Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کروں   تو تیری بارگاہ میں   عاجزی وانکساری کروں  ۔ ‘‘  ([1])

صومِ داودی کی فضیلت: 

                شہنشاہِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بہترین روزے میرے بھائی حضرت داود  (عَلَیْہِ السَّلَام )  کے ہیں  ،   وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے۔ ‘‘  ([2])

            منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ماہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  جب یہ عرض کی کہ میں   اس سے  بھی زیادہ فضیلت والے روزے رکھنا چاہتا ہوں   تو سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔ ‘‘  تو انہوں  نے عرض کی کہ میں   اس سے  بھی افضل روزے رکھنے چاہتا ہوں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ اس سے  افضل روزے نہیں   ہیں۔ ‘‘  ([3])

30 روزوں   سے  افضل روزہ : 

        صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ذُو الْحَجَّۃُ الْحَرَام کا ایک روزہ دوسرے مہینوں   کے 30 روزوں   سے  افضل ہے اور رمضان المبارک کا ایک روزہ ماہِ حرام کے 30 روزوں   سے  افضل ہے۔ ‘‘   ([4])

700سال کی عبادت کا اجرو ثواب: 

        سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو شخص ماہِ حرام  (ذُو الْحَجَّۃُ الْحَرَام)  میں   تین دن یعنی جمعرات،   جمعہ اور ہفتہ کے دن روزہ رکھتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے ہر دن کے بدلے 700 سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے۔ ‘‘   ([5])

سرکار صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم کے روزے: 

                سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رمضان المبارک کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ روزے نہ رکھتے تھے بلکہہر مہینے کچھ دن روزے نہ رکھتے اور ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شعبان المعظم کے روزوں   کو رمضان المبارک کے روزوں   سے  ملا دیا مگر کئی مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رمضان المبارک کے روزوں   کو شعبان المعظم کے روزوں   سے  جدا ہی رکھا  (یعنی آخر ماہ میں   روزہ نہ رکھا)    ([6])

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے روزہ رکھنے کے جو مختلف انداز بیان کئے ہیں   وہ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی ایک جماعت کا طریقہ رہا ہے اور ان میں   سے  ہر طریقے کی فضیلت میں   کثیر روایات مروی ہیں   اور اسی طرح جو کچھ ہم مزید ذکر کریں   گے اس کی فضیلت بھی کثیر روایات میں   مروی ہے یعنی رات دن میں   قلب اور دوسرے اعضائے جسمانی کے اعمال یا ایمان اور اہلِ یقین کے اوصاف وغیرہ۔ ہمارا مقصود ان بہت سی روایات کو بیان کرنا نہیں   اور نہ ہی ہمارا طریقہ نیک اعمال کے فضائل بیان کرنا ہے،   بلکہ ہم تو اچھے عمل کرنے والوں   کے دلوں   کو مہذب بنانا چاہتے ہیں   تا کہ دلوں   کی طہارت اور ایمان کی حقیقت کے ذریعے اعمال پاکیزہ ہوں   اور نیک اعمال بجا لانے والوں   کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل ہو کیونکہ اس بلند و برتر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کے سوا نہ تو کسی میں   نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی قدرت۔

اہلِ یقین کا روزہ: 

            روزہ داروں   کے ہاں   روزے سے  مراد جسم کا روزہ ہوتا ہے مگر اہلِ یقین کے روزے سے  مراد دل کو دنیاوی افکار اور غلط ارادوں   سے  روکے رکھنا ہے،   اس کے بعد کان،   آنکھ اور زبان کا روزہ یہ ہے کہ ان اعضاء کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدود سے  تجاوز کرنے سے  روکا جائے اور ہاتھ اور پاؤں   کا روزہ یہ ہے  ([7]) کہ وہ بھی غلط کاموں   سے  باز رہیں۔

روزہ دار کی نیند: 

            جس نے مذکورہ اوصاف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے روزہ رکھا اس نے کامل وقت پا لیا اور وہ دن کی ہر ساعت میں  سے  کچھ وقت پانے والا ہو گیا اس حال میں   کہ اسنے اپنے تمام دن کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے  معمور کر دیا،   پس اس جیسے  شخص کے متعلق منقول ہے کہ’’روزہ دار کی نیند عبادت اور اس کی سانس تسبیح ہے۔ ‘‘   ([8])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے باطل کے سننے اور بری باتیں   کرنے کا تذکرہ اَکْلِ حَرَام  (حرام خوری)  کے ساتھ ملا کر کیا ہے،   پس اگر سنی جانے والی باتیں   سننے والے پر اور کہی جانے والی باتیں   کہنے والے پر حرام نہ ہوتیں   تو ان دونوں   کا تذکرہ قرآنِ کریم میں   اَکْلِ حَرَام  (حرام خوری)  کے ساتھ نہ کیا جاتا جو کہ گناہِ کبیرہ ہے۔ چنانچہ، 

 



[1]     جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ما جاء فی الکفاف و الصبر علیہ، الحدیث: ۲۳۴۷، ص۱۸۸۷مفھوماً

[2]     صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم الدھر، الحدیث: ۱۹۷۶، ص۱۵۴مفھوماً

[3]     المرجع السابق

[4]     المعجم الصغیر للطبرانی، الحدیث: ۹۶۰، ج۲، ص۷۱مختصراً

[5]     تاریخ مدینہ دمشق، الرقم ۲۲۹۰ زھیر بن محمد بن یعقوب، الحدیث: ۴۴۰۴، ج۱۹، ص۱۱۶

[6]     صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب ما یذکر من صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم و افطارہ، الحدیث: ۱۹۷۱، ص۱۵۴

سنن ابی داود، کتاب الصیام، باب فیمن یصل شعبان برمضان، الحدیث: ۲۳۳۶، ص۱۳۹۷۔ و باب اذا اغمی الشھر، الحدیث: ۲۳۲۵، ص۱۳۹۶

[7]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ فیضانِ سنّت ‘‘ جلد اوّل کے صَفْحَہ 969 تا 980 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے جسمانی اعضاء یعنی ہاتھ پاؤں اور آنکھ وغیرہ کے روزہ کی تفصیلات ذکر کی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ان صفحات کا مطالعہ کیجئے۔

[8]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۲۹۳ کرز بن وبرۃ الحارثی، الحدیث: ۶۴۶۱، ج۵، ص۹۶



Total Pages: 332

Go To