Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

         (اے بندۂ خدا!)  وہ تمام اعمال جن میں   تونے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غیر کی رضا چاہی،   ان کی وجہ سے  تونے خود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کے لئے پیش کیا اور واجبات کو چھوڑ دینے اور اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی مرضی سے  ناواقف ہونے کے سبب خود پر سزا کو لازم کر لیا کیونکہ  (اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن فرمائے گا)  بندہ تو تُو میرا تھا لیکن دوست میرے علاوہ دوسروں   کو بناتا رہا،   رزق میرا کھاتا رہا مگر عمل دوسروں   کی رضا کے لئے سرانجام دیتا رہا۔ دین کو میں  نے اپنے لئے خاص کر رکھا تھا اور پھر بھی تونے میرے غیر کا قصد کیا۔ تو ہلاک و برباد ہو! کیا تونے میرا یہ قول نہ سنا تھا؟

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ- (پ۲۳،  الزمر:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔

            ہلاکت و بربادی تیرا مقدر ہو! تونے میرے اس حکم کو بھی قبول نہ کیا جب میں  نے کہا:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ حُنَفَآءَ (پ۳۰،  البینۃ:  ۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ان لوگو ں   کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں   نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر۔

             اور تو تباہ و برباد ہو جائے! کیا تونے میرا یہ قول بھی نہ سنا؟

اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ      (پ۲۰،  العنکبوت:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  وہ جنہیں   تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں   تو اللہکے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو۔

        یہ قرآنِ کریم کی مثالیں   ہیں   جو علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام بیان کرتے رہتے ہیں  ،   قرآنِ کریم کے خطاب میں   غورو فکر کر کے عارفین انہی مثالوں   کے ذریعے اپنے اَوْرَاد و وَظائف معلوم کر لیتے ہیں  ۔ پس یہ آیاتِ مبارکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کی پختگی اور اس کے خطاب کی سختی کے باعث غافلین کے لئے زجر و توبیخ کی حیثیت رکھتی ہیں  ،   نیز ان پر انتہائی شدید اور دردناک عذاب سے  بھی سخت تکلیف دہ ہیں  ۔

دین کا خالص ہونا: 

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دین کو اپنے لئے خالص فرمایا اور اس میں   مخلوق میں   سے  کسی کو شریک نہ کیا۔چنانچہ ارشاد فرمایا:

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ- (پ۲۳،  الزمر:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔

            یعنی یہاں   دینِ خالص سے  مراد شرک سے  پاک راہِ توحید اور ہر قسم کے گدلے پن سے  پاک و صاف راستہ ہے کیونکہ اخلاص سے  مراد خواہشِ نفس اور شہوت کی کدورتوں   سے  پاک و صاف ہونا ہے۔ اخلاص کی ضد شرک ہے جس سے  مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غیر یعنی نفس و ناس سے  خلط ملط ہونا ہے۔ جس طرح کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہم پر انعام فرمایا اور ہمیں   گوبر اور خون کے درمیان سے  خالص رزق عطا فرماتے ہوئے اپنی نعمت کو مکمل فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا (پ۱۴،  النحل:  ۶۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم تمہیں   پلاتے ہیں   اس چیز میں   سے  جوان کے پیٹ میں   ہے گوبر اور خون کے بیچ میں   سے  خالص دودھ۔

        پس اگر دودھ میں   گوبر اور خون میں   سے  کچھ مل جائے تو دودھ جیسی نعمتِ کاملہ ہمیں   حاصل نہ ہو گی۔ اسی طرح ہمارے عمل کو خواہش و شہوت سے  پاک و صاف ہونا چاہئے تا کہ ہم اپنے واجبات و حقوق ادا کر کے اجر و ثواب کے مستحق ہو سکیں  ۔ چنانچہ دودھ جیسی نعمت میں   اگر ہم گوبر یا خون دیکھ لیں   تو ہمارے نفوس اسے  چھوڑ دیتے ہیں   اور اسے  استعمال نہیں   کرتے،   اسی طرح حکیم و خبیر عَزَّ وَجَلَّ ہمارے عمل میں   جب ریاکاری یا شہوت کی آمیزش پاتا ہے تو اسے  ہماری جانب لوٹا دیتا ہے اور قبول نہیں   فرماتا۔

            اسنے اپنی قدرتِ کاملہ سے  ہم پر مزید کرم فرمایا کہ جانوروں   کو ہمارے لئے مسخر کر دیا ،   اب ہم ان پر نہ صرف سوار ہوتے ہیں   بلکہ ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں  ۔ پس ہم پر لازم ہے کہ اس کا شکر بجا لائیں   اور اس کے انعامات کھانے کے بعد ہم اسی طرح عملِ صالح کریں   جیسا کہ اسنے اپنے انعامات کے حصول کے بعد ہمیں   شکر ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:  كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ- (پ۱۸،  المؤمنون:  ۵۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پاکیزہ چیزیں   کھاؤ اور اچھا کام کرو۔

            لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں   کے لئے جو انعامات تیار کر رکھے ہیں   اگر کوئی ان سب سے  غافل رہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  اپنی رضا کا موجب بننے والے جس دینِ خالص کے اپنانے کا حکم دیا ہے اسے  بھی ترک کر دے تو وہ شخص اپنی جہالت کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کو لازم ٹھہرا لے گا اور اس کے احکامات کی مخالفت کرنے کی وجہ سے  سزا و عقاب کا مستحق ہو جائے گا۔

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ’’ مخلوق سے  بھاگا جائے اور لقائے حق تک نفس پر رویا جائے ‘‘  تو ہمارے اس قول میں   تدبر و تفکر کی توفیق صرف اسی شخص کو ملے گی جسے  دولتِ مشاہدہ حاصل ہو اور وہ واقفِ اسرار ہو،   نیز بارگاہِ خداوندی میں   حضوری کے آداب بھی جانتا ہو اور کبھی بھی اسنے رُوگردانی نہ کی ہو۔

٭٭٭

 



Total Pages: 332

Go To