Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        دوسری وصیت  (گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو کہ یہ اسے  مٹا دیتی ہے ) اس فرمانِ باری تعالیٰ میں   مذکور ہے:

وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ (پ۱۳،  الرعد:  ۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں  ۔

        یعنی وہ نیک عمل کر کے برائی دور کرتے ہیں   اور برائی کے فوراً بعد نیک عمل کرتے ہیں   تا کہ وہ اس برائی کا کفارہ بن جائے اور تیسری وصیت اس فرمانِ باری تعالیٰ میں   مذکور ہے:

وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ۱،  البقرۃ:  ۸۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور لوگوں   سے  اچھی بات کہو۔

نیک بنانے والی تین باتیں  : 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نیک بندوں   کی تین باتوں   اور خصلتوں   کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ (۲)  (پ۳۰،  العصر:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  آدمی ضرور نقصان میں   ہے۔

            یعنی انسان اپنے اوقات کے فوت ہو جانے اور نفع کے مفقود ہو جانے کی وجہ سے  نقصان اور خسارے میں   ہے۔ پھر ان لوگوں   میں   سے  چند کو مستثنی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ (۳)  (پ۳۰،  العصر:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

                 (پس یہاں   صالحین کے دو اوصاف یعنی حق اور صبر کی وصیت کرنا بیان کئے گئے)  اور تیسرے وصف کا تذکرہ اس فرمانِ عالیشان میں   کیا: وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ (۱۷)  (پ۳۰،  البلد:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور آپس میں   مہربانی کی وصیتیں   کیں  ۔

 (1) … نفسانی خواہشات کی مخالفت کر کے حق کی پیروی کی جائے تو اس طرح اصلاح ہوتی ہے کیونکہ نفسانی خواہشات کی پیروی و اتباع میں   فساد ہے۔  (2) … صبر ہی کسی معاملہ کی جان اور اصل ہوتا ہے اور جس قدر صبر ہو اسی قدر بندے پر رحم اور مہربانی ہوتی ہے۔  (3) … مخلوق پر رحمت و شفقت کرنا نہ صرف خالق کی رحمت کا دروازہ کھلنے کے مترادف ہے بلکہ حسنِ خلق کی چابی و کنجی بھی ہے جس کے ساتھ حسنِ ظن اور سلامتی ٔ قلب وابستہ ہیں  ،   نیز دل میں   رحمت کی موجودگی کے باعث حسد اور میل کچیل ختم ہو کر عاجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے۔

        صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا یہی وصف تھا کہ جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت کے لئے منتخب فرمایا،   ان پر اطمینان و سکون نازل فرمایا اور رحمت و شفقت سے  ان کی تائید فرمائی۔ چنانچہ،   

            ان کے متعلق ارشادفرمایا:

رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ (پ۲۶،  الفتح:  ۲۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور آپس میں   نرم دل۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے  (سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے )  رحمت کی حقیقت کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۲۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے  ۔

        اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے بھائیوں   سے  ملتے تو اسی صفت سے  متصف ہوتے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے:

اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ (پ۶،   المآئدۃ:  ۵۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مسلمانوں   پر نرم۔

        پس یہ تینوں   اوصاف  (یعنی حق،   صبر اور رحمت)  رقتِ قلبی کا دروازہ کھولنے اور قساوتِ قلبی کا دروازہ بند کرنے کا ذریعہ ہیں  ۔

رقتِ قلبی کے فوائد اور قساوتِ قلبی کے نقصانات: 

            رقتِ قلبی سے  یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں  : ٭… بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور دارِ آخرت کی جانب متوجہ رہتا ہے۔

٭…  احکام کی بجا آوری پر کمر بستہ رہتا ہے۔

٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وعدے اور وعید میں   تدبر و تفکر کرتا ہے۔

            قساوتِ قلبی کے نقصانات یہ ہیں  :

٭…  بندہ بارگاہِ خداوندی سے  اعراض کرنے لگتا ہے اور ٭…  طویل غفلت کی وادیوں   میں   کھو جاتا ہے۔

        پس محاسبۂ نفس ورع و تقویٰ کے ذریعے،   موازنہ کی دولت عین الیقین کے مشاہدے سے  اور سب سے  بڑی پیشی کی خاطر خود کو نیک اعمال سے  مزین کرنے کی سوچ مالک اکبر عَزَّ



Total Pages: 332

Go To