Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

امانت واپس لوٹا دے۔

            امانت کی حفاظت یہ بھی ہے کہ اسے  چھپایا جائے،   اگر بلا ضرورت اسے  ظاہر کیا جائے تو یہ خیانت ہو گی کیونکہ امانت رکھوانے والا یہ پسند نہیں   کرتا کہ اس کی امانت ظاہر کر دی جائے اور کسی مخفی شے کی حقیقی حفاظت یہ ہے کہ اسے   (کہیں   رکھ کر)  بھلا دیا جائے اور اس کا ضیاع یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی جگہیں   بکثرت ہوں  ۔ پس روزہ دار کی حقیقت بھی یہی ہے کہ وہ اپنے روزے کو سرے سے  بھول ہی جائے اور کسی خاص وقت کا انتظار نہ کرتا رہے کہ جو اسے  موجودہ وقت سے  غافل کر دے۔

٭٭٭

فصل:  23

محاسبۂ نفس کا بیان

        اس فصل میں   نفس کا محاسبہ کرنے اور وقت کی قدر کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ (۴۷)  (پ۱۷،  الانبیآء:  ۴۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم عدل کی ترازوئیں   رکھیں   گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے  لے آئیں   گے اور ہم کافی ہیں   حساب کو۔

            ایک جگہ محاسبۂ نفس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:

یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ (۶)  (پ۳۰،  الزلزلۃ:  ۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں   گے کئی راہ ہو کر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں  ۔

سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نصیحت: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وصال کے وقت امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  ارشاد فرمایا: ’’حق اگرچہ بہت بھاری ہے مگر بھاری پن کے باوجود انتہائی خوشگوار ہے اور باطل اگرچہ ہلکا ہے مگر بیماری و آفت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا جو حق دن کا ہے رات کو قبول نہیں   فرماتا اور جو رات کا ہے دن کے وقت قبول نہیں   کرتا،   اگر آپ نے تمام لوگوں   پر عدل کیا لیکن ان میں   سے  صرف ایک شخص پر ظلم کیا تو آپ کے ظلم کا پلڑا عدل سے  وزنی ہو جائے گا،   اگر آپ نے میری نصیحت یاد رکھی تو موت سے  بڑھ کر کوئی شے آپ کو محبوب نہ ہو گی،   وہ یقیناً آنے والی ہے اور اگر آپ نے میری نصیحت کو ضائع کر دیا تو موت سے  بڑھ کر کوئی شے آپ کے نزدیک ناپسندیدہ نہ ہو گی،   آپ اسے  خود سے  دور کرنے سے  عاجز ہیں  ۔ ‘‘   ([1])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور محاسبۂ نفس:

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمان ہے: ’’خود اپنا محاسبہ کر لو اس سے  پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور اپنے اعمال کا وزن کئے جانے سے  پہلے خود ہی ان کا وزن کر لو،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور پیش ہونے والے سب سے  بڑے دن کے لئے خود کو تیار کر لو کہ جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کچھ بھی مخفی نہ رہے گا،   بے شک  آخرت میں   اسی قوم کا حساب آسان ہو گا جس نے دنیا ہی میں   اپنا محاسبہ کیا اور اسی قوم کے نامۂ اعمال کے وزن روزِ قیامت وزنی ہوں   گے جس نے دنیا میں   اپنے نفوس کے اعمال کا وزن کیا ہو گا،   میزان کا حق یہ ہے کہ اس میں   سوائے حق کے کچھ نہ رکھا جائے جو بھاری ہی ہو گا۔ ([2])

 حقیقی زُہد: 

            محاسبۂ نفس ورع و تقویٰ سے  پیدا ہوتا ہے،   اعمال کا وزن کرنے کی صلاحیت مشاہدۂ یقین سے  حاصل ہوتی ہے اور روزِ قیامت آراستہ و پیراستہ ہو کر بارگاہِ رب العزت میں   پیش ہونے کی لگن اُس بادشاہِ حقیقی  (یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ )  کے خوف اور ڈر سے  حاصل ہوتی ہے اور یہی حقیقی زہد ہے۔

نیکی،   گناہ مٹا دیتی ہے: 

            حضورنبی ٔپاک ،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  ارشاد فرمایا: ’’جہاں   بھی رہواللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  ڈرا کرو،   گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو کہ یہ اسے  مٹا دیتی ہے اور لوگوں   سے  خوش خلقی سے  ملا کرو۔ ‘‘  ([3])

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  مجھے نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مذکورہ وصیت قرآنِ کریم میں   مختلف جگہ نظر آئی۔ چنانچہ، 

            پہلے قول  (جہاں   بھی رہواللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  ڈرا کرو )  کے بارے میں   فرمانِ باری تعالیٰ ہے: 

وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-   (پ۵،  النسآء:  ۱۳۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے  جو تم سے  پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے  ڈرتے رہو۔

 



[1]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب المغازی، باب ما جاء فی خلافۃ عمر بن الخطاب، الحدیث: ۱، ج۸، ص۵۷۴

[2]     جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث الکیس     الخ، الحدیث: ۲۴۵۹، ص۱۸۹۹مختصراً

[3]     جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی معاشرۃ الناس، الحدیث: ۱۹۸۷، ص۱۸۵۱



Total Pages: 332

Go To