Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بخل کے پائے جانے کی مذمت بیان نہیں   فرمائی کیونکہ یہ تو نفس کی ایک صفت ہے بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کی مذمت بیان کی ہے جو نفس کی اس بات میں   پیروی کرے کہ وہ اپنی پسندیدہ اشیاءروک لے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں   خرچ کرنے سے  گریز کرے۔

اتباعِ خواہش کی مذمت کی وجہ: 

            آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اتباعِ خواہش کو بھی مذموم قرار دیا کیونکہ کوئی نفس خواہش کے وجود سے  خالی نہیں  ،   اس لئے کہ یہ تو نفس میں   قیام پذیر روح کی حیثیت رکھتی ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تو اس روح یعنی خواہش کی پیروی کرنے کو عیب قرار دیا ہے۔

رائے پر اِترانے کے مذموم ہونے کی وجہ: 

            آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان ’’ ہر صاحبِ رائے اپنی رائے کو پسند کرنے لگے ‘‘  سے  مراد یہ نہیں   کہ کسی بھی معاملے میں   رائے کا پایا جانا نقص و عیب ہے کیونکہ رائے تو عقل و فہم کا نتیجہ وثمرہ ہوتی ہے،   بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی مذمت اس لئے بیان فرمائی کہ کوئی شخص صرف اپنی رائے کو دیکھے اور جو اسے  رائے دے اس سے  نظریں   پھیرلے یا اپنی رائے کو اس شخص کی رائے پر ترجیح دے جو اس سے  بڑھ کر ہو یا اپنی رائے پر فخر کرتے ہوئے دوسرے کی رائے ہی کو رَد کر دے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ   (پ۲۷،  النجم:  ۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو آپ اپنی جانوں   کو ستھرا نہ بتاؤ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس فرمان میں   اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے صائبُ الرائے ہونے کا وصف بیان کیا ہے:

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ (۷۵)  (پ۱۴،  الحجر:  ۷۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک اس میں   نشانیاں   ہیں   فراست والوں   کے لئے۔

            اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:

عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ- (پ۱۳،  یوسف:  ۱۰۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: میں   اور جو میرے قدموں   پرچلیں   دل کی آنکھیں   رکھتے ہیں  ۔

            ایک روایت میں   ہے کہ شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مومنین جس بات کااچھا خیال کریں   وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   بھی اچھی ہے اور جس بات کو مومنین برا جانیں   وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   بھی بری ہے۔ ‘‘  ([1])

        ایک روایت میں   ہے کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی زمین میں   اس کے گواہ ہو۔ ‘‘  ([2]) اور بعض سلف صالحین سے  مروی ہے کہ افضل عبادت بہترین رائے ہے۔  ([3])

مشتبہ مثالوں   میں ترجیح  کا طریقہ: 

        جو معاملہ مثالوں   کے ایک دوسرے میں   گڈ مڈ ہونے کی وجہ سے  مشکل محسوس ہو اور یہ واضح نہ ہو سکے کہ کس مثال کو ترک کیا جائے تو ورع و تقویٰ کی علامت یہ ہے کہ اس میں   توقف کیا جائے اور اس کے واضح ہونے تک اس پر عمل نہ کیا جائے۔ لیکن اگر کوئی معاملہ علمِ استدلال کی کمی کے باعث مشتبہ ہو جائے تو اس کی حقیقت جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ حرام و حلال ہونے کی دونوں   اصلوں   کی پہچان کی جائے اور پھر اس معاملے کو دونوں   میں   سے  جس کے زیادہ مشابہ ہو اس کے ساتھ ملا دیا جائے۔ مثلاً

 (۱) … بعض کے نزدیک خوبصورت لڑکے  (یعنی اَمرد)  کو اس کے مذکر  (یعنی مرد)  ہونے کی وجہ سے  دیکھنا جائز ہے۔([4])

            اس مثال کو سمجھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس معاملہ کے مشتبہ ہونے کی وجہ سے  اسے  دونوں   اصلوں   کے مدِّ مقابل رکھ کر اس میں   غورو فکر کیا جائے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ  (پ۷،  الانعام:  ۹۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس کا پھل دیکھو جب پھلے۔

 



[1]     المؤطا امام مالک بروایۃ محمد، ابواب الصلاۃ، باب قیام شھر رمضان، تحت الحدیث: ۲۴۱، ص۳۴۱

[2]     صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت، الحدیث: ۱۳۶۷، ص۱۰۷

[3]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الایمان و الرؤیا، باب (۶)، الحدیث: ۵۱، ج۷، ص۲۲۳

[4]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3صَفْحَہ 442پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’لڑکا جب مراہق ہوجائے اور وہ خوبصورت نہ ہو تو نظر کے بارے میں اس کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے اور خوبصورت ہو تو عورت کا جو حکم ہے ،وہ اس کے لئے ہے یعنی شہوت کے ساتھ اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور شہوت نہ ہو تو اس کی طرف بھی نظر کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ تنہائی بھی جائز ہے۔ شہوت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے یقین ہو کہ نظر کرنے سے شہوت نہ ہوگی اور اگر اس کا شبہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے، بوسہ کی خواہش پیدا ہونا بھی شہوت کی حد میں داخل ہے۔ (ردالمحتار) (مزید تفصیلات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 18 صَفحات پر مشتمل شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے،’’ امرد پسندی کی تباہ کاریاں مع برباد جوانی‘‘ کا مطالعہ کیجئے)



Total Pages: 332

Go To