنیا، الحدیث: ۹، ج۵، ص ۲۲



Total Pages: 332

Go To