Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

٭…  اِمَامِ اَجَلّ عَارِفْ بِاللّٰہ سَیِّدِی اَبُوطَالِب مَکّی قُدِّسَ  سِرُّہُ الملکِی  اسی کو فقہائے کرام و اولیائے عظام قُدِّسَت اَسْرَارُہُم کا مذہب قرار دیتے ہیں  ،   کتاب مستطاب،   جلیل القدر،   عظیم الفخر،   قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب کی فصل ۳۱ میں   فرماتے ہیں  : بعض وہ باتیں   جن کے سبب راویوں   کو ضعیف اور ان کی حدیثوں   کو غیر صحیح کہہ دیا جاتا ہے،   فقہا وعلما کے نزدیک باعثِ ضعف وجرح نہیں   ہوتیں  ،   جیسے  راوی کا مجہول ہونا اس لئے کہ اسنے گمنامی پسند کی کہ خود شرع مطہرنے اس کی ترغیب فرمائی یا اُس کے شاگرد کم ہُوئے کہ لوگوں   کو اس سے  روایت کا اتفاق نہ ہوا۔ ([1])

٭…  اِمَامِ اَجَلّ شَیْخُ الْعُلَمَآءِ وَالْعُرَفَآءِ سَیِّدِی اَبُوطَالِب مُحَمَّد بِنْ عَلِی مَکّی قَدَّسَ  اللہُ سِرَّہُ الملکِی  کتاب جَلِیلُ الْقَدر،   عَظِیْمُ الْفَخر،   قُوْتُ الْقُلُوب فی مُعَامَلَۃِ الْمَحْبُوب میں   فرماتے ہیں  : فضائل اعمال وتفضیلِ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی حدیثیں   کیسی ہی ہوں   ہر حال میں   مقبول وماخوذ ہیں  ،   مقطوع ہوں   خواہ مرسل۔ نہ اُن کی مخالفت کی جائے نہ اُنہیں   رَدّ کریں  ،   ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا۔ ([2])

٭…  قال ومن کتاب القوت  (ای السَّیِّدِی ابی طالب المکی رحمہ اﷲ تعالٰی)  قال بعض السلف کم من رجل بارض خراسان اقرب الٰی ھذا البیت ممن یطوف بہ۔ ملتقطاً۔ اور فرمایا کتاب القوت  (للامام ابو طالب مکی رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی)  میں   بعض اسلاف سے  ہے بہت سے  خراسان میں   رہائش پذیر  (لوگ) اس بیت اللہ کے ان لوگوں   سے  زیادہ قریب ہیں   جو اس کا طواف کر رہے ہیں  ،   بعضنے فرمایا: بندہ اپنے شہر میں   ہوا ور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے گھر سے  متعلق ہو یہ اس سے  بہتر ہے کہ بندہ بیت اللہ میں   ہو اور دل کسی اور شہر کے ساتھ وابستہ ہو اھ اختصاراً۔  ([3])

شیخ ابو طالب مکی کے اوصافِ حمیدہ

٭  شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا عقیدہ: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اہل سنت و جماعت کے عظیم بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  ہیں   اور آپ بدمذہبوں   کو بالکل پسند نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن جب بھی آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکرِ خیر فرماتے تو اِمَامِ اَجَلّ،   شَیْخُ الْعُلَمَآءِ وَالْعُرَفَآءِ اور سَیِّدِی  وغیرہ جیسے  القابات سے  یاد فرماتے۔

آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اہل سنت و جماعت کے مذہب پر ہونے اور بدمذہبوں   کو پسند نہ کرنے کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دور میں   چونکہ باطل فرقے سیاسی طور پر کافی مضبوط ہو چکے تھے اگرچہ عباسی خلفا تو اہل سنت و جماعت سے  تعلق رکھتے تھے مگر چند امرا و سلاطین بدمذہب تھے۔ چنانچہ آپ نے بدمذہبیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور زبان و قلم سے  ہمیشہ عقائدِ اہل سنت کی ترجمانی کی۔

٭  آپ ماحی بدعت تھے: 

قوت القلوب کے مطالعہ سے  معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی یہ کتاب مستطاب بدمذہبوں   کے ردّ میں   لکھی۔ کیونکہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دور میں   جہاں   تناسخ و حلول وغیرہ کے عقائد عباسی وزیر مُعِزُّ الدَّولَہ کی سرپرستی میں   بغداد میں   پھلنا پھولنا شروع ہوئے تو دوسری طرف بعض لوگ عقل سے  ماورا قصے کہانیاں   سنا سنا کر لوگوں   کو گمراہ کرنے کی کوششیں   کرنے لگے۔ لہٰذا آپ نے اپنی ساری زندگی بدعتوں   کو جڑ سے  اکھاڑنے میں   صرف کر دی اور ہر لمحہ مسلمانوں   کے دین میں   بگاڑ پیدا کرنے والوں   کا ردّ فرمایا۔ چنانچہ،   

قصہ گوئی کی مذمت: 

قوت القلوب میں   ایک مقام پر فرماتے ہیں  : جمعہ کے دن جب کوئی شخص علم کی مجلس میں   حاضر نہ ہو سکے تو اس کا نماز پڑھتے رہنا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین میں   غورو فکر کرنا قصہ گوئی ([4]) کی محفل میں   شریک ہونے اور قصے کہانیاں   سننے سے  زیادہ پاکیزہ ہے۔ کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک قصہ گوئی ایک بدعت ہے اور وہ قصہ گو افراد کو جامع مسجد سے  نکال باہر کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک دن مسجد میں   اپنی مخصوص نشست کے پاس آئے تو وہاں   ایک قصہ گو کو قصے سناتے ہوئے پایا،   لہٰذا اس سے  ارشاد فرمایا کہ میرے بیٹھنے کی جگہ سے  اٹھ جا،   لیکن اسنے کہا:  ’’میں   نہیں   اٹھوں   گا،   میں   اس جگہ بیٹھ چکا ہوں  ۔ ‘‘  یا پھر اسنے یہ کہا کہ میں   آپسے  پہلے بیٹھ چکا ہوں  ۔ راوی کہتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سپاہی بلا کر اسے  اس جگہ سے  اٹھا دیا۔ ([5])  پس اگر قصہ گوئی سنت ہوتی تو حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس قصہ گو کو کبھی اس جگہ پر بیٹھنے کے بعد اٹھانا جائز نہ سمجھتے بالخصوص اس صورت میں   جبکہ وہ آپسے  پہلے اس جگہ بیٹھ چکا تھااور یہ کیونکر ہو سکتا



[1]     فتاویٰ رضویہ، ج۵، ص۴۴۵

[2]     فتاویٰ رضویہ، ج۵، ص۴۷۹

[3]     فتاویٰ رضویہ، ج۱۰، ص۶۹۰

[4]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 98 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ نیکی کی دعوت کے فضائل ‘‘ صَفْحَہ 60 پر ہے: مساجد میں  ایسے قصہ گو اور واعظین کا کلام کرنا جو خلافِ شرع باتیں  کرتے ہوں  (منع ہے)۔ لہٰذا درس دینے والا اگر جھوٹی اور غلط باتیں  بیان کرے تو وہ فاسق ہے اور اسے منع کرنا واجب ہے اور ایسا بدعتی و بد مذہب جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات میں  نازیبا کلمات کہتا ہو اسے منع کرنا واجب اور اس کی محفل میں  جانا جائر نہیں ۔ ہاں ! اگر اس کا ردّ کرنا مقصود ہو تو جانا جائز ہے (لیکن یہ علما کا کام ہے)۔ مسجد میں  وعظ و نصیحت کرنے والوں  کو اجازت دینے سے پہلے ان کی حقیقت حال سے باخبر ہو لینا ضروری ہے (کہ کہیں  وہ بد مذہب تو نہیں ) ۔

[5]     شرح السنۃ للبغوی، کتاب العلم، باب التوقی عن الفتیا، ج۱، ص۲۴۱



Total Pages: 332

Go To