Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کر لیا تھا لیکن اسے  میرے قریب لاؤ  ([1]) ۔ ‘‘  ([2])  

            سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمل وہی ہوتا جس کا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم دیا جاتا تھا اور عارفین کے اعمال اور اوراد و وظائف کا منبع سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مبارکہ ہے اور اہلِ یقین کے مشاہدے کا سرچشمہ بھی ذاتِ مصطفٰے ہی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان بندوں   کا اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے  تعلق کسی خاص وقت اور عمل کے سبب نہیں   ہوتا جیسا کہ ایک عارف سے  پوچھا گیا: ’’آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عرفان کس شے سے  حاصل کیا ہے؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا: ’’پختہ عزم و ارادے توڑ کر اور عہد و پیمان کی گرہیں   کھول کر۔ ‘‘ 

            اوراد عاملین کا طریقہ ہے اور وظائف عابدین کے احوال میں   سے  ہیں  ،   انہی کے سبب وہ  (سالکین میں  )  داخل ہوتے ہیں   اور پھر یہاں   تک رفعت حاصل کرتے ہیں   کہ خدائے وحدہٗ لا شریک کی تجلیات کا مشاہدہ کرنے لگتے ہیں  ۔  (اس وقت)  ان کا وِرْد صرف ایک ہی رہ جاتا ہے اور وہ اپنے اپنے مشاہدے کے اعتبار سے   (بارگاہِ الٰہی میں  )  کھڑے رہتے ہیں۔

بارگاہِ خداوندی تک رسائی کے راستے: 

        سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ’’مرسلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعداد کے مطابق ایمان کے 313 خُلق ہیں  ۔ ہر مومن ان میں   سے  کسی نہ کسی خلق پر ہے اور وہی خلق اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ تک پہنچانے والا راستہ اور اس کا نصیب ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ تک جانے والے ہر راستے میں   مومنین کا ایک گروہ کھڑا ہے جن میں   سے  بعض کا مقام و مرتبہ بعض سے  اعلیٰ ہے۔ ‘‘  اور ایک قول ہے کہ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ تک لے جانے والے راستوں   کی تعداد مومنین کی تعداد کے برابر ہے۔ ‘‘  اور کسی عارف کا قول ہے کہ’’ بارگاہِ خداوندی تک پہنچانے والے راستوں   کی تعداد مخلوق کی تعداد کے برابر ہے۔ ‘‘  یعنی مشاہدہ کرنے والے کے لئے ہر خلق میں   ایک راستہ ہے،   پس اس صورت میں   ساری کائنات ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ چنانچہ، 

            مروی ہے کہ محسن انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ایمان کے 333 راستے ہیں  ،   جو بھی ان میں   سے  کسی راستے کی گواہی دے کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  ملاقات کرے گا جنت میں   داخل ہو گا۔ ‘‘   ([3])

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   سب سے  مقرب: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان  (قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ-فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ (۸۴)  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۸۴)  )   ([4])   اس بات پر دلیل ہے کہ وہ سب کے سب ہدایت یافتہ ہیں  ۔ البتہ! ان میں   سے  بعض،   بعض سے  زیادہ ہدایت یافتہ ہیں  ،   اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے زیادہ قریب اور افضل ہیں   اور تحقیق قرب حاصل کرنا مستحب ہے اور اس کے طلب کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مقربین کے باہم طلبِ قرب میں   مقابلہ کرنے کو اس طرح بیان کیا ہے: 

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (پ۶،  المآئدۃ:  ۳۵)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے  ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔

            یہاں   وسیلہ سے  مراد قرب ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا:

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۵۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ مقبول بندے جنہیں   یہ کافر پوجتے ہیں   وہ آپ ہی اپنے ربّ کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں   کہ ان میں   کون زیادہ مقرب ہے۔

        پس مخلوق میں   سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب وہ ہے جس کا مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   سب سے  بلند ہے اور اس کے ہاں   سب سے  بلند مرتبہ اور فضیلت والا شخص وہ ہے جو سب سے  زیادہ اس کا عرفان رکھتا ہے۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان:  (قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ-)  کی تفسیر میں   مروی ہے کہ  (عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ)  سے  مراد  (عَلٰی وَحْدَانِیَّتِہٖ)  ہے،   یعنی عارفین میں   سے  ہر



[1]     یہ صورت پہلے کا عکس ہوئی کہ وہاں تو گھر میں کھانا نہ ہونے کی وجہ سے روزے کی نیت کرلی گئی تھی اور یہاں کھانا دیکھ کر رکھا ہوا نَفْلی روزہ توڑ دیا گیا، ہمارے امام اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مذہب یہ ہے کہ نَفْلی روزہ یا نماز، شروع کرنے سے واجب ہوجاتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ربّ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳) (پ۲۶، محمد:۳۳)اور فرماتا ہے فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَاۚ  (پ۲۷،الحدید:۲۷)یعنی اہل کتاب نے نیک اعمال شروع کیے انہیں نبھایا نہیں۔ معلوم ہوا کہ نیکی شروع کرکے پوری کرنا واجب ہے، اگر کوئی شخص نَفْلی روزہ شروع کرکے توڑ دے تو اس کی قضا واجب ہے ان دو گزشتہ آیتوں کی وجہ سے اور اس حدیث کی وجہ سے جو بروایت حضرت عائشہ صدیقہ آگے آرہی ہیں اور نَفْلی حج و عمرہ پر قیاس کی وجہ سے کہ یہ دونوں چیزیں احرام باندھتے ہی واجب ہوجاتی ہیں، کہ اگر انہیں پورا نہ کرسکے تو قضا کرنا واجب ہے۔ خیال رہے کہ نَفْلی روزہ اور نمازیں بلا عذر توڑنا ناجائز ہیں، دعوت اور مہمان کی آمد بھی عذر ہیں، یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں کہ یہاں حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ روزہ توڑنا عذراً تھا یعنی کئی روز سے کھانا ملاحظہ نہ فرمایا اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ نے اس روزے کی قضا نہ کی لہٰذا یہ حدیث نہ شافعیوں کی دلیل ہے نہ مالکیوں کی اور نہ حنفیوں کے خلاف۔ نوٹ: شوافع کے ہاں نَفْلی روزہ توڑنے سے مطلقاً قضا واجب نہیں اور مالکیوں کے ہاں اگر بلا عذر توڑا ہو تو قضا واجب ہے، ہمارے ہاں مطلقاً قضا واجب۔ (مراٰۃ المناجیح، ج۳، ص۱۹۷، ۱۹۸)

[2]     صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب جواز صوم النافلۃ الخ، الحدیث: ۲۷۱۵، ص۸۶۳

[3]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۳۱۰، ج۵، ص۲۷۴ بتغیر قلیل

[4]     ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ سب اپنے کینڈے (انداز) پر کام کرتے ہیں تو تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے۔



Total Pages: 332

Go To