Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ایک جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِؕ- (پ۶،  المآئدۃ:  ۴۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور۔

        اور دوسری جگہ ارشادفرمایا:

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ- (پ۶،  المآئدۃ:  ۶۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: انہیں   کیوں   نہیں   منع کرتے اُن کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے ۔

روزے کا حکم: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدوں   کا لحاظ رکھنے والا کوئی بندہ اگر  (کسی عذر کی وجہ سے )  روزہ نہ رکھ پائے کہ جس میں   کھانا اور جماع منع ہے تب بھی فضیلت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   فرمانبردار و تابعدار ہونے کی وجہ سے  روزہ دار ہی شمار ہو گا لیکن جو شخص روزہ رکھے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدود سے  تجاوز کرے اور ان کو ضائع کرے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   روزہ رکھنے والا شمار نہیں   ہوتا،   بھلے اپنے گمان میں   روزہ دار ہی ہو کیونکہ اس نے جو ضائع کر دیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   بہت محبوب تھا اور اس سے  بھی بڑھ کر تھا جس کی اس نے حفاظت کی۔

اعضا ء کا روزہ: 

        جس شخص نے کھانے سے  رکنے کا روزہ رکھا لیکن دوسرے اعضائے جسمانی کے ذریعے امورِ شرعیہ کی مخالفت کرکے افطار کر دیا اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے وضو کرتے وقت ہر ہر عضو کا تین تین مرتبہ مسح کر کے نماز پڑھی۔ یعنی اس نے محض اعضاء کے دھونے کی تعداد پوری کی مگر دھونے کا فرض چھوڑ دیا۔ پس اس کی نماز اس کی جہالت کی وجہ سے  مردود ہو گی جبکہ وہ اس دھوکے میں   مبتلا ہے کہ اسنے نماز ادا کر لی ہے۔

        اسی طرح جو شخص کھانے سے  رکنے کا روزہ نہ رکھے لیکن اس کے اعضاء منع کردہ اشیاء سے  رکنے کا روزہ رکھے ہوئے ہوں   تو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے وضو کرتے وقت ہر ہر عضو کو صرف ایک ایک مرتبہ دھویا،   پس وہ تعداد پوری نہ کرنے کی فضیلت چھوڑنے والا اور فرض کی تکمیل کرنے والا ہے اور عمل کے اعتبار سے  محسن ہے۔ اس کی نماز اصل کو مضبوط کرنے اور اپنے علم کے مطابق عمل کرنے کی وجہ سے  مقبول ہے اور اس شخص کی مثال جس نے کھانے اور جماع سے  روزہ رکھا اور اپنے اعضاء کو بھی گناہوں   سے  محفوظ رکھا اس شخص جیسی ہے جو وضو کرتے وقت ہر ہر عضو کو تین تین مرتبہ کامل دھوئے۔ پس اس نے فرض کو بھی مکمل طور پر ادا کیا اور کامل فضیلت پانے والا بھی شمار ہو گا۔ چنانچہ،   

            اسی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ (پ۸،  الانعام:  ۱۵۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پورا احسان کرنے کو اس پر جو نکوکار ہے۔

        رسولِ اَکرم،   شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وضو کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’یہ میرا اور مجھ سے  پہلے انبیائے کرام  (عَلَیْہِمُ السَّلَام )  اور میرے باپ حضرت ابراہیم  (عَلَیْہِ السَّلَام )  کا وضو ہے۔ ‘‘   ([1])

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ-  (پ۱۷،  الحج:  ۷۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔

        مراد یہ ہے کہ تم پر ملتِ ابراہیمی کو تھامے رکھنا لازم ہے پس انہیں   اپنا امام بنا لو اور ان کی اِقتدا کرو۔ چنانچہ،   مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’شکر ادا کرتے ہوئے کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہوتا ہے۔ ‘‘  ([2])

 

آدم خور عورتیں : 

        سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں   دو عورتوں  نے روزہ رکھا،   دن کے آخری حصے میں   انہیں   بھوک اور پیاس کی شدتنے تھکا دیا یہاں   تک کہ وہ ہلاکت کے قریب ہو گئیں   تو انہوں  نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِ بابرکت میں   پیغام بھیجا کہ انہیں   افطار کی اجازت عطا فرما دیجئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی طرف ایک پیالہ بھیجا اور ارشاد فرمایا:  ’’ان دونوں   سے  کہو کہ اس میں   قے کریں   جو انہوں  نے کھایا ہے۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ ان میں   سے  ایک نے تازہ خون اور گوشت کی قے کر کے پیالے کو نصف بھر دیا اور پھر دوسرینے بھی اسی طرح قے کی یہاں   تک کہ پیالہ بھر گیا،   لوگوں   کو اس سے  تعجب ہوا تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ان دونوں  نے اس شے سے  روزہ رکھا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے لئے حلال ٹھہرائی تھی لیکن اس شے سے  افطار کر دیا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر حرام قرار دی تھی،    (ہوا یوں   کہ)  ایک دوسری کے



[1]     سنن ابن ماجہ، ابواب الطھارۃ، باب ما جاء فی الوضوء مرۃ و مرتین و ثلاثا، الحدیث: ۴۱۹۴۲۰، ص۲۵۰۲

[2]     سنن ابن ماجہ، ابواب الصیام، باب فیمن قال الطاعم الشاکر کالصائم الصابر، الحدیث: ۱۷۶۴، ص۲۵۸۲



Total Pages: 332

Go To