Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

متوجہ ہی نہ ہونے دے اور اس کا ذکر تک نہ کرے،   ورنہ وہ خیال دل میں   ایسے  خراب ارادے کو جنم دے سکتا ہے جسے  بعد میں   جھٹکنا کافی مشکل ہو جائے گا اور جس کے نتیجہ میں   ایسی گھٹیا سوچ پیدا ہو سکتی ہے کہ نفی کرنے کے بعد بھی اس سے  چھٹکارا دشوار ہو جائے گا اور وہ دل میں   ایسا تاثر چھوڑ سکتا ہے جس کے اثرات عملی جامہ پہنانے کے بعد نمایاں   ہوں   گے۔

مشتبہ خیال کا حکم: 

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  )  ہم نے جو یہ کہا ہے کہ’’ اگر وہ خیال

خالص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہو اور اس کے مشاہدۂ قرب کا باعث ہو نہ کہ اپنے نفس اور خواہشِ نفسانیہ کے قریب کر دینے والا ہو اور یہ کہ وہ خیال اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کی رضا حاصل کرنے کا سبب ہو نہ کہ کسی دنیاوی غرض کا باعث ہو۔‘‘  تو ہمارے اس قول کی وجہ سے  اگر کسی شخص پر معاملہ مشتبہ ہو جائے اور واضح نہ ہو پائے کہ وہ خیال اچھا ہے اور اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہے یا نہیں   اور بندے کو یہ کام کرنا چاہئے یا یہ مکروہ و ناپسندیدہ ہے اور اس کی بجا آوری میں   نہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی کوئی محبت ہے اور نہ ہی بندے کو اس کی نفی کرنے میں   کوئی قرب حاصل ہو گا تو اس اشکال کے پیدا ہونے کا سبب تین اسباب میں   سے  کوئی ایک ہو سکتا ہے:  (۱) … معرفت کی کمی کے باعث بندے کا یقین کمزور ہو گا ۔

 (۲) … یا باطل حکم کی مراد مخفی و پوشیدہ ہو گی جس سے  ناواقف ہونے کے باعث بندہ علم کی کمی کا شکار ہو گا ۔

 (۳) … فطری محسوسات سے  پیدا ہونے والی اور نفس میں   پوشیدہ خواہش اس پر غالب ہو گی۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ عالم وہ نہیں   جو خیر و شر کی پہچان رکھتا ہے بلکہ اس کی پہچان تو ہر عقل مند انسان کر سکتا ہے۔ البتہ! عالم حقیقی وہ ہوتا ہے جو دو برائیوں   میں   سے  بہتر برائی کو پہچانتا ہو یعنی اگر کبھی مجبور ہو جائے تو اس پر عمل کرے اور دو بھلائیوں   میں   سے  کون شر کے قریب ہے اس کی بھی پہچان رکھتا ہو کہ کبھی عمل کرنا پڑے تو شر کے زیادہ قریب بھلائی پر عمل کرنے سے  اجتناب کرے۔  ([1])

            مشتبہ امور میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم توقف کرنا ہے اور یہ کہ اگر وہ امور اعمالِ قلوب سے  تعلق رکھتے ہوں   تو ان کے ادا کرنے کا پختہ عزم نہ کرے اور اگر وہ امور اعضاء و جوارح کے اعمال سے  متعلق ہوں   تو ان پر عمل کرے نہ کوئی کوشش کرے بلکہ ٹھہرا رہے اور توقف کرے یہاں   تک کہ وہ واضح ہو جائیں  ۔ یہی ورع وتقویٰ کی صورت ہے کیونکہ ورع سے  مراد مشکلات اور مشتبہ امور کی جانب پیش قدمی کرنے کے بجائے تاخیر اور بزدلی کا اظہار کرنا ہے،   یعنی مشتبہ امور میں   معاملے کے منکشف ہونے تک قول،   فعل اور عزم سے  شریک نہ ہو۔

            مشتبہ امور کی وضاحت ان کے انتہائی مبہم و ناقابلِ فہم ہونے اور غیر واضح ہونے کی وجہ سے  مخفی علوم سے  ہوتی ہے اور ان کے دقیق و مخفی ہونے کی بنا پر ان کی یہ پوشیدگی معرفت حق سے  ہی دور ہوتی ہے۔ چنانچہ،   

            امام العارفین،   سید الشاکرین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جب لوگوں   میں   اختلاف پیدا ہو جائے تو اس وقت ان میں   سب سے  بڑا عالم وہ ہو گا جسے  سب سے  زیادہ معرفتِ حق حاصل ہو گی۔ ‘‘    ([2])

            ایک روایت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  شبہات کے وارد ہونے کے وقت نقد و جرح کرنے والے صاحبِ بصیرت اور شہوات کے ہجوم کے وقت عقلِ کامل رکھنے والے انسان سے  محبت کرتا ہے۔ ‘‘    ([3])

کثرتِ شبہات کی وضاحت: 

            کثرتِ شبہات کی وضاحت میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  یہ قول مروی ہے کہ آج تم ایک ایسے  زمانے میں   ہو جس میں   سب سے  بہتر انسان وہ ہے جو  (نیکی کے کاموں   میں  )  جلدی کرنے والا ہے اور عنقریب ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے جس میں   سب سے  بہتر انسان وہ ہو گا جو توقف کرنے والا ہو گا۔

            صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعتنے اہلِ عراق اور اہلِ شام کے ساتھ جنگ کرنے سے  توقف کیا کیونکہ ان پر ان کا حال مشتبہ تھا،   ان میں   حضرت سیِّدُنا سعد،   حضرت سیِّدُنا ابن عمر،   حضرت سیِّدُنا اسامہ،   حضرت سیِّدُنا محمد بن مسلمہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وغیرہ بھی تھے،   پس جو شبہات کے وقت توقف نہ کرے اور ان پر عمل پیرا ہو جائے تو اسنے خود کو اپنی خواہشِ نفس کے تابع کر دیا اور اپنی رائے پر عمل کرنے کو پسند کیا اور یہی وہ مفہوم ہے جو اس حدیثِ پاک میں   مروی ہے جس میں   اس قسم کے اوصاف رکھنے والے شخص کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ،   

ایک حدیث اور اس کی شرح: 

            حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جب تم دیکھو کہ بخل و لالچ کی حکمرانی ہے اور خواہشِ نفس کی پیروی کی جاتی ہے اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے پر اِتراتا ہے تو  (اس وقت)  اپنی فکر کرنا۔‘‘([4])

بخل کی مذمت کی وجہ: 

 



[1]     الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد علی بن الحسین، الحدیث: ۹۳۶، ص۱۸۸بتغیر

[2]     مسند ابی داود الطیالسی، الحدیث: ۳۷۸، ص۵۰

[3]     الزھد الکبیر للبیھقی، الحدیث: ۹۵۴، ص ۳۴۶

[4]     جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب من سورۃ المائدۃ، الحدیث: ۳۰۵۸، ص۱۹۶۰



Total Pages: 332

Go To