Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گا۔ یہ کتاب الجمعہ اور اس کے آداب کے متعلق آخری کلام تھا۔

٭٭٭

٭عذابات کا نقشہ٭

شیخ طریقت،   امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مشہورِ زمانہ تالیف ’’فیضانِ سنّت ‘‘  جلد اوّل کے صفحہ405پر لکھتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! زکوٰۃ ادا کرنے کے جہاں بے شُمار ثوابات ہیں نہ دینے والے کیلئے وَہاں خوفناک عذابات بھی ہیں۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،   اِمامِ اَہلسنّت،   مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن قرآن و حدیث میں بیان کردہ عذابات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں: خُلاصہ یہ ہے کہ جس سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ دی جائے،   روزِ قِیامت جہنم کی آ گ میں تپا کر اُس سے  اُن کی پیشانیاں،   کروٹیں،   پیٹھیں داغی جائیں گی۔ اُن کے سر،   پِستان پر جہنم کا گرم پتھر رکھیں گے کہ چھاتی توڑ کر شانے سے  نکل جائیگا اور شانے کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینے سے  نکل آئے گا،   پیٹھ توڑ کر کروٹ سے  نکلے گا،   گُدی توڑ کر پیشانی سے  اُبھرے گا۔ جس مال کی زکوٰۃ نہ دی جائے گی روزِ قِیامت پُرانا خبیث خونخوا ر اَژدہا بن کر اُس کے پیچھے دوڑے گا،   یہ ہاتھ سے  روکے گا،   وہ ہاتھ چبالے گا،   پھر گلے میں طوق بن کر پڑے گا،   اس کا مُنہ اپنے مُنہ میں لے کر چبائے گا کہ میں ہوں تیرا مال،   میں ہُوں تیرا خزانہ۔ پھر اسکاسارا بدن چبا ڈالے گا۔ وَالْعِیاذُ بِاللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن  (فتاویٰ رضویہ تخریج شدہ،  ج۱۰،   ص ۱۵۳)

فصل:  22

روزہ اور اس کے آداب و احکام کا بیان

            اس کتاب میں   روزوں  ،   ان کی ترتیب اور روزہ داروں   کے اوصاف کے تذکرے کے علاوہ بندے کے لئے جو روزے رکھنا مستحب ہیں   ان کا بیان ہے۔ چنانچہ،   

روزہ اور صبر: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- (پ۱،  البقرۃ:  ۴۵) )   ([1])  کی تفسیر میں   مروی ہے کہ یہاں   صبر سے  مراد روزہ ہے۔ ([2])

        صاحبِ لَوْلاک،   سیاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ماہِ رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیتے کیونکہ صبر سے  مراد نفس کو خواہشاتِ نفسانیہ سے  روکے رکھنا اور اسے  اپنے آقا و مولیٰ کے احکام بجا لانے پر مجبور کرنا ہے۔ ([3])

            سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ خوشبودار ہے: ’’ صبر نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ ‘‘   ([4])

            منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان:  (وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-  (پ۱،  البقرۃ:  ۴۵))  سے  مراد مجاہدۂ نفس ہے۔ ([5]) اور ایک قول کے مطابق یہاں   دشمن کے مقابلہ میں   ڈٹے رہنا اور صبر کرنا مراد ہے۔  ([6])

            بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ  (وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ)  سے  مراد یہ ہے کہ دنیا میں   روزہ رکھ کر زاہد بننے پر مدد طلب کرو کیونکہ روزہ دار بھی عابد اور زاہد ہی ہوتا ہے۔ پس روزہ دنیا میں   زہد کی چابی اور پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کا دروازہ ہے۔ کیونکہ روزہ نفس کو کھانے پینے کی لذتوں   اور شہوات سے  روکے رکھتا ہے جیسا کہ ایک زاہد و عابد شخص زہد و عبادت میں   خود کو ان اشیاء سے  باز رکھتا ہے۔

روزے کی فضیلت کے متعلق  (3) احادیثِ قدسیہ:

 (1) … بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فرشتوں   پر نوجوان عبادت گزار کے سبب فخر کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: ’’اے اپنی خواہشات کو ترک کرنے والے اور میری رضا کی خاطر اپنی جوانی صَرف کرنے والے نوجوان! تیرا میرے ہاں   وہی مقام و مرتبہ ہے جو بعض فرشتوں   کا ہے۔ ‘‘   ([7])

 (2) …اے میرے فرشتو! میرے بندے کو دیکھو! اسنے محض میری خاطر کھانا پینا اور لذت و شہوت کو ترک کر دیا ہے۔  ([8])

 (3) … ابنِ آدم کا روزے کےسوا ہر عمل اس کے لئے ہے،   روزہ میرے لئے ہے اور میں   ہی اسکی جزا دوں   گا۔ ([9])

روزے کی جزا کی چند وجوہات: 

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔

[2]     تفسیر الطبری، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ ۴۵، ج۱، ص۲۹۸

[3]     المرجع السابق۔ المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث رجل من باھلۃ، الحدیث: ۲۰۳۴۴، ج۷، ص۲۹۰مختصراً

[4]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم     الخ، الحدیث: ۴۴۴۸، ج۴، ص۱۰۹۔ وباب فی الصیام، الحدیث: ۳۵۷۷، ج۳، ص۲۹۲

[5]     تفسیر القرطبی، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ ۴۵، ج۱، الجزء الاول، ص۳۰۵

[6]     المرجع السابق، ص۳۰۶

[7]     الزھد لابن مبارک، باب فخر الارض بعضھا، الحدیث: ۳۴۶، ص۱۱۷

[8]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الجوع، الحدیث: ۳۹، ج۴، ص۸۶

[9]     صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب ھل یقول انی صائم، الحدیث: ۱۹۰۴، ص۱۴۹



Total Pages: 332

Go To