Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے جیسا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حالتِ بیداری میں   کرتے ہیں  ،   پس عارف کی نیند بھی بیداری شمار ہوتی ہے کیونکہ اس کا دل زندہ ہوتا ہے جبکہ غافل کی

 

بیداری بھی نیند شمار ہوتی ہے کیونکہ اس کا دل مردہ ہوتا ہے۔ چنانچہ عالم کی نیند جاہل کی بیداری کے برابر ہے اور غافل و جاہل کی بیداری عالم کی نیند کے قریب ہے۔

جبلِ اُحد سے  زیادہ وزنی اعمال: 

        حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جبلِ اُحد کی جانب دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’یہ جبلِ اُحد ہے،   مخلوق اس کا وزن نہیں   جانتی،   مگر میرے بعض امتی ایسے  ہیں   کہ ان کی تسبیح و تہلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اس سے  بھی زیادہ وزنی ہے۔ ‘‘ 

زمین و آسمان کی ہر شے سے  وزنی عمل: 

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ انہوں  نے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  عرض کی: ’’میں   اس بات کا انکار نہیں   کرتا کہ کسی بندے کا عمل ایک ہی دن میں   آسمانوں   اور زمین میں   موجود ہر شے سے  بھاری ہو سکتا ہے۔ ‘‘  اس کے بعد انہوں  نے اس شخص کے اوصاف بیان کئے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ عقل رکھتا ہے اور صاحبِ یقین ہونے کے ساتھ ساتھ عالم باللّٰہ بھی ہے۔

سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ  وَسَلَّم کے معمولات:

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان فرماتی ہیں   کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رمضان المبارک کو دوسرے مہینوں   کے مقابلہ میں   کسی شے سے  خاص کرتے نہ اس میں   سال کے دوسرے مہینوں   کی بہ نسبت کسی شے کی زیادتی فرماتے۔ ([1])

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رات کے وقت سویا ہوا دیکھنا چاہتے تو دیکھ سکتے تھے اور اگر یہ چاہتے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حالتِ قیام میں   دیکھو تب بھی دیکھ سکتے تھے۔ ([2])

سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام فرماتے اور پھر جس قدر آرام فرماتے اسی قدر قیام کرتے،   اس کے بعد پھر بقدرِ قیام سو جاتے،   پھر سونے کی مقدار قیام فرما کر دوبارہ آرام فرماتے اور اس کے بعد اٹھ کر نمازِ فجر کے لئے جاتے۔  ([3])

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رمضان المبارک کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ روزے نہیں   رکھے اور نہ ہی رات کا کچھ حصہ آرام کئے بغیر صبح تک پوری رات قیام فرمایا۔  ([4])  

            ایک روایت میں   ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر مہینے روزے رکھتے بھی تھے اور نہیں   بھی رکھتے تھے اور رات کے وقت قیام بھی فرماتے اور آرام بھی۔  ([5])  اور ایک روایت میں   ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسلسل روزے رکھتے یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتیں   کہ اب روزہ نہ چھوڑیں   گے اور پھر لگاتار روزے رکھنا چھوڑ دیتے یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتیں   کہ اب روزے نہیں   رکھیں   گے۔ ([6])

            بعض اوقات صبح کے وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزے سے  ہوتے مگر پھر افطار کر دیتے اور بعض اوقات صبح کے وقت افطار سے  ہوتے مگر بعد میں   روزہ رکھ لیتے۔ چنانچہ، 

            مروی ہے کہ سرکارِ دوجہاں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض اوقات چاشت کے وقت تشریف لاتے اور دریافت فرماتے کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟  ([7]) پس اگر کوئی شے پیش کی جاتی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تناول فرما لیتے ورنہ ارشاد فرماتے: ’’میں   روزہ دار ہوں  ۔ ‘‘   ([8]) اور ایک دن باہر تشریف لے گئے تو فرمایا میں   روزے سے  ہوں   اور جب واپس تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہمیں حیس بطورِ ہدیہ آیا ہے۔ ‘‘   ([9]) تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میں  نے تو آج روزے کا ارادہ



[1]     صحیح البخاری، کتاب التھجد، باب قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیل فی رمضان، الحدیث: ۱۱۴۷، ص۸۹ مفھوماً

[2]     المرجع السابق، باب قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیل من نومہ، الحدیث: ۱۱۴۱

[3]     المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ام سلمۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۲۶۶۲۶، ج۱۰، ص۱۹۰ مفھوماً

[4]     مسند ابی داود الطیالسی، سعد بن ھشام عن عائشۃ، الحدیث: ۱۴۹۷، ص۲۰۹

[5]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۰۱۲، ج۴، ص۲۰۸ مفھوماً

[6]     جامع الترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی سرد الصوم، الحدیث: ۷۶۹، ص۱۷۲۳ مفھوماً

[7]     مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ سوال تمام ازواج پاک سے تھا اور یہ جواب بھی سب کی طرف سے ہوا، یعنی نو ازواج میں سے کسی کے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں، جو مالکِ کونین ہے ان کے اپنے گھر کا یہ حال ہے ۔ شعر۔؎

مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں                   دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

                حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فقر و فاقہ اختیاری ہے، فرماتے ہیں اگر میں چاہوں ، تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں۔

[8]     یعنی چونکہ آج گھر میں کچھ کھانے کو نہیں لہٰذا ہم اب اس وقت سے روزہ نَفْلی کی نیت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نَفْلی روزے کی نیت ضحویٰ کبریٰ یعنی نصف نہار شرعی سے پہلے پہلے ہوسکتی ہے، رات سے ہونا ضروری نہیں۔

[9]     یعنی کسی شخص نے کھجور کا حلوہ بطور ہدیہ بھیجا ہے حضور ملاحظہ فرمائیں، عربی میں حیس کے معنی ہیں خلط یا مخلوط چیز ، اصطلاح میں یہ ایک حلوہ ہے جو مکھن پنیر کھجو ر سے یا آٹے، مکھن اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے، حریسہ ا س سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔



Total Pages: 332

Go To