Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کمزور ہو جائے۔

عام سالک اور عارف کے حال میں   تغیر: 

        عام سالکین کے احوال میں   تغیر و تبدّل دو صورتوں   میں   ہوتا ہے:  ٭… اگر خالق عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے حصول میں   ان پر مشکلات آئیں   تو بارگاہِ خداوندی سے  راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں   اور٭… جب مخلوق سے  آسانیاں   میسر آئیں   تو اسی سے  راحت پاتے ہیں  ۔ اے کاش! ان کا اپنے خالق سے  قرب دائمی ہوتا تو ان کی راحت بھی دائمی ہو جاتی اور اسی طرح اگر وہ مشاہدۂ حق پر استقامت اختیار کرتے تو پھر اس کے سوا کسی شے کی جانب کبھی نہ دیکھتے۔

            البتہ! عارفین کے قلوب انہی کی جانب متوجہ ہوتے ہیں   اور بکھرے خیالات بھی ان کی خاطر مجتمع ہو جاتے ہیں  ،   انہیں   اپنی بارگاہ میں   قیام کی قوت دینے والے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   مشاہدہ کی دولت سے  بھی سرفراز کر رکھا ہوتا ہے،   ان کے لئے ہر شے میں   زیادتی ہے،   ہر شے میں   انہیں   وحدانیت کی تجلیاں   نظر آتی ہیں  ،   ان کے دل میں   پیدا ہونے والا ہر خیال انہیں   بارگاہِ ربوبیت کی جانب لے جاتا ہے اور ہر ظاہر اور قابلِ نظر شے اسی کے وجود پر دلالت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ الغرض! ہر نظر و حرکت انہیں   اس کی بارگاہ تک لے جانے کا راستہ دکھاتی ہے۔ پس ان کی توحید زیادتی و ترقی میں   اور ان کا یقین اس تجدید و تازگی میں   ہے کہ جس میں   کوئی تغیر نہیں  ،   وہ سیراب ہوتے ہیں   نہ کہیں   وقوف کرتے ہیں   اور نہ ہی ان کی کوئی حد ہے۔ بعض اوقات ان میں   سے  کوئی اسباب کو سبب بناتا ہے تو ربُّ الارباب عَزَّ وَجَلَّ اس کی خواہش کی وجہ سے  تمام اسباب مجتمع فرما دیتا ہے۔

            یہ عارفین کے ایسے  مقامات ہیں   جنہیں   ان کے سوا کوئی نہیں   جانتا اور جو صرف ان کے لئے ہی مناسب و زیبا بھیہیں  ،   ان مقامات پر کسی دوسرے مقام کو قیاس کیا جا سکتا ہے نہ اس بات کا دعویٰ و انتظار کیا جا سکتا ہے کہ ان کی خاطر اوراد چھوڑ دیئے جائیں   اور نہ ہی ان کی خاطر اجتہاد و کوشش میں   کمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پس عارفین ہی ہیں   جو ان مقامات کی مراد ہیں   اور ان کے اہل ہیں  ،   وہی ان کا علم رکھنے کی وجہ سے  ان کی طرف متوجہ رہتے ہیں  ،   انہیں   ہی ان مقامات کی جانب جانے والے راستے پر چلایا جاتا ہے اور انہی کا یہ زادِ راہ ہیں  ۔ نیز یہ مقامات انہی کے ساتھ مقید و مخصوص ہیں   اور وہی ان کی جانب پیش قدمی کرنے میں   سبقت لے جانے والے ہیں  ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہی حقیقت میں   اس کے عبادت گزار ہوتے ہیں   اس حال میں   کہ وہ اپنے دلوں   سے  اس کی عبادت میں   مشغول رہتے ہیں   اور اپنی نگاہوں   کو اپنے معبودِ برحق کی جانب لگائے رکھتے ہیں  ،   جس کے سبب وہ عطا کردہ خطاب کی وضاحت سمجھ جاتے ہیں   اور انہیں   اس بات کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے کہ اس کا حکم ہی کتاب کا حکم ہے،   کیونکہ اس کا فرمان ہے:

وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًاؕ- (پ۱۶،  طہ:  ۹۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے اُس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے  (پوجا کیلئے بیٹھا)  رہا۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مذکورہ فرمان غافلین کے متعلق اپنے اس ارشاد کے بعد ذکر فرمایا کہ وہ کہا کرتے ہیں  :

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ (۷۱)  (پ۱۹،  الشعرآء:  ۷۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بولے ہم بتوں   کو پوجتے ہیں   پھر ان کے سامنے آسن مارے  (پوجا کیلئے جم کر بیٹھے)  رہتے ہیں  ۔

        اس کے ساتھ ساتھ انہیں   ارشاد فرمایا:

اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ ۚۖ-اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ (۶)  (پ۲۳،  ص:  ۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس کے پاس سے  چل دو اور اپنے خداؤں   پر صابر رہو بیشک اس میں   اس کا کوئی مطلب ہے۔

            یہاں   تک کہ ارشاد فرمایا:

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا (پ۲۷،  الطور:  ۴۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اے محبوب تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں   ہو۔

عارفین کی عبادت: 

        عارفین نے اس بات کو جان لیا کہ جس اخلاص کا انہیں   حکم دیا گیا ہے اس سے  مراد عبادت ہے اور کوئی بھی عبادت خواہشِ نفسانیہ سے  اجتناب کئے بغیر کامل نہیں   ہو سکتی،   اس کے بعد پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی جانب رجوع اور توبہ کرنا چاہئے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا:

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰىۚ- (پ۲۳،  الزمر:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہ جو بتوں   کی پوجا سے  بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں   کے لئے خوشخبری ہے ۔

                                                پس انہیں   یقین ہو گیا کہ نماز دین کا ستون ہے اور نماز تو ہے ہی صرف متقین کی اور چونکہ تقویٰ کا حصول بغیر انابت و توبہ کے ممکن نہیں   ہوتا۔ لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ (پ۲۱،  الروم:  ۳۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اسکی طرف رجوع لاتے ہوئے اور اس سے  ڈرو۔

            اس کے بعد ارشاد فرمایا:

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ (۳۱)  (پ۲۱،  الروم:  ۳۱)

 



Total Pages: 332

Go To