Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے اور اسے  قبول کرنا تیرا کام ہے،   یہ ایک کوشش ہے لیکن تجھ پر ہی بھروسا ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا نہ تو کوئی نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  رکنے کی کوئی قوت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ان کی آل پر درود وسلام بھیجے۔

دعائے ابراہیم بن ادہم: 

        حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم کے خادم حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بشار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار سے  مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابرہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم جمعہ کے دن صبح اور شام کے وقت یہ دعا مانگتے تھے:

 (مَرْحَباً  ۢبِیَومِ الْمَزِیْدِ وَ الصُّبْحِ الْجَدِیْدِ وَ الْكَاتِبِ الشَّہِیْدِ oیَوْمُنَا ھٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ،   اُكْتُبْ لَنَا مَا نَقُوْلُ بِسْمِ اللّٰہِ الْحَمِیْدِ الْمَجِیْدِ الرَّفِیْعِ الْوَدُوْدِ الْفَعَّالِ فِی خَلْقِہٖ مَا یُرِیْدُ اَصْبَحْتُ بِاللّٰہِ مُؤْمِنًا وَّبِلِقَآئِہٖ مُصَدِّقًا وَّبِحُجَّتِہٖ مُعْتَرِفًا وَّمِنْ ذَنْۢبِیْ مُسْتَغْفِرًا وَّلِرَبُوْبِیَّۃِ اللّٰہِ خَاضِعًا وَّلِسِوَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِی الْاِلٰـہِیَّۃِ جَاحِدًا وَّ اِلَی اللّٰہِ فَقِیْرًا وَّعَلَی اللّٰہِ مُتَوَكِّلًا وَّاِلَی اللّٰہِ مُنِیْبًا،   اُشْہِدُ اللّٰہَ وَاُشْہِدُ مَلٰٓـئِكَتَہٗ وَاَنْۢبِیآئَہٗ وَرُسُلَہٗ وَحَمَلَۃَ عَرْشِہٖ وَمَنْ خُلِقَ وَمَنْ ھُوَ خَالِقُہٗ بِاَنَّہٗ ھُوَ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوْ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَّالنَّارَ حَقٌّ وَّالْحَوْضَ حَقٌّ وَّالشَّفَاعَۃَ حَقٌّ وَّمُنْكِرًا وَّنَـكِیْرًا حَقٌّ وَّلِقَآئَكَ حَقٌّ وَّوَعْدَكَ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَا وَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ،   عَلٰی ذٰلِكَ اَحْیا وَعَلَیْہِ اَمُوْتُ وَعَلَیْہِ اُبْعَثُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ،   اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُكَ وَاَنَا عَلٰی عَہْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ،   اَعُوْذُ بِكَ اَللّٰہُمَّ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِیْ شَرٍّ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّاۤ اَنْتَ وَاھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ فَاِنَّہٗ لَا یَہْدِیْ لِاَحْسَنِہَاۤ اِلَّاۤ اَنْتَ،   وَاصْرِفْ اَللّٰہُمَّ یا رَبِّ عَنِّیْ سَیِّئَہَا فَاِنَّہٗ لَا یَصْرِفُ سَیِّئَہَا اِلَّاۤ اَنْتَ لَبَّیْكَ وَسَعْدَیْكَ وَالْخَیْرُ كُلُّہٗ بِیَدَیْكَ اَنَا لَكَ وَاِلَیْكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَیْكَ،   اٰمَنْتُ اَللّٰہُمَّ بِمَاۤ اَرْسَلْتَ مِنْ رَّسُوْلٍ،   وَّاٰمَنْتُ اَللّٰہُمَّ بِمَاۤ اَنْزَلْتَ مِنْ كِتَابٍ وَّصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ النَّبِیِّ وَعَلٰۤی اٰلِہٖ وَسَلَّمَ كَثِیْرًا خَاتِمِ كَلَامِیْ وَمِفْتَاحِہٖ وَعَلٰۤی اَنْبِیآئِہٖ وَرُسُلِہٖۤ اَجْمَعِیْنَ اٰمِیْنَ یا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ،   اَللّٰہُمَّ اَوْرِدْنَا حَوْضَہٗ وَاسْقِنَا بِكَاْسِہٖ مَشْرُوْبًا رَّوِیا سَآئِغًا ھَنِیْٓـئًا لَّا نَظْمَاُ بَعْدَہٗۤ اَبَدًا وَّاحْشُرْنَا فِی زُمْرَتِہٖ غَیْرَ خَزَایا وَلَا نَادِمِیْنَ وَلَانَاکِثِیْنَ وَلَا مُرْتَابِیْنَ وَلَامَفْتُوْنِیْنَ وَلَا مَغْضُوْبًا عَلَیْنَا وَلَا ضَآلِّیْنَ،   اَللّٰہُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنْ فِتَنِ الدُّنْیا وَوَفِّقْنِیْ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْعَمَلِ وَاَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ كُلَّہٗ وَثَبِّتْنِیْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیاۃِ الدُّنْیا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا تَضِلُّنِیْ وَاِنْ كُنْتُ ظَالِمًا سُبْحَانَكَ سُبْحَانَكَ یا عَلِیُّ،   یاعَظِیْمُ،  یا بَآرُّ،   یا رَحِیْمُ،   یاعَزِیْزُ،   یا جَبَّارُ،   سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ السَّمٰوَاتِ بِاَكْنَافِہَا،   وَسُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ الْجِبَالُ بِاَصْوَاتِہَا،   وَسُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ الْبِحَارُ بِاَمْوَاجِہَا،   وَسُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ الْحِیْتَانُ بِلُغَاتِہَا،   وَسُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ النُّجُوْمُ فِی السَّمَآءِ بِاَبْرَاقِہَا،   وَسُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ الشَّجَرُ بِاُصُوْلِہَا وَنَضَارَتِہَا،   وَسُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَہُ السَّمٰوَاتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُوْنَ السَّبْعُ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَمَنْ عَلَیْہِنَّ،   سُبْحَانَكَ سُبْحَانَكَ یا حَیُّ،   یا حَلِیْمُ،   سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ وَحْدَكَ،   لَا شَرِیْكَ لَكَ تُحْیِیْ وَتُمِیْتُ وَاَنْتَ حَیٌّ لَّا تَمُوْتُ،   بِیَدِكَ الْخَیْرُ وَاَنْتَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)   ([1])

تر جمعہ : یوم المزید،   نئی صبح اور گواہی دینے والے کاتب کو خوش آمدید! ہمارا یہ دن عید کا دن ہے،   اے گواہی دینے والے کاتب! جو ہم بولیں   لکھ لے،   ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے  شروع جو حمید و مجید،   بلند شان ،   محبت فرمانے والا اور اپنی مخلوق میں   اپنی مرضی و منشا کے مطابق فیصلہ فرمانے والا ہے،   میں  نے اس حال میں   صبح کی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانے والا،   اس کی ملاقات کی تصدیق کرنے والا،   اس کی حجت کا معترف،   اپنے گناہوں   کی بخشش چاہنے والا،   ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ربوبیت کے حضور سر جھکانے والا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ماسوا کا انکار کرنے والا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محتاج،   ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ہی بھروسا کرنے والا اور اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہوں  ۔ میں   گواہ بناتا ہوں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اس کے فرشتوں  ،   اس کے انبیا و رسل کو ،   حاملینِ عرش اور اس کی پیدا کردہ اور پیدا ہونے والی تمام مخلوق کو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ یکتا و تنہا ہے کوئی اس کا شریک نہیں   اور حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں   اور یہ بھی کہ جنت،   دوزخ،   حوضِ کوثر،   شفاعت،   منکر و نکیر حق ہیں  ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی ملاقات اور اس کا وعدہ حق ہے،   قیامت بلا شبہ آنے والی ہےاور اس بات پر بھی سب کو گواہ بناتا ہوں  کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  قبروں   میں   موجود سب کو دوبارہ زندہ فرمائے گا،   اسی عقیدے پر میں   زندہ ہوں  ،   اسی پر مروں   گا اور اسی پر دوبارہ اٹھایا جاؤں   گا۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! تو ہی میرا رب ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،   تونے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں   تیرا ہی بندہ ہوں  ،   میں   اپنی طاقت کے مطابق تیرے ہی عہد اور وعدے پر قائم ہوں  ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! میں   ہر برائی اور شر سے  تیری پناہ طلب کرتا ہوں  ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! میں  نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے میرے گناہوں   کو معاف فرما دے کہ تیرے سوا گناہ بخشنے والا کوئی نہیں   اور مجھے حسنِ اخلاق کی دولت عطا فرما کہ تیرے سوا حسنِ اخلاق دینے والا بھی کوئی نہیں  ۔ اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! اور اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے برے اخلاق سے  بچا کہ تیرے سوا بد خلقی سے  رخ موڑنے والا بھی کوئی نہیں  ۔ میں   تیری خدمت میں   حاضر ہوں   اور تیری عبادت سے  موافقت کرتا ہوں  ،   ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے دستِ قدرت میں   ہے،   میں   تیرا ہوں   اور تجھ ہی سے  بخشش چاہتا ہوں   اور تیری بارگاہ میں   توبہ کرتا ہوں  ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! تونے جتنے رسول بھیجے ہیں   میں   سب پر ایمان لایا اور تیری نازل کردہ کتابوں   پر ایمان لایا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری گفتگو کے آغاز اور اختتام پر حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ان کی آل پر اور تمام انبیا و رسل پر درود و سلام بھیجے۔ اے ربّ العالمین ! میری دعا قبول فرما لے! اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! ہمیں   سیدالشاکرین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حوض پر وارد کرنا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جام سے  ایسا مشروب پلانا جو سیراب کر دینے والا اور عمدہ ہو کہ اس کے بعد ہم کبھی پیاسے  نہ ہوں  ،   ہمارا حشر ان کی جماعت میں   اس حال میں   فرمانا کہ ہم رسوا ہوں   نہ شرمندہ،   نہ وعدہ توڑنے والے ہوں   اور نہ شک اور فتنے میں   مبتلا ہونے والے اور نہ مغضوب و گمراہ ہوں  ۔ اے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے دنیا کے فتنوں   سے  محفوظ فرما اور ایسے  اعمال کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں   اور جن سے  تو راضی ہو،   میرے تمام معاملات درست فرما دے،   مجھے دُنیاوی اور اُخروی زندگی میں   قولِ ثابت کے ساتھ ثابت قدمی عطا فرما اور مجھے گمراہ نہ کرنا اگرچہ میں   ظالم ہی ہوں  ،   اے بلند و برتر! تو پاک ہے تو پاک ہے،   اے عظمتوں   والے! اے نیک! اے رحیم! اے عزیز! اے جبار! پاک ہے وہ آسمانوں  نے جس کی پاکی اپنے کناروں   کے ساتھ بیان کی،   پاک ہے وہ جس کی پاکی پہاڑوں  نے اپنی آوازوں   کے ساتھ بیان کی،   پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی سمندروں  نے اپنی موجوں   کے ساتھ بیان کی،   پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی مچھلیوں  نے اپنی مخصوص زبانوں   کے ساتھ بیان کی،   پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی آسمان کے ستاروں  نے اپنی چمک دمک کے ساتھ بیان کی،   پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی درختوں  نے اپنی جڑوں   اور تروتازگی سے  بیان کی،   پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی سات آسمانوں   اور سات زمینوں  نے اور جو کچھ ان کے اندر اور اوپر موجود ہے سبنے بیان کی،   اے زندہ ! تو پاک ہے،   تو پاک ہے،   اے بردبار! تو پاک ہے،   تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،   تو اکیلا ہے

 تیرا کوئی شریک نہیں  ،   تو ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے،   جبکہ تو خود زندہ ہے تجھے کبھی موت نہیں  ،   تیرے دست ِ قدرت میں   ہر قسم کی خیر وبھلائی ہے اور تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  کوئی شخص یہ چاروں   دعائیں   جمعہ کے دن پڑھ لے تو یقیناً  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے عمل کو کمال عطا فرما دے گا اور اس پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے گا،   پس جو شخص جمعہ کے دن وہ تمام خیر و بھلائی کے اعمال و اذکار بجا لائے جن کا ہم نے تذکرہ کیا ہے اور ان تمام برے اعمال سے  بچے جن کا تذکرہ گزرا ہے تو وہ اہلِ جمعہ میں   سے  شمار ہو گا،   نیز اس کا شمار ان لوگوں   میں   ہو گا جن کے لئے مزید برکتیں   ہیں  ۔ اس کا عملِ خالص اور ذکرِ صادق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   قابلِ ستائش ہو



[1]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۹۴ابراھیم بن ادھم، الحدیث: ۱۱۳۱۹، ج۸، ص۳۹بدون لاشریک لک  الخ



Total Pages: 332

Go To