Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

  قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (پ۱۸،  النور:  ۳۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مسلمان مردوں   کو حکم دو اپنی نگاہیں   کچھ نیچی رکھیں  ۔

        پس ان کے اس قول کی اصل وجودِ جنس کے زیادہ مشابہ ہے۔

 (۲) … قصائد یعنی مباح اشعار کا سننا بھی مشتبہ کی مثال ہے۔ ([1]) چونکہ قرآنِ کریم کا سننا حلال ہے لیکن غنا کے ساتھ اس کا سننا حرام ہے،   پس قصائد کا غنا کے ساتھ سننا ہمارے نزدیک اس شخص کے لئے مکروہ ہے جو اس کا اہل نہ ہو۔

 (۳) … قرآنِ کریم لِحن کے ساتھ تلاوت کرنے میں   مروی قول بھی مشتبہ کی مثال ہے۔ چنانچہ قاری اگر چھوٹی مد کو لمبا کر کے اور بڑی مد کو چھوٹا پڑھے تو اس کا ایسا کرنا غنا کے مشابہ ہونے کی وجہ سے  مکروہ ہے۔  ([2])

 (۴) … کپاس اور ریشم سے  بُنے ہوئے کپڑے پہننے کا حکم بھی مشتبہ ہے۔ چنانچہ ہم نے مُلْحَمْ  (یعنی ایسا کپڑا جس کا تانا بانا الگ الگ قسم کا ہو مثلاً ریشم اور سوت ملا کر بُنے ہوئے کپڑے)  کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ اس کپڑے میں   ریشم کے تار ہونے کی بنا پر یہ ریشم کے زیادہ مشابہ ہے۔  ([3])

بد گمانی کی پُرسش: 

        مخفی امور کی طرف متوجہ ہونا ان امور سے  ہے جن کے متعلق کانوں  نے سنا ہو نہ آنکھوں  نے کچھ دیکھا ہو کیونکہ قلوب سے  بد گمانی کے متعلق پوچھا جائے گا اور اس کے باعث قطعی ظاہری حکم لگانے کے بارے میں   بھی سوال ہو گا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ ذیل کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جب تک کسی شے کا یقینی علم نہ ہو اس پر حکم لگانے میں   توقف سے  کام لو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات سے  بھی ڈرایا ہے کہ بندے سے  اسکے اعضاء کے متعلق پوچھا جائے گا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ- (پ۱۵،   بنی اسرآئیل:  ۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں  ۔

            یعنی ان معاملات کی جاسوسی اور ٹوہ میں   نہ رہو جن کا تمہارے پاس کوئی علم نہیں   کہ تم اس معاملہ پر کچھ سننے،   دیکھنے یا پختہ عزم کر لینے کی گواہی دے سکو کیونکہ علم کی حقیقت سننا اور دیکھنا ہی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا  (۳۶)  (پ۱۵،   بنی اسرآئیل:  ۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے  سوال ہونا ہے۔

        اسی طرح سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،   رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’گمان سے  بچو! کیونکہ  (بعض)  گمان بڑے جھوٹے ہوتے ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

بلا تحقیق بات آگے پہنچانا منع ہے: 

            جس پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو پھر بھی وہ اس کے قطعی ہونے کا حکم لگا دے تو وہ اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا شمار ہو گا اور جو شخص کسی ایسے  فعل یا امر میں   غورو فکر کرے جس کی حقیقت نہ جانتا ہو،   پھر اسے   (بلا تحقیق)  آگے بتا دے اور اپنے کسی ساتھی پر ظاہر کر دے تو اسنے برا کیا اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ اس کے متعلق شہنشاہِ خوش خِصال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے



[1]     سیدی اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ’’جب سامع (قوالی سننے والا) ومسموع (سنا جانے والا کلام) ومُسمَع (قوال) ومِسمع (آلۂ سماع) ومَسمع (سماع کی جگہ) وسماع (قوالی سننا) واسماع (قوالی سنانا) سب مفاسد سے پاک ہوں توسننا سناناسب جائزہے اگرچہ بالقصد برعایت قوانین موسیقی ہو، خواہ فارسی یااردو یاہندی جوکچھ بھی ہو باستثنا قرآن عظیم موسیقی کی نسبت آواز کی طرف وہ ہے جو عروض کی نسبت کلام کی طرف، کلام جب حسن ہو اوزان عروضیہ پرمنظوم کردینے سے قبیح نہ ہو جائے گا۔ یوہیں الحان کہ مباح ہوقوانین موسیقی کی رعایت سے ناجائزنہ ہوجائے گا۔ حدیث میں فرمایا: الشِّعْرُ كَلاَمٌ فَحَسَنُهُ حَسَنٌ وَقَبِیْحُہُ قَبِیْح۔ شعرایک کلام ہے، جو اچھاہے وہ اچھاہے اور جوبراہے وہ براہے۔ (السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الحج باب لایضیق علی واحد منھما    الخ، الحدیث: ۹۱۸۱، ج۵، ص ۱۱۰)  سامع تو وہ چاہئے جس کے قلب پرشہوات ردیہ کا استیلانہ ہو کہ سماع کوئی نئی بات پیدا نہیں کرتا بلکہ اسی کو اُبھارتاہے جودل میں دبی ہو، مسموع میں ضرور ہے کہ نہ فحش ہو نہ کوئی کلمہ خلاف شرع مطہر، نہ کسی زندہ امرد کا ذکر ہو نہ کسی زندہ عورت کی تعریف، نہ ایسی قریب مردہ کانام ہو جس کے اعزّہ زندہ ہوں اور انہیں اس سے عارلاحق ہو، امثال لیلے سلمے سعاد میں حرج نہیں۔ مُسمع بالضم یعنی پڑھنے یاگانے والامرد بوڑھا یاجوان ہو، امرد یاعورت نہ ہو۔ مِسمع بالکسر یعنی آلہ سماع مزامیر نہ ہوں اگر ہوتوصرف دف بے جلاجل جوہیئات تطرب پرنہ بجایاجائے۔ مَسمع بالفتح جائے سماع مجلس فساق نہ ہو اور اگرحمدونعت ومنقبت کے سوا عاشقانہ غزل، گیت، ٹھمری وغیرہ ہوتو مسجد میں مناسب نہیں۔ سماع یعنی سننا ایسے وقت نہ ہو کہ اس سے نمازباجماعت وغیرہ کسی فرض یاواجب یاامراہم شرعی میں خلل آئے۔ اِسماع یعنی پڑھنا یاگانا ایسی آواز سے نہ ہو جس سے کسی نمازی کی نماز یاسوتے کی نیند یامریض کے آرام میں خلل آئے اور حُسن وعشق ووصل وہجر وشراب وکباب کاذکر ہوتو عورات تک آواز نہ پہنچے بلکہ اگرگانے والے کی آوازدلکش ہے تو عورات تک پہنچنے کی مطلقاً احتیاط مناسب ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، ج۲۴، ص۱۲۵تا۱۲۶)

[2]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 557 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: لحن کے ساتھ قرآن پڑھنا حرام ہے اور سُننا بھی حرام، مگر مد و لین میں لحن ہوا، تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ (عالمگیری)

[3]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3 صَفْحَہ 410 پر ہے: ریشم کے کپڑے مرد کے لئے حرام ہیں، بدن اور کپڑوں کے درمیان کوئی دوسرا کپڑا حائل ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوںمیں حرام ہیں اور جنگ کے موقع پر بھی نرے ریشم کے کپڑے حرام ہیں، ہاں اگر تانا سوت ہو اور بانا ریشم تو لڑائی کے موقع پر پہننا جائز ہے اور اگر تانا ریشم ہو اور بانا سوت ہو تو ہر شخص کے لئے ہر موقع پر جائز ہے۔ مجاہد اور غیر مجاہد دونوں پہن سکتے ہیں۔ لڑائی کے موقع پر ایسا کپڑا پہننا جس کا بانا ریشم ہو اس وقت جائز ہے جبکہ کپڑا موٹا ہو اور اگر باریک ہو تو ناجائز ہے کہ اس کا جو فائدہ تھا، اس صورت میں حاصل نہ ہوگا۔ (ھدایہ، درمختار) تانا ریشم ہو اور بانا سوت، مگر کپڑا اس طرح بنایا گیا ہے کہ ریشم ہی ریشم دکھائی دیتا ہے تو اس کا پہننا مکروہ ہے۔ (عالمگیری)  بعض قسم کی مخمل ایسی ہوتی ہے کہ اس کے روئیں ریشم کے ہوتے ہیں، اس کے پہننے کا بھی یہی حکم ہے، اس کی ٹوپی اورصدری وغیرہ نہ پہنی جائے۔

[4]     صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ من بعد     الخ، ص۲۲۰



Total Pages: 332

Go To