Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

نہ رکھے،   اس صورت میں   سال کا ایک تہائی روزہ رکھنے والا شمار ہو گا۔

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  یہ روزہ داروں   کے روزہ رکھنے کے مختلف طریقے ہیں   اور ان کے فضائل کے متعلق مروی روایات ہم نے حذف کر دی ہیں   اور  (۵)  اگر ہر مہینے کی ابتدا،   وسط اور آخر میں   تین تین دن روزہ رکھے تو یہ بھی بہتر ہے لیکن  (۶)  اگر ہر پیر،   جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھے تو یہ بہت زیادہ بہتر ہے  (۷)  اور کم از کم ایامِ بیض ([1]) اور ہر ماہ کی ابتدا و انتہا میں   ایک ایک روزہ تو ضرور رکھے۔

افضل روزے: 

            حرمت والے مہینوں   میں   روزے رکھنا سب سے  زیادہ باعثِ فضیلت ہے اور جن روزوں   کی فضیلت مروی ہے ان میں   محرم الحرام اور ذی الحجۃ الحرام کے ابتدائی عشرے کے روزے ہیں   اور اس کے بعد شعبان المعظم کے روزوں   کی فضیلت سب سے  زیادہ مروی ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس مہینے میں   مسلسل ماہِ رمضان تک کثرت سے  روزے رکھا کرتے تھے۔ ([2])

            البتہ ہر مہینے میں   کوئی بھی شخص تین دن روزے رکھنا ترک نہ کرے بلکہ پیر اور جمعرات کے روزے تو ہمیشہ رکھا کرے۔ چنانچہ مروی ہے کہ پیکرِ عظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ رمضان المبارک کے بعد سب سے  زیادہ فضیلت والے روزے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مہینے محرم الحرام کے ہیں  ۔ ‘‘   ([3])

صومِ دہر کا حکم:

علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت نے صومُ الدَّھْر  ([4]) کو مکروہ قرار دیا ہے۔ لیکن اگر صومِ دہر سے  

 کسی کا مقصود اپنے دل کی اصلاح اور نفس کو انکسار کا پیکر بنانا اور دُرُستی ٔحالت ہو تو چاہئے کہ ایسا شخص روزے رکھا کرے کہ اس صورت میں   اس پر روزے رکھنا لازم ہے بشرطیکہ صومِ دہر میں   اسے  تقویٰ و اصلاح حاصل ہو۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جو صائم الدہر ہو اس پر جہنم تنگ ہو جاتی ہے۔ ‘‘  اور اس کے ساتھ ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیوں   سے  90 کا اشارہ کیا  (یعنی شہادت کی انگلی کو انگوٹھے کی جڑ سے  ملا دیا) ۔  ([5])

            اس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم میں   اس کے لئے کوئی جگہ نہیں   ۔ صومِ دہر کی فضیلت پر بہت سی روایات مروی ہیں   اور سلف صالحین یعنی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت کے متعلق مروی ہے کہ وہ صائم الدہر تھے۔ ہاں   اگر کوئی شخص سنت پر عمل نہ کرے اور افطار کی رخصت کا خیال نہ رکھے تو اس کے لئے صومِ دہر مکروہ ہے کیونکہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دین میں   وسعت کا حکم دیا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنی دی گئی رخصت پر عمل کرنا پسند فرماتا ہے جیسا کہ وہ عزیمت پر عمل کرنے کو پسند فرماتا ہے۔ ([6])  اور ایک روایت میں   ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اپنی دی ہوئی رخصتوں   پر عمل کرنا پسند فرماتا ہے اور نافرمانی پسند نہیں   کرتا۔ ([7])

صومِ نصف الدہر کی فضیلت: 

        صومِ نصف الدہر یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت پر کثیر احادیث مروی ہیں  ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بندہ دو حالتوں   کے درمیان رہے یعنی حالتِ صبر اور حالتِ شکر۔ چنانچہ،   

        مروی ہے کہ سرورِ دو جہاں  ،   مالکِ کون و مکاں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مجھ پر دنیا کے خزانوں   اور زمین کے دفینوں   کی چابیاں   پیش کی گئیں   لیکن میں  نے انہیں   لوٹا دیا اور عرض کی کہ میں   ایک دن بھوکا رہنا اور ایک دن کھانا کھانا پسند کرتا ہوں   تا کہ جب شکم سیر ہوں   تو اے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! تیرا شکر ادا کروں   اور جب بھوک محسوس



[1]     ایامِ  بِیْض چاند کی ۱۳،۱۴ اور ۱۵ تاریخ   کو کہتے ہیں ۔ (فیضانِ سنت، ج۱، ص ۱۴۰۵)

[2]     سنن ابی داود، کتاب الصیام، باب فی صوم شعبان، الحدیث: ۲۴۳۱، ص۱۴۰۳

[3]     صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، الحدیث: ۲۷۵۵، ص۸۶۶

[4]     فقیہ اعظم ہند،شارح بخاری حضرت مولانامفتی محمدشریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (مُتَوَفّٰی۱۴۲۱ھ) فرماتے ہیں: ’’صیام ابد۔ اسی کوصیام دہر بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سال بھر تک بلاناغہ (ممنوع روزوں کے علاوہ) لگاتار روزے رکھے جائیں اور رات میں کھایا پیا جائے اور صوم وصال سے مراد یہ ہے کہ رات میں بھی کچھ کھایا پیا نہ جائے اگرچہ دو چار روز ہی ہو۔ یہ جو ارشاد فرمایا: جسنے صوم ابد رکھا، اسنے روزہ نہیں رکھا۔ اس سے مراد یہ ہے جب وہ لگاتار روزے رکھے گا تو اس کی طبیعت روزے کی عادی ہو جائے گی۔ دن میں کھانے پینے کی خواہش نہ ہو گی۔ روزے میں جو مشقت ہوتی ہے۔ وہ نہ ہو گی۔ تو ایسا ہے گویا اسنے روزہ ہی نہ رکھا۔یہ خبرہے اوراگراس خبرکونہی کے معنی میں مانیں تویہ ارشادان لوگوں کے لئے ہے کہ جنہیں مسلسل روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کاظن غالب ہو کہ اتنے کمزورہوجائیں گے کہ جوحقوق ان پرواجب ہیں ان کوادانہیں کرپائیں گے خواہ وہ حقوق دینی ہوں یادنیوی ۔مثلاًنماز،جہاد،بچوں کی پرورش کے لئے کمائی اوراگرمسلسل روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کاظن غالب ہوکہ حقوق واجبہ توکماحقہ اداکرلیں گے ۔مگرحقوق غیرواجبہ اداکرنے کی قوت نہیں رہے گی ۔ ان کے لئے روزہ مکروہ یاخلاف اولیٰ ہے اورجنہیں اس کاظن غالب ہوکہ صوم دہررکھنے کے باوجودتمام حقوق واجبہ ،مسنونہ ،مستحبہ، کماحقہ اداکرلیں گے ان کے لئے کراہت بھی نہیں ۔بعض صحابۂ  کرام جیسے ابوطلحہ انصاری اورحمزہ بن عمرواسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  صوم دہر رکھتے تھے اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں منع نہیں فرمایا۔ اسی طرح بہت سے تابعین اوراولیائے کرام (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام ) سے بھی صوم دہر رکھنا منقول ہے۔ (نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب الصوم ،باب صوم داود علیہ السلام،ج۳،ص۳۸۶)

[5]     صحیح ابنِ خزیمۃ، کتاب الصیام، باب فضل صیام الدھر   الخ، الحدیث: ۲۱۵۴، ج۳، ص۳۱۳

[6]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۲۸۲، ج۴، ص۳۷۱

[7]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث: ۵۸۷۸، ج۲، ص۳۹۴



Total Pages: 332

Go To