Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            روزے میں   مجاہدۂ نفس،   ترکِ لذات و عادات پر مدد ملتی ہے اور اس میں   نفس کو کمزور کرنا اور اس کی خواہشات کو ختم کرنا مقصود ہوتا ہے۔ پس یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے محض روزے کی فضیلت بیان کرنے کے لئے اس کی جزا کی نسبت خاص اپنی جانب کی جیسا کہ قرآنِ کریم میں   ایک جگہ ارشاد فرمایا:

وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ (۱۸)  (پ۲۹،  الجن:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یہ کہ مسجدیں   اللہ ہی کی ہیں   تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔

        اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ٘- (پ۲۰،  النمل:  ۹۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں   اس شہر کے رب کو جس نے اسے  حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے۔

                اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   سب سے  پسندیدہ گھر مساجد ہیں   اور مکہ مکرمہ زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا   اس کے ہاں   سب سے زیادہ فضیلت والا شہر ہے،   لیکن اسنے ان کی نسبت اپنی جانب فرمائی حالانکہ ہر شے اسی کی ہے۔ اسی طرح روزہ بھی اس کے نزدیک تمام اعمال میں   سب سے  زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے جس کی وجہ اس میں   اخلاقِ صمدیت میں   سے  ایک خُلق کا پایا جانا  (یعنی کھانے پینے سے  بے نیاز ہونا)  ہے اور اس کا ایک پوشیدہ و مخفی عمل ہونا ہے جس سے  سوائے اس کے کوئی آگاہ نہیں  ۔ پس ان وجوہات کی بنا پراللہ عَزَّ وَجَلَّنے روزے کی نسبت اپنی جانب فرمائی۔

روزے میں   قصاص نہیں  : 

            منقول ہے کہ  (بروزِ قیامت)  ابنِ آدم کے ہر عمل میں   قصاص لیا جائے گا اور اس کا ہر عمل مظالم پورے کرنے کے سبب ختم ہو جائے گا سوائے روزے کے کیونکہ اس میں   کسی قسم کا قصاص نہیں  ۔ بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا:  ’’یہ خاص میرے لئے ہے اور اس میں   سے  کوئی بھی قصاص نہیں   لے سکتا۔ ‘‘  اور ایک قول میں   ہے کہ’’روزے کے سوا ہر عمل کا اجرو ثواب معلوم ہے کیونکہ کوئی بھی انسان نہیں   جانتا کہ اس کی جزا کیا ہے؟ بلکہ اس کا اجر بغیر حساب کے عطا کیا جائے گا اور خوب خوب نوازا جائے گا۔ ‘‘  چنانچہ،   

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۱۷)  (پ۲۱،  السجدۃ:  ۱۷) )   ([1]) کی تفسیر میں   منقول ہے کہ ان لوگوں   کا عمل روزہ ہو گا اور  (سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۱۲میں)   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (السَّآئِحُوْنَ)  سے  بھی ایک قول کے مطابق روزہ دار ہی مراد ہیں  ۔  ([2])  گویا کہ وہ اپنی بھوک اور پیاس لے کر اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور انہوں  نے دنیاوی سازو سامان یعنی اپنے کھانے پینے جیسی آنکھوں   کی ٹھنڈک تک ترک کر دی تو ان کے آقا و مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں   مخفی جائے پناہ عطا فرمائی یعنی انہیں   ان کے عمل کی جزا کے سبب آنکھوں   کی ٹھنڈک جیسی نعمت سے  نوازا جو مخفی ہے۔

روزہ صَبْر اورذِکْر  کا نام ہے:

        ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (۱۰)  (پ۲۳،  الزمر:  ۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: صابروں   ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔

            ایک قول کے مطابق یہاں   بھی صابرین سے  مراد روزہ دار ہی ہیں۔ روزے کا ایک نام صبر بھی ہے۔ پس جب بندےنے روزے کا معاملہ اپنے دل میں   مخفی رکھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی اس کی جزا اپنے پاس مخفی رکھی۔ ([3])

            شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ جو مجھے اپنے جی میں   یاد کرتا ہے میں   اسے  جی میں   یاد کرتا ہوں  ۔ ‘‘   ([4]) پس روزہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر ہی ہے مگر یہ ایک سِرّ  (یعنی بھید،   راز)  ہے۔

روزہ رکھنے کے مختلف انداز: 

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  میں   کسی بندے کے لیے اس بات کو اچھا نہیں   سمجھتا کہ قربانی کے چار دنوں   سے  بڑھ کر روزہ نہ رکھے کیونکہ روزہ نہ رکھنے سے  قساوتِ قلبی پیدا ہوتی ہے،   حالت بدل جاتی ہے،   غلط عادات پیدا ہوتی اور شہوات جنم لیتی ہیں  ،   نیز لگاتار چار دن سے  زائد روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے نہ اسے  مستحب قرار دیا گیا ہے اور وہ چار دن یہ ہیں   یعنی قربانی کا ایک دن اور تین دن ایامِ تشریق ([5])   کے۔

            البتہ مستحب یہ ہے کہ  (۱)  ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے  (۲)  یا دو دن لگاتار روزہ رکھ لے اور اگلے دو دن نہ رکھے،   اس طرح وہ سال کا نصف حصہ روزہ رکھنے والا شمار ہو گا،   لیکن اگر یہ پسند کرے تو  (۳)  دو دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے،   اس صورت میں   سال کا دو تہائی حصہ روزہ دار شمار ہو گا اور  (۴)  اگر چاہے تو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چُھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔

[2]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصیام، فضائل الصوم، تحت الحدیث: ۳۵۸۲، ج۳، ص۲۹۶

[3]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصیام، فضائل الصوم، تحت الحدیث: ۳۵۸۲، ج۳، ص۲۹۶مفھوماً

[4]     صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ (ویحذرکم اللہ نفسہ) ال عمران ۲۸، الحدیث: ۷۴۰۵، ص۶۱۶

[5]     یومِ نَحْر (قربانی) یعنی دس ذوالحجہ کے بعد کے تین دن (۱۱و۱۲و۱۳) کوایام تشریق کہتے ہیں۔ (بہارِ شریعت، ج۱، ص ۴۴) ان چار دنوں کے علاوہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ (بہارِ شریعت، ج۱، ص ۹۶۷)



Total Pages: 332

Go To