Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توحید پر عمل کرنے والا ہے اور اسی کے سبب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کا قائل ہے اور اس کی معرفت حاصل کرنے والا ہے۔ شَاكِلَۃ سے  مراد طریقہ ہے،   یعنی مخلوق کبھی تو اس راستے پر چلتی ہے اور کبھی مشکل کا شکار ہو جاتی ہے۔

ہر عمل کا سردار: 

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ ہر مومن کے عمل کا ایک سردار یعنی خاص عمل ہوتا ہے اور یہی وہ خاص عمل ہے جس کی وجہ سے  مومن نجات کی امید رکھتا ہے اور اسی کے سبب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   فضیلت پاتا ہے۔

چار قسم کےعابد: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ کوفہ میں   چار قسم کے عبادت گزار تھے،   ان میں   سے  بعض صرف رات کو عبادت کرتے اور بعض صرف دن میں  ۔ بعض ہمیشہ چھپ کر  (نفلی)  عبادت کرتے علانیہ نہ کرتے جبکہ بعض صرف علانیہ کرتے چھپ کر نہ کرتے۔  ([1])

            بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے دن کے وقت عبادت کرنے والوں   کو رات کے وقت عبادت کرنے والوں   پر ترجیح دی اور انہیں   افضل قرار دیا کیونکہ دن میں   مجاہدۂ نفس اور اعضاء و جوارح کو روک کر رکھنا زیادہ مشکل ہے،   اس لئے کہ دن غافلوں   کے حرکت کرنے اور جاہلوں   کے ظاہر ہونے کا وقت ہے۔ پس جب بندہ غافلین کے حرکت کرنے اور جاہلین کے ظہور کے وقت ایک جگہ ٹھہر جائے تو وہ متقی و مجاہدۂ نفس کرنے والا اور صاحبِ فضل عبادت گزار شمار ہو گا۔

دن کے وقت افضل عبادت: 

            منقول ہے کہ عبادت صرف نماز روزہ کا نام ہی نہیں   بلکہ فرائض کی ادائیگی،   محرمات سے  اجتناب کرنا اور مال کماتے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  ڈرنا سب سے  افضل عبادت ہے اور یہ سب کام دن کے اعمال ہیں  ۔  ([2])         

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان بھی اس پر دلیل ہے:

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ  (پ۷،  الانعام:  ۶۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں   قبض کرتا ہے اورجانتا ہے جو کچھ دن میں   کماؤ۔

            یعنی تمہارے اعضاء جو کمائی کرتے ہیں    (اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  جانتا ہے)  اور اسنے کمائی کو دن کے ساتھ معلق کر دیا ہے،   پھر ارشاد فرمایا:

ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ (پ۷،  الانعام:  ۶۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر تمہیں   دن میں   اٹھاتا ہے۔

            جب کسی بندے کو دن کے وقت کمائی کا علم ہی نہ ہو اور نہ ہی وقتِ معصیت میں   اسے  بیدار کیا جائے تو اس سے  بڑھ کر افضل کون ہو گا؟ اور حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ رات کے قیام پر مداومت اختیار کرنا سب سے  سخت عمل ہے اور اوراد کو پابندی سے  ادا کرنا مومنین کا وصف اور عابدین کا طریقہ ہے اور یہی ایمان کی زیادتی اور یقین کی علامت ہے۔

عمل پر استقامت کے متعلق سات احادیث و آثار مبارکہ: 

 (1) … ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں   کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمل دائمی تھا اور جب بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی عمل کرتے تو بڑی عمدگی سے  ادا کرتے۔  ([3])

 (2) … جس قدر اعمال کی تم طاقت رکھتے ہو اسی قدر بجا لایا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فضل فرماتا رہتا ہے جب تک کہ تم نہ اکتا جاؤ۔  ([4])

 (3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو سب سے  زیادہ پسندیدہ و محبوب عمل وہ ہے جو پابندی سے  کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔  ([5])   (4) اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس شخص کو عبادت کا عادی بنا دے اور پھر وہ شخص سستی کی بنا پر اسے  ترک کر دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر ناراض ہو جاتا ہے۔ ([6])

 (5) … ہر وہ دن جس میں   مَیں   کوئی زائد عمل نہ کر پاؤں   تو اس دن کی صبح میں   میرے لئے کوئی برکت نہ ہو۔  ([7])

 (6) … جس کے دو دن ایک جیسے  ہوں   وہ خسارے و نقصان میں   ہے اور جس کا آج گزرے ہوئے کل سے  برا ہو تو وہ محروم ہے اور جس کے آج میں   گزشتہ کل سے  کسی عمل کی زیادتی نہ



[1]     المعرفۃ والتاریخ، لیث بن ابی سلیم، ج۳، ص۵۷

[2]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب کلام عمر بن عبدالعزیز، الحدیث: ۱، ج۸، ص۲۳۹ مختصراً

[3]     سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب ما یؤمر بہ من القصد فی الصلاۃ، الحدیث: ۱۳۶۸، ص۱۳۲۵

[4]     المرجع السابق

[5]     صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الامامۃ، باب الرخصۃ فی الاقتداء، الحدیث: ۱۶۲۶، ج۳، ص۶۱

[6]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب اسرار الصلاۃ، الباب السابع، ج۳، ص۷۶۳

[7]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۶۳۶، ج۵، ص۷۹



Total Pages: 332

Go To