Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ حق آیا اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر  (لوٹ)  کر آئے۔

            یعنی جب حق آیا تو اسنے باطل کا خاتمہ کر کے اسے  لوٹا دیا اور معاملہ کی حقیقت بطورِ ابتدا و انتہا ظاہر کر دی۔ ایک قول کے مطابق یہاں   باطل سے  مراد ابلیس ہے۔

            ایک جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۙ-لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ (پ۱۴،  النحل:  ۱۰۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں   پر ایمان نہیں   لاتے اللہانہیں   راہ نہیں   دیتا۔

اظہارِ بیان:

        اظہارِ بیان بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک نعمت ہے کیونکہ یہ بغیر قدرت کے واقع نہیں   ہوتی،   جیسا کہ اس کا فرمان ہے:

فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۙ-قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (۲۵۹)  (پ۳،  البقرہ:  ۲۵۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں   خوب جانتا ہوں   کہ اللہسب کچھ کرسکتا ہے۔

        پس بندے پر اس نعمت کا شکر ادا کرنا لازم ہے کیونکہ بعض اوقات زبان سے  شکر ادا کرنا انعام کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ شکر پر مزید انعامات سے  نوازتا ہے۔ چنانچہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (۸۹)  (پ۷،  المائدۃ:  ۸۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اسی طرح اللہتم سے  اپنی آیتیں   بیان فرماتا ہے کہ کہیں   تم احسان مانو۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے شکر کے متحقق ہونے کے بارے میں   شکر کرنے والوں   پر مزید کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ (۵۸)  (پ۸،  الاعراف:  ۵۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم یونہی طرح طرح سے  آیتیں   بیان کرتے ہیں   ان کے لئے جو احسان مانیں  ۔

حکمت و ہدایت بھی ایک نعمت ہے: 

            بندہ جب شبہات پر عمل کرنے سے  رک جائے اور دل کے خطرات کو شروع ہی میں   روک لے یہاں   تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مزید علم یا قوتِ یقین کے ذریعے یا نفسانی خواہشات سے  پردہ اٹھا کر اس پر حقیقتِ حال ظاہر فرما دے تو یوں   اسے  درستی کی توفیق مل جاتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کا بھی یہی مفہوم ہے:

وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ (۲۰)  (پ۲۳،  ص۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسے  حکمت اور قولِ فیصل دیا۔

        اور یہ اس فرمانِ باری تعالیٰ کے مفہوم میں   بھی داخل ہے:

وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ- (پ۳،  البقرۃ:  ۲۶۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جسے  حکمت مِلی اُسے  بہت بھلائی ملی۔

            ایک جگہ ارشاد فرمایا: اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ (۱۲)  (پ۳۰،  اللیل:  ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  ہدایت فرمانا ہمارے ذمّہ ہے۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پہلے سے  جاری دستور یہی ہے جس میں   کوئی تغیر و تبدل نہیں  ۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں  سنا: 

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا (پ۱،  البقرۃ:  ۳۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہتعالیٰنے آدم کو تمام اشیاءکے نام سکھائے۔

            پس حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام تعلیم کے لئے منتخب ہوئے اور انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  مخصوص مقام و مرتبہ کے حصول کے لئے تفہیم کے ذریعے اپنا مخصوص حصہ وصول کیا۔ پھر ارشاد فرمایا

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ- (پ۱،  البقرۃ:  ۳۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: فرمایا اے آدم بتادے انہیں   سب اشیاءکے نام۔

            جب حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامنے فرشتوں   کو سب کے نام بتا دیئے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا تذکرہ کیے بغیر اللہعَزَّ وَجَلَّنے علم کی نسبت اپنی ذات کی جانب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  (قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ  (پ۱،  البقرۃ:  ۳۳) )   ([1])  تو یہاں   یہ نہیں   فرمایا  (اِنَّ اٰدَمَ یَعْلَمُ)  یعنی بے شک  آدم جانتا ہے۔ اس سے  معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے رازق عَزَّ وَجَلَّ سے  اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق علم حاصل کیا اور فرشتوں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  مقرر کردہ اپنا اپنا حصہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے واسطہ سے  ان کے حصے سے  حاصل کیا،  پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس طرح ہر شے کو پیدا کرنے والا ہے اسی طرح صاحبِ قُوْت اور رزّاق بھی ہے۔ چنانچہ،   

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں۔



Total Pages: 332

Go To