Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

٭روشن ضمیر نانبائی ٭

حضرتِ سیِّدُنا سَہل بن عبداللہ تُستَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ایک موقع پر فرمایا کہ بصرہ کا فُلاں نانبائی  (یعنی روٹیاں پکانے والا)  ولیُّ اللہ ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک مُرید شوقِ دیدار میں بصرہ پہنچا اور ڈھونڈتا ہوا اُس نانبائی کی خدمت میں حاضِر ہوگیا،   وہ اُس وقت روٹیاں پکا رہے تھے  (پہلے عُمُوماً سبھی مسلمان داڑھی رکھتے تھے لہٰذا اس دور کے نانبائیوں کے دستور کے مطابِق)  داڑھی کے بالوں کی جلنے سے  حفاظت کی خاطِر مُنہ کے نچلے حصّے پر نِقاب پہن رکھا تھا۔ اُس مُرید نے دل میں کہا: اگر یہ وَلی ہوتا تو نِقاب نہ بھی پہنتا تو اس کے بال نہ جلتے۔ اِس کے بعد اُس نے نانبائی کو سلام کیا اور گفتُگو کرنا چاہی تو اُس روشن ضمیر نانبائی نے سلام کا جواب دیکر فرمایا: تو نے مجھے حقیر تصوُّر کیا اِس لئے میری باتوں سے  نَفع نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ کہنے کےبعد انہوں نے گُفتُگُو کرنے سے  انکار فرما دیا۔  (الرِّسالۃُ القُشَیرِیّہ،   ص۳۶۳)

فصل:  24

وِرْدِ سالکین کی کیفیت اورحالِ عارفین کے اوصاف کا بیان

وِرد کی تعریف: 

        وِرْد رات یا دن کے ایک خاص وقت کا نام ہے جو بندے پر بار بار آتا ہے اور بندہ اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قربت و عبادت میں   بسر کر دیتا ہے اور اس وقت جو بھی پسندیدہ و محبوب اعمال بجا لائے گا آخرت میں   اس پر وارِد ہوں   گے۔

            عبادت چونکہ دو میں   سے  ایک امر کا نام ہے یعنی بندے پر اس امر کا ادا کرنا فرض ہو گا یا نَفْل کہ جس کی ادائیگی مستحب ہو گی۔ پس بندہ جب دن یا رات میں   کوئی بھی عبادت کرے،   پھر اس پر ہمیشگی اختیار کرے تو اس کا یہ فعل ایک ایسا وِرْد شمار ہوتا ہے جسے  اسنے آگے بھیج دیا ہے اور جب اگلا دن یعنی کل آئے گا تو وہ پھر آ جائے گا۔

وِرد کی کیفیت و ماہیت: 

            سب سے  آسان وِرْد چار رکعت نَفْل ادا کرنا یا مثانی میں   سے  کسی سورت کی تلاوت کرنا یا نیکی و تقویٰ کے کسی کام پر معاونت و مدد کی کوشش کرنا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا انس بن سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْمُبِیْن کے ہر رات سات قسم کے اوراد تھے،   جب ان میں   سے  کوئی رہ جاتا تو دن کے وقت اس کی قضا کر لیتے ([1])  اور اس طرح کے مقررہ وقت پر ادا کئے جانے والے عمل کو وِرْد کہا جانے لگا۔

            حضرت سیِّدُنا معتمر بن سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَنَّان فرماتے ہیں   کہ میں   موت کے وقت اپنے والدِ محترم کو تلقین کرنے لگا تو انہوں  نے اپنے ہاتھ سے  مجھے اشارہ کیا کہ مجھے  (تلقین مت کرو اور)  ایسے  ہی رہنے دو کیونکہ میں   اپنے چوتھے وِرْد میں   مشغول ہوں  ۔ ([2])

        قرآنِ کریم کے احزاب  (یعنی سات منزلوں  )  میں   سے  ہر ایک حزب کو مخصوص وقت پر تلاوت کیا جائے تو اس کو بھی وِرْد کا نام دیا جاتا ہے۔ بعض عاملین و سالکین نے قرآنِ کریم کے پاروں   کو اپنا وِرْد بنا رکھا تھا اور بعض نے رکوع شمار کئے ہوئے تھے۔

            عام سالکین سے  علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا مرتبہ اعلیٰ ہے جنہوں  نے رات اور دن کے مختلف اوقات کو وِرْد بنا رکھا ہے،   اگر ان میں   سے  کسینے کسی وقت میں   ایک آیت کی تلاوت کی یا ایک رکعت ادا کی یا  (کسی شرعی مسئلہ کے حل میں  )  سوچ وبچار کرتے ہوئے یا مشاہدہ میں   کچھ وقت صرف کیا تو وہی وقت اس کا وِرْد بن گیا۔

عارفین کے اوراد کی کیفیت: 

        عارفین نے اپنے اوراد کے لئے وقت مقرر کر رکھے ہیں   نہ اپنے اوقات کی تقسیم کر رکھی ہے بلکہ انہوں  نے تو تمام اوقات کو اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے حصول کے لئے ایک ہی وِرْد بنا رکھا ہے اور وہ تو اپنی دنیاوی حاجات بھی بقدرِ ضرورت ہی پوری کرتے ہیں   اور تمام وقت کو اپنے آقا و مولا عَزَّ وَجَلَّ کے لئے یکساں   و برابر خیال کرتے ہیں   اور اپنے مصالح کے لئے درپیش وقت کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا میں   صرف کر دیتے ہیں  ۔ انہوں  نے اپنی گردنیں   عبودیت کی غلامی میں   دے رکھی ہیں   اور اپنے قدموں   کو خدمت و عبادت بجا لانے والوں   کی صفوں   میں   کھڑا کر رکھا ہے۔ پس وہ ہر لمحہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی بجا آوری اور ان اوصاف سے  متصف ہونے میں   لگے رہتے ہیں   جن سے  متصف ہونے کا ان سے  مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہی ان کا وِرْد ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   منتخب فرمایا ہے اور انہیں   اس شرفِ ولایت سے  نوازا ہے کہ وہ انہیں   ان کے نفوس کے حوالے و سپرد نہیں   کرے گا اور نہ ہی کسی دوسرے کو ان کا والی بنائے گابلکہ وہ خود صالحین کو اپنا ولی و دوست رکھتا ہے۔

            ان کا مشاہدہ ہی ان کا ذکر اور حبیب کا قرب ہی ان کی محبت ہے،   وہ اپنے محبوب کے علاوہ کسی شے کی فضیلت نہیں   دیکھتے بلکہ نیکی کے کاموں   کے علاوہ کسی کام میں   قربت کی امید ہی نہیں   رکھتے۔ اسی کی مدد سے  اس کا قرب چاہتے ہیں  ،   اُس کی وجہ سے  ہی اُس کی تسبیح بیان کرتے ہیں   اور اسی کی خاطر اس پر بھروسا رکھتے ہیں   اور اس سے  اسی کے سبب ڈرتے ہیں   اور صرف اسی سے  محبت کرتے ہیں  ۔ چنانچہ عارفین اگر توحید سے  متعلق اعمال کے علاوہ باقی کوئی عمل نہ کریں   تب بھی ان کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کا قائل ہونے میں   ذرہ برابر کمی نہ ہو گی اور اگر وہ سالکین کے تمام اوراد چھوڑ دیں    (اور کسی پر عمل نہ کریں )  تب بھی ان کے دلوں   میں   قساوت کا اثر پیدا ہو گا نہ ہی قرب سے  دوری کا کوئی خدشہ لاحق ہو گا کیونکہ ان  (کے مقام و مرتبہ)  میں   کمی بیشی اعمال کے سبب نہیں   ہوتی اور نہ ہی وہ کمی وبیشی جاننے کی غرض سے  اپنے قلوب اور احوال کی جانچ پڑتال اوراد کے ذریعے کیا کرتے ہیں  ،   ان کے قلوب کسی سبب سے  مجتمع ہوتے ہیں   نہ ان کے نفوس کسی طلب و خواہش کے سبب قوت حاصل کرتے ہیں   کہ جب سبب نہ پایا جائے تو وہ منتشر ہو جائیں   اور ان کا یقین اس طلب و خواہش کی وجہ سے  



[1]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب التھجدوقیام اللیل، الحدیث: ۲۱۰، ج۱، ص۲۸۷

[2]     المرجع السابق، کتاب المحتضرین، الحدیث:۱۶۱، ج۵، ص۳۴۱ ’’المعتمر بن سلیمان‘‘ ، ’’الرابع‘‘ بدلہ ’’ثابت البنانی‘‘ ، ’’السابع‘‘



Total Pages: 332

Go To