Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تذکرہ فرمایا ہے انہوں  نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوجامع بغداد کا واعظ ضرور قرار دیا ہے۔ حالانکہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شیخ حضرت سیِّدُنا ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم صرف خاص لوگوں   سے  ہی کلام کرتے تھے اور عام لوگوں   کو علم و عرفان کی دولت کا اہل نہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ،   

آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قوت القلوب میں   اپنے شیخ حضرت سیِّدُنا ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے متعلق لکھتے ہیں   کہ ایک بار مسجد میں   کافی لوگ جمع ہو گئے اور انہوں  نے ایک شخص کو حضرت سیِّدُنا ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کی خدمت میں   یہ عرض کرنے بھیجا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اصحاب مسجد میں   موجود ہیں   اور آپسے  ملنا اور آپ کی باتیں   سننا چاہتے ہیں  ،   اگر مناسب خیال فرمائیں   تو ان کے پاس چلئے۔ مسجد ان کے گھر کے قریب ہی تھی،   ابھی قاصد ان کی خدمت میں   حاضر بھی نہ ہوا تھا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گھر سے  باہر تشریف لائے اور قاصد سے  پوچھا: ’’یہ کون لوگ ہیں  ؟ ‘‘  اسنے بتایا کہ فلاں   فلاں   اور فلاں   ہیں  تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’یہ میرے اصحاب نہیں  ،   بلکہ یہ تو اصحابِ مجلس ہیں  ۔  ‘‘  یہ کہا اور ان کے پاس نہ گئے،   گویا کہ انہوں  نے ان تمام لوگوں   کو عام افراد شمار کیا جو ان کے خاص علم کے قابل نہ تھے۔  (صاحب قوت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بطوردرس ارشاد فرماتے ہیں  )  اسی طرح عالم اپنی خلوت کو عزیز سمجھتا ہے،   ہاں   اگر خاص رفقا میسر ہوں   تو پھر ان کی صحبت کو خلوت پر ترجیح دیتا ہے۔ اس طرح وہ عالم ان خاص افراد کے ایمان میں   زیادتی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اگر اسے  ایسے  خاص افراد کی ہم نشینی میسر نہ ہو تواپنی خلوت پر کسی کو ترجیح نہیں   دیتا۔ حالانکہ حضرت سیِّدُنا ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم اپنے خاص اصحاب کے پاس ضرورتشریف لاتے اور جنہیں   اپنے علم کے موزوں   خیال کرتے انکے پاس بیٹھ کر علمی باتیں   کرتے۔  ([1])

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِمنے سلسلہ سہیلیہ کے بانی حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد سہل تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے زیرِ تربیت راہِ سلوک کی منزلیں   طے کی تھیں   جو مجاہدۂ نفس اور ریاضت شاقہ سے  اپنے مریدوں   کو درجۂ کمال تک پہنچا دیتے تھے۔ پس یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی پر حضرت سیِّدُنا شیخ ابومحمد سہل تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تربیت کے گہرے نقوش ثبت رہے اور بعد میں   اسی تربیت کا اثر حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے واسطہ سے  حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی حیاتِ طیبہ پر بھی دیکھنے میں   آیا۔ چنانچہ،  آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قوت القلوب میں   حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  مروی بہت سے  اقوال میں   سے  ایک قول کچھ یوں   نقل فرمایا ہے کہ عالم کے پاس تین قسم کے علوم ہوتے ہیں  ۔ ایک علم ظاہر ہے جس کا اظہار وہ عام لوگوں   پر کرتا ہے اور دوسرا علم باطن ہے،   اس کا اظہار اہلِ باطن کے سوا کسی سے  کرنا جائز نہیں  اور تیسرا علم بندے اور اس کے خالق کے درمیان رازہے جو بندے کے ایمان کی حقیقت پر دلالت کرتا ہے اور اس کا اظہار عام لوگوں   کے سامنے درست ہے نہ خاص لوگوں   کے سامنے۔  ([2])

بطورِ واعظ تعلیمات اور مخالفت کا سامنا: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی حیاتِ طیبہ پر بطورِ واعظ نگاہ ڈالی جائے تو اس بات کو سمجھنا زیادہ دشوار نہ ہو گا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مواعظِ حسنہ کا موضوع سخن کیسا ہو گا۔ کیونکہ آپ کے دور میں   جس طرح لوگ اسلاف کے طور طریقوں   سے  منہ موڑ کر دنیاوی فراوانی کے سیلاب میں   بہے چلے جا رہے تھے،   ہر طرف طوائف الملوکی  ( بدنظمی،   ابتری،   سیاسی انتشار،   لاقانونیت)  کا عالم تھا،   خلافت عباسیہ کی وحدت ختم ہونے کو تھی،   خلیفہ وقت وزرا کے ہاتھوں   کٹھ پتلی بنا ہوا تھا،   بہت سے  امرا و سلاطین اپنے اپنے علاقوں   میں   الگ الگ سلطنتوں   کے مالک تھے،   جو اپنی من مانی کرتے،   کوئی کسی کو جوابدہ نہ تھا،   وہ ہر وقت دوسروں   کے علاقے میں   گھس کر انہیں   بیدخل کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی تگ و دو میں   مصروف رہتے،   باطل فرقے قوت پکڑتے چلے جا رہے تھے،   لہٰذا افراتفری کے اس عالم میں   ضرورت اس امر کی تھی کہ کوئی مردِ قلندر لوگوں   کے ضمیر کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر انہیں   راہِ حق کی طرف گامزن کر دے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے خواہی نخواہی وعظ و نصیحت کا یہ عظیم بیڑا اٹھا لیا کیونکہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہ صرف اسلاف کے احوال سے  بخوبی آگاہ تھے بلکہ صالحین کے بے شمار اقوال بھی آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خزینۂ دل میں   موتیوں   کی طرح جگمگا رہے تھے۔ پس آپ نے دلوں   کی طہارت اور نیتوں   کے اخلاص کے ساتھ ساتھ ہر معاملے و مسئلے میں   سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے طریقوں   کو بیان کیا اور دنیاوی چمک دمک کے سیلاب میں   ہچکولے کھاتی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری امت کی کشتی کو ایک ماہر ملاح کی طرح چلانے کی کوشش شروع فرمائی تو شمع حق کے دیوانے ہر طرف سے  پروانہ وار آپ کی بارگاہ میں   حاضر ہونے لگے،   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گرد روز بروز پروانوں   کا یہ بڑھتا ہوا کثیر ہجوم بعض جاہ و حشمت کے متوالوں   کو ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں  نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلاف ایک محاذ بنا لیا اور آپ کی جانب مختلف قسم کی غلط باتیں   منسوب کرنے لگے تا کہ لوگوں   کو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  دور کیا جا سکے۔ چنانچہ وہ سیاق و سباق کو حذف کر کے آپ کی بیان کردہ باتیں   لوگوں   کو بتانے لگے اس طرح حقیقت سے  ناواقف لوگوں  نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  دور ہونے میں   ہی عافیت جانی اورجب آپ کو معلوم ہوا کہ بعض نااندیش آپ کے خلاف اس قسم کی افواہیں   پھیلا رہے ہیں   تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مسلمانوں   کو اپنے بارے میں   مزید غلط فہمیوں   کا شکار ہونے سے  بچانے کے لیے وعظ و نصیحت کی دنیا ترک کر دی اور سلف صالحین کے طریقے پر چلتے ہوئے دنیا اور دنیا والوں   سے  دور رہنے ہی میں   عافیت جانی۔

اعلیٰ حضرت اور شیخ ابو طالب مکی: 

اعلیٰ حضرت،   امام اہلسنت،   مجدد دین و ملت،   پروانۂ شمع رسالت،   مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰننے اپنے شہرہ آفاق فتاویٰ رضویہ شریف میں   کئی مقامات پر حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے اقتباسات بطورِ دلیل نہ صرف نقل فرمائے ہیں   بلکہ جس انداز میں   آپ کے القابات ذکر کیے ہیں   انہیں   پڑھ کر دل بے اختیار جھوم جاتا ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا نام نامی فتاویٰ رضویہ شریف میں   متفرق مقامات پر ذکر کرتے ہوئے کچھ یوں   فرماتے ہیں  : 

 



[1]     قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، ج۱، ص۲۶۷

[2]     قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون، ج۲، ص ۱۴۸



Total Pages: 332

Go To