Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ (پ۲۲،  فاطر:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا اللہکے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ تمہیں   روزی دے۔

            عام بندے اپنا اپنا حصہ اپنے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے  حاصل کرتے ہیں   جو ان کے لئے  (حصولِ علم کے)  اسباب اور راستوں   کی حیثیت رکھتا ہے۔

مقاماتِ تصوف

مراقبہ: 

        محاسبہ کی حقیقت یہ ہے کہ سب سے  پہلے دیدارِ باری تعالیٰ کا مراقبہ ([1]) کیا جائے اور مراقبہ اہلِ یقین کے ایک حال کا نام ہے۔

معرفت: 

            علمِ یقین  ([2])  علمِ ایمان کی انتہا ہے اور جب علم یقین میں   سے  بندے کے نصیب کی انتہا ہوتی ہے تو عینِ یقین کی ابتدا ہوتی ہے اور یہی مقامِ معرفت ہے۔

مقامِ بُعد:

        حالتِ قرب میں   بندہ علمِ یقین کے سبب دل کی طہارت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور دل کی پاکیزگی و طہارت اسے  ان بلند مقامات پر فائز کر دیتی ہے جن کا تعلق آنکھ کے مشاہدہ سے  ہوتا ہے یہاں   تک کہ بندے کے دل میں   سوائے حق بات کے کوئی خیال ہی پیدا نہیں   ہوتا۔ پس اس صورت میں   اگر وہ دل میں   پیدا شدہ ایسے  کسی خیال کی نافرمانی کر دے تو گویا اسنے حق کی نافرمانی کی اور اس خیال کو مطلق ترک کر دینے اور اس سے  صرفِ نظر کرنے سے  دل میں   کدورت پیدا ہو جاتی ہے اور دل کی کدورت میں   ہی اس کی ظلمت و تاریکی پوشیدہ ہوتی ہے جو مقامِ قساوت ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں   سے  بندہ اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے  دور ہونا شروع ہوتا ہے۔

نامۂ  اعمال کے تین رجسٹر: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ کوئی بھی فعل اگرچہ وہ کتنا ہی حقیر کیوں   نہ ہو اس کے لئے تین  (سوالات کے)  رجسٹر کھولے جائیں   گے: ٭… پہلے رجسٹر کا سوال ہو گا: کیوں  ؟ ٭… دوسرے کا: کیسے ؟ اور ٭… تیسرے کا: کس کے لئے؟

        کیوں  ؟ سے  مراد ہے کہ یہ کام کیوں   کیا؟ یہ محلِ آزمائش و ابتلا ہے۔ چنانچہ حکمِ عبودیت کے باعث بندے سے  وصفِ ربوبیت کے متعلق پوچھا جائے گا،   یعنی کیا اس کام کا کرنا تیرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے  لازم تھا یا تونے خود اپنی مرضی و خواہش سے  یہ کام کیا؟ اگر بندہ پہلے رجسٹر  (کے سوال)  سے  محفوظ رہا یعنی اس طرح جواب دیا کہ اسنے یہ کام ویسے  ہی سر انجام دیا جیسا کہ اسے  حکم دیا گیا تھا۔

            اب اس سے  دوسرے رجسٹر کا سوال پوچھا جائے گا اور اس سے  پوچھا جائے گا کہ تونے یہ عمل کیسے  کیا؟ یعنی یہ سوال حصولِ علم کے متعلق ہو گا جو کہ دوسری ابتلا و آزمائش ہو گی،   یعنی جیسا تجھ پر اس عمل کا بجا لانا لازم تھا تونے اس پر عمل تو کر لیا اب بتاؤ کہ یہ عمل تم نے کیسے  سرانجام دیا؟ کیا علم کے ساتھ یا بغیر علم کے؟ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کوئی بھی عمل بغیر اس کے صحیح طریقہ کے قبول نہیں   کرتا اور اس کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے۔

            اگر بندہ دوسرے سوال سے  بھی بچ گیا تو اب تیسرے رجسٹر کا سوال کھولا جائے گا اور اس سے  پوچھا جائے گا کہ تونے یہ کام کس کے لئے کیا؟ یہ ایسا مقام ہے جہاں   بندے سے  پوچھا جائے گا کہ کیا اسنے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے اخلاص کے ساتھ سرانجام دیا؟ یہ تیسری ابتلا و آزمائش ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں   سے  یہی وہ لوگ ہیں   جو اس کی مراد ہیں   اور جن کے متعلق اسنے ارشاد فرمایا ہے:

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (۴۰)  (پ۱۴،  الحجر:  ۴۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مگر جو ان میں   تیرے چنے ہوئے بندے ہیں  ۔

اے بندۂ غافل! کل بروزِ قیامت کیا کرے گا؟

        کلمۂ اخلاص یعنی  (لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)  تقاضا کرتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ما سوا کی نفی کی جائے،   اخلاص کے بعد دوسرا

وصف وقتِ ملاقات  (یعنی روزِ قیامت)  سے  ڈرنا ہے۔ یعنی  (جب پوچھا جائے گا)  اے بندے! تونے علم پر عمل تو کیا لیکن یہ بتا: کس کے لئے کیا؟ کیا خالص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے کیا تھا؟ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا اجر بھی اسی کے ذمۂ کرم پر ہے اور اگر اپنے جیسے  کسی انسان کے لئے کیا تھا تو اس کا اجر بھی اسی سے  وصول کر،   یا تونے یہ عمل کسی دنیاوی غرض کی وجہ سے  کیا تھا تو دنیا ہی میں   تجھے تیرے عمل کا بدلہ عطا فرما دیا گیا تھا اور اگر غفلت و سہولت کے باعث اپنے نفس کے لئے یہ عمل کیا تھا تو جان لے کہ اس کا اجر ختم ہو چکا اور تیرا عمل بھی ضائع ہو چکا ہے کیونکہ تیرا رخ غلط مقصود کی جانب تھا اور اس فعل کی ادائیگی میں   بھی تیری نیت درست نہ تھی۔

 



[1]     بندے کا ہر وقت اس بات کو پیشِ نظر رکھنا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کے تمام احوال سے آگاہ ہے۔ (التعریفات للجرجانی)

[2]     علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین اہلِ تصوف کے ہاں استعمال ہونے والی اصطلاحات ہیں، جن کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت سیِّدُنا امام ابو قاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”اَلرِّسَالَۃُ الْقُشَیْرِیَۃ“ کے صفحہ 121 پر فرماتے ہیں: ’’اہلِ تصوف کی اصطلاح میں علمِ یقین سے مراد وہ علم ہے جس میں برہان و دلیل کی شرط پائی جاتی ہے اور عین الیقین سے مراد وہ علم ہے جس میں وضاحت ہوتی ہے اور حق الیقین سے مراد وہ علم ہوتا ہے جو مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔ علم الیقین اہلِ عقل و دانش کو حاصل ہوتا ہے، عین الیقین اہلِ علم افراد کے پاس ہوتا ہے اور حق الیقین کے مرتبہ پر عارفین فائز ہوتے ہیں۔



Total Pages: 332

Go To