Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (۱)   (پ۱۸،  المؤمنون:  ۱) )   ([1])  سے  لے کر دس آیات تلاوت فرمائیں  ۔  ([2])

            ایک بار ایک شخص نے سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  دریافت کیا: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کب معلوم ہو گا کہ میں   اہلِ جنت میں   سے  ہوں  ؟ ‘‘  دوسری روایت میں   یہ الفاظ ہیں   کہ’’ میں   حقیقی مومن ہوں  ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’جب تم ان اوصاف کے حامل ہو جاؤ گے۔ ‘‘  اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان آیات:  (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ (۲)   (پ۱۸،  المؤمنون:  ۱،  ۲) )   ([3])  سے  لے کر وہ سب آیات تلاوت فرمائیں   جن میں   مومنین کی صفات مذکور ہیں۔

مومنین کی جامع صفت: 

            شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مومنین کی صفات میں   سے  ایک مختصر لیکن جامع صفت اس طرح بیان فرمائی ہے جیسا کہ ربّ اکبر عَزَّ وَجَلَّنے توحید و عمل میں   اپنے مخلص بندوں   کے اوصاف بیان کئے ہیں  ۔ چنانچہ،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اگر مجھ پر اس آیتِ مبارکہ کے سوا کچھ نازل نہ ہوتا تو یہی کافی تھی۔ ‘‘  ([4]) پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ کہف کی آخری آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ (۱۱۰)  (پ۱۶،  الکھف:  ۱۱۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو جسے  اپنے رب سے  ملنے کی امید ہو اسے  چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں   کسی کو شریک نہ کرے۔

        یہ انتہائی فصیح خطاب ہے اور اربابِ عقل و دانش کے لئے بیحد بلیغ کلام ہے،   پس عمل صالح عبادت میں   اخلاص کو کہتے ہیں   اور مخلوق سے  شرک کی نفی یہ ہے کہ خالق عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کا یقین ہو۔چنانچہ،   

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے ڈرنے والے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے متعلق ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ (۵۷)  وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ (۵۸)  وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ (۵۹)  وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ (۶۰)  اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ (۶۱)  (پ۱۸،  المؤمنون:  ۵۷تا ۶۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے  سہمے ہوئے ہیں   اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں   پر ایمان لاتے ہیں   اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں   کرتے اور وہ جو دیتے ہیں   جو کچھ دیں   اور ان کے دل ڈر رہے ہیں   یوں   کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔ یہ لوگ بھلائیوں   میں   جلدی کرتے ہیں   اور یہی سب سے  پہلے انہیں   پہنچے۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہاں   سات مختلف آیاتِ مبارکہ میں   مومنین کی ایسی جامع صفات ذکر فرمائی ہیں   جنہوں  نے اہلِ محاسبہ کے مقامات کو ایک لڑی میں   پَرو دیا ہے اور وہ اہلِ مراقبہ کے احوال کے معانی پر غالب آ گئی ہیں  ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان صفات کا آغاز خشیۃ اور اشفاق سے  کیا اور اختتام وجل و انفاق پر کیا اور ان سب کا موجب یقین کو ٹھہرایا جسکے سبب اہلِ تقویٰ کی نیکیوں   کے اوزان کو ترجیح دی گئی۔ چنانچہ انکی سب سے  آخری صفت ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ (۶۰)  (پ۱۸،  المؤمنون:  ۶۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یوں   کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔

            یعنی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب اپنے لوٹنے کے یقینی ہونے کی وجہ سے  اس سے  ڈرتے رہے اور خوف میں   مبتلا رہے اور انہوں  نے اخلاص کا اظہار کیا اور جان ومال کا نذرانہ پیش کیا جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں   ہے:

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (۲۲۳)  (پ۲،   البقرۃ:  ۲۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے  ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں   اس سے  ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں   کو۔

            پس خائفین کو ملاقات کے وقت خوف سے  امن حاصل ہو گا اور ان کا انجام بہتر ہو گا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   قرب کی بشارت سے  مستفیض ہوں   گے۔

محاسبہ کا طریقہ: 

        محاسبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب دل میں   کوئی خیال پیدا ہو تو بندہ لمحہ بھر توقف کرے اور اس کے بعد دل میں   پیدا ہونے والے خیال یعنی دل کی حرکت اور اضطراب میں   فرق کرنے کی کوشش کرے۔ مراد یہ ہے کہ اپنے جسم میں   تصرف کرے۔ اس طرح کہ اگر دل میں   کھٹکنے والی بات ایسی ہو جو کسی نیت یا عہد یا عزم یا کسی فعل یا ارادے کا تقاضا کرے تو پھر دیکھے کہ اگر وہ خالص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے ہو اور اس کے قرب کے مشاہدہ کا سبب ہو،   نہ کہ اپنے نفس اور خواہش کے قرب کا سبب ہو،   نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کی رضا کے حصول کا باعث بھی ہو اور اس کے ہاں   وہ کام مستحب و مندوب بھی ہو تو اسے  فوراً کر گزرے اور اس کے بجا لانے میں   جلدی کرے،   لیکن اگر وہ خیال کسی دنیاوی غرض کی وجہ سے  یا خواہشِ نفس یا لہو و لعب اور کسی غفلت کی وجہ سے  انسانی طبیعت و جبلت کے باعث دل میں   سرایت کر جائے تو فوراً اس کی نفی کر دے اور اس سے  دور ہونے میں   جلدی کرے بلکہ دل کو اس کی طرف



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے ۔

[2]     جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب من سورۃ المؤمنین، الحدیث:۳۱۷۳، ص۱۹۷۴

[3]     ترجمۂ کنز الایمان: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے، جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔

[4]     الفردوس بما ثور الخطاب، الحدیث: ۵۱۳۱، ج۲، ص۲۰۳بتغیر



Total Pages: 332

Go To