Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گے۔  ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ انہوں نے انہی کلمات سے  دعا کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   ایک بلند مقام پر فائز فرما دیا۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ کلمات حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سکھائے اور اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سرکار دو جہاں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو سکھائے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوۂ احزاب میں   انہی کلمات کے وسیلہ سے  دعا کی۔

            حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ میں   حجاج بن یوسف سے  چھپتا پھر رہا تھا،   پس میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  انہی کلمات کے وسیلہ سے  دعا کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  مجھ سے  دور فرما دیا حالانکہ وہ میرے پاس  (مجھے گرفتار کرنے)  چھ مرتبہ آیا لیکن میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  انہی کلمات کے وسیلہ سے  دعا کرتا تو وہ مجھے دیکھ نہ پاتا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بینائی زائل فرما دیتا تھا۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  ان کلمات کے سبب دعا کرو اور اس سے  اپنے تمام گناہوں   کی بخشش چاہو،   پھر اپنی اخروی و دنیاوی حاجات کا سوال کرو،   اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ تمہیں   ضرور عطا فرمائے گا،   یہ 40 اسمائے حسنیٰ ہیں   جو ایامِ توبہ کی تعداد کے برابر ہیں  : 

 (سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنْتَ،   یا رَبَّ كُلِّ شَیْئٍ ،   وَوَارِثَہٗ،   وَرَازِقَہٗ،   وَرَاحِمَہٗ،   یاۤ اِلٰـہَ الْاٰلِہَۃِ،   اَلرَّفِیْعُ جَلَالُہٗ،   یاۤ اَللّٰہُ! اَلْمَحْمُوْدُ فِیْ كُلِّ فَعَالِہٖ،   یا رَحْمٰنَ كُلِّ شَیْئٍ! وَرَاحِمَہٗ،   یاحَیُّ! حِیْنَ لاَ حَیَّ فِیْ دَیْمُوْمَۃِ مُلْكِہٖ وَبَقَآئِہٖ،   یا قَیُّوْمُ! فَلَا یَفُوْتُ شَیْئٌ مِّنْ عِلْمِہٖ وَلَایَــُٔـوْدُہٗ،   یاوَاحِدُ! اَلْبَاقِی فِیْ اَوَّلِ كُلِّ شَیْئٍ وَّاٰخِرِہٖ،   یا دَآئِمُ ! فَلَا فَنَآءَ وَلَا زَوَالَ لِمُلْكِہٖ،   یاصَمَدُ مِنْ غَیْرِ شَبِیْہٍ ! وَلَا شَیْئَ كَمِثْلِہٖ،   یا بَارِیُٔ! فَلَا شَیْئَ كُفْؤَہٗ وَلَا مَكَانَ لِوَصْفِہٖ،   یا كَبِیْرُ! اَنْتَ الَّذِیْ لَا تَہْتَدِی الْقُلُوْبَ لِوَصْفِ عَظَمَتِہٖ،   یا بَارِیَٔ النُّفُوْسِ بِلَا مِثَالٍ! خَلَا مِنْ غَیْرِہٖ،   یا زَاكِی! اَلطَّاھِرُ مِنْ كُلِّ اٰفَۃٍ تَقَدُّسُہٗ،   یا كَافِی! اَلْمُوْسِعُ لِمَا خَلَقَ مِنْ عَطَایا فَضْلِہٖ،   یانَقِیا مِّنْ كُلِّ جَوْرٍ! لَمْ یَرْضَہٗ وَلَمْ یُخَالِطْہٗ فَعَالُہٗ،   یاحَنَّانُ! اَنْتَ الَّذِیْ وَسِعْتَ كُلَّ شَیْئٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا،   یا ذَا الْاِحْسَانِ! قَدْ عَمَّ كُلَّ الْخَلَآ ئِقِ مِنْہُ،   یا دَیانَ الْعِبَادِ! كُلٌّ یَّقُوْمُ خَاضِعًا لِّرَھْبَتِہٖ،   یا خَالِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ! وُكِّلَ اِلَیْہٖ مَعَادُہٗ،   یا رَحِیْمَ كُلِّ صَرِیْخٍ وَّمَكْرُوْبٍ! وَغِیاثَہٗ وَمَعَادَہٗ،   یا تَآمَّ! فَلَا تَصِفُ الْاَلْسِنُ كُلَّ جَلَالِ مُلْكِہٖ وَعِزِّہٖ،   یا مُبْدِعَ الْبَدَآ ئِعِ! لَمْ یَبْلُغْ فِیْ اِنْشَآئِہَا عَوْناً مِّنْ خَلْقِہٖ،   یا عَلاَّمَ الْغُیُوْبِ! فَلَا یَفُوْتُہٗ شَیْئٌ مِّنْ خَلْقِہٖ وَلَا یَــُٔـوْدُہٗ،   یا حَلِیْمُ! ذَا الْاَنَاۃِ! فَلَا یُعَادِلُہٗ شَیْئٌ مِّنْ خَلْقِہٖ،   یا مُعِیْدُ! مَاۤ اَفْنَاہُ اِذَا بَرَزَ الْخَلَآ ئِقُ لِدَعْوَتِہٖ مِنْ مَّخَافَتِہٖ،   یاحَمِیْدَ الْفَعَّالِ! ذَا الْمَنِّ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہٖ بِلُطْفِہٖ! یا عَزِیْزُ! اَلْمَنِیْعُ! اَلْغَالِبُ عَلٰۤی اَمْرِہٖ فَلَا شَیْئَ یُعَادِلُہٗ،   یا قَاھِرُ! ذَا الْبَطْشِ الشَّدِیْدِ! اَنْتَ الَّذِیْ لَا یُطَاقُ اِنْتِقَامُہٗ،   یا قَرِیْبُ! اَلْمُتَعَالِی! فَوْقَ كُلِّ شَیْئٍ عُلُوُّ اِرْتِفَاعِہٖ،   یا مُذِلَّ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ بِقَہْرِ عَزِیْزِ سُلْطَانِہٖ! یانُوْرَ كُلِّ شَیْئٍ وَّھُدَاہٗ! اَنْتَ الَّذِیْ فَلَقَ الظُّلُمَاتِ بِنُوْرِہٖ،   یا عَالِیَ الشَّامِخِ! فَوقَكُلِّ شَیْئٍ عُلُوُّ اِرْتِفَاعِہٖ،   یا قُدُّوْسُ ! اَلطَّاھِرُ مِنْ كُلِّ سُوْٓءٍ فَلَا شَیْئَ یُعَادِلُہٗ مِنْ خَلْقِہٖ،   یا مُبْدِئَ الْبَرَایا  وَمُعِیْدَھَا بَعْدَ فَنَآئِہَا بِقُدْرَتِہٖ،   یا جَلِیْلُ! اَلْمُتَكَبِّرُ عَنْ كُلِّ شَیْئٍ فَالْعَدْلُ اَمْرُہٗ وَالصِّدْقُ وَعْدُہٗ،   یا مَحْمُوْدُ! فَلَا تَبْلُغُ الْاَوْھَامَ كُنْہَ ثَنَآئِہٖ وَمَجْدِہٖ،   یاكَرِیْمَ الْعَفْوِ!  ذَا الْعَدْلِ!  اَنْتَ الَّذِیْ مَلَاَ كُلَّ شَیْئٍ عَدْلُہٗ،   یا عَظِیْمُ! ذَا الثَّنَآءِ الْفَاخِرِ! وَذَا الْعِزِّ وَالْمَجْدِ وَالْکِبْرِیآءِ! فَلَا یَذِلُّ عِزُّہٗ،   یا عَجِیْبُ! فَلَا تَنْطِقُ الْاَلْسِنُ بِكُنْہِ اٰلَآ ئِہٖ وَثَنَآئِہٖ،   یا غِیاثِیْ عِنْدَ كُلِّ كُرْبَۃٍ! وَیا مُجِیْبِیْ عِنْدَ كُلِّ دَعْوَۃٍ!  اَسْاَلُكَ اللّٰہُمَّ یا رَبِّ الصَّلَاۃَ عَلٰی نَبِیِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَمَانًا مِّنْ عُقُوْبَاتِ الدُّنْیا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَنْ تَحْبِسَ عَنِّیْۤ اَبْصَارَ الظَّالِمِیْنَ الْمُرِیْدِیْنَ بِیَ السُّوْٓءِ وَاَنْ تَصْرِفَ قُلُوْبَہُمْ عَنْ شَرِّ مَا یَضْمِرُوْنَ بِیْۤ اِلٰی خَیْرِ مَا لَا یَمْلِكُہٗ غَیْرُكَ،   اَللّٰہُمَّ ھٰذَا الدُّعَآءُ وَمِنْكَ الْاِجَابَۃُ وَھٰذَا الْجُہْدُ وَعَلَیْكَ التُّكْلَانُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)   ([1])

تر جمعہ : تو پاک ہے،   تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،   ٭… اے ہر چیز کے پَرْوَرْدگار! اور وارث اور رزق دینے والے اور رحم فرمانے والے! اے معبودانِ باطلہ کے بھی معبود کہ جس کا جلال سب سے  بلند ہے،   ٭… اے اللہعَزَّ وَجَلَّ  ! جو اپنے افعال میں   محمود ہے،   ٭… اے ہر شے کے رحمن! اور رحیم! ٭… اے اس وقت سے  آپ زندہ جب اس کی سلطنت اور بقا کے دوام میں   کوئی زندہ نہ تھا! ٭… اے دوسروں   کو زندہ و قائم رکھنے والے کہ جس کے علم سے  کوئی شے نہ تو فوت ہوتی ہے اور نہ ہی اس پر بھاری ہے،   ٭… اے واحد! اے ہر شے کی ابتدا و انتہا میں   باقی رہنے والے! ٭… اے دائم! جس کی سلطنت کو فنا ہے نہ زوال،   ٭… اے بلا تشبیہ بے نیاز ذات! اور کوئی شے جس کی مثل نہیں  ،   ٭… اے پیدا کرنے والے! جس کا کوئی ہمسر نہیں   اور نہ ہی اوصاف میں   کوئی اس کے ہم پلہ ہے،   ٭… اے کبیر! تونے ہی دلوں   کو اپنی عظمت کے اوصاف بیان کرنے کی توفیق دی ہے،   ٭… اے جانوں   کو بغیر کسی مثال کے پیدا کرنے والے ! تو اپنے غیر سے  پاک ہے،   ٭… اے پاک کرنے والے! جس کا تقدس ہر آفت سے  پاک ہے،   ٭… اے کافی کہ جو اپنی مخلوق کو اپنے فضل و کرم سے  عطیات میں   وسعت فرمانے والا ہے،   ٭… اے ہر قسم کے جَور وستم سے  پاک! جو کبھی ظلم پر راضی ہوا نہ ہی جس کے افعال کبھی ظلم سے  خلط ملط ہوئے،   ٭… اے شفقت فرمانے والے! تو ہر شے پر رحمت اور علم کے لحاظ سے  وسعت رکھتا ہے،   ٭… اے احسان کرنے والے کہ جس کا احسان تمام مخلوق پر عام ہے،   ٭… اے بندوں   کے معاملات کا حساب لینے والے کہ جس کے ڈر کی وجہ سے  ہر ایک جھکا ہوا ہے،   ٭… اے زمین و آسمان میں   موجود ہر شے کے پیدا کرنے والے! جس کے سپرد ہر شے کے واپس لوٹنے کا معاملہ ہے،   ٭… اے ہر پکارنے والے اور مصیبت زدہ پر رحم فرمانے والے اور اس کے فریاد رس اور اس کے لوٹنے کی جگہ! ٭… اے کامل! زبانیں   جس کی سلطنت کی عظمت و جلالت کے بیان سے  قاصر ہیں  ،   ٭… اے عجائبات کے پیدا کرنے والے! جن کی تخلیق میں   اس کی مخلوق میں   سے  کسی کی کوئی مدد شامل نہیں  ،   ٭… اے غیبوں   کے جاننے والے! کوئی بھی شے اس کے علم سے  مفقود ہے نہ بھاری ہے،   ٭… اے حلم والے! اور اے وقار و تمکنت والے! جس کی مخلوق میں   سے  کوئی شے اس کی برابری نہیں  کر سکتی،   ٭… اے واپس لوٹانے والے! جب مخلوق اس کے خوف سے  اس کی پکار سن کر دوبارہ ظاہر ہو گی تو وہ اسے  فنا نہیں   کرے گا،   ٭… اے قابلِ صد تعریف افعال سر انجام دینے والے ! اور اے اپنی تمام مخلوق پر اپنے لطف و کرم سے  احسان فرمانے والے! ٭… اے عزیز! اے طاقتور! اور اے اپنے امور پر غلبہ رکھنے والے! کوئی شے جس کے برابر نہیں   ہو سکتی،   ٭… اے غالب! اے سخت گرفت والے! تو ہی ہے وہ ذات کہ جس کا انتقام ناقابلِ برداشت ہوتا ہے،   ٭… اے قریب و بلند کہ جس کی رفعت کی بلندی ہر شے پر فوقیت رکھتی ہے،   ٭… اے ہر جابر و سرکش کو اپنے قہرِ سلطانی سے  ذلیل کرنے والے! ٭… اے ہر شے کے نور اور اس کی ہدایت ! تو ہی ہے جس نے تاریکیوں   کو اپنے نور کی روشنی سے  دور فرمایا،   ٭… اے بلندی و رفعت والے کہ جس کی رفعت کی بلندی ہر شے سے  فوق ہے،   ٭… اے قدوس! اے ہر برائی سے  پاک! اس کی کوئی مخلوق پاکی میں   اس کی برابری نہیں   کر سکتی،   ٭… اے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے والے اور اپنی قدرتِ کاملہ سے  اس کے فنا ہونے کے بعد اسے  دوبارہ پیدا کرنے والے! ٭… اے صاحبِ جلال! ہر شے سے  زیادہ عظمت و اقتدار والے کہ عدل جس کا امر اور صدق جس کا وعدہ ہے،   ٭… اے محمود کہ جس کی حمد و ثنا کی حقیقت تک عقلوں   کی رسائی نہیں  ،   ٭… اے معافی و بخشش میں   کرم فرمانے والے! اے عدل والے! تو ہی ہے جس کے عدلنے ہر شے کو بھر دیا،   ٭… اے عظمتوں   والے! اے ثنا و فخر والے اور اے عزت و بزرگی اور کبریائی کے مالک کہ جس کی عزت کم نہیں   ہو سکتی،   ٭… اے عجب ذات کہ زبانیں   جس کی نعمتوں   اور حمد و ثنا کی حقیقت بیان کرنے سے  قاصر ہیں  ،   ٭… اے ہر دکھ کے وقت میری فریاد رسی کرنے والے! ٭… اے میری ہر پکار کے وقت میری دعا قبول کرنے والے! اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  تیرے نبی حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیجنے کا سوال کرتا ہوں   اور تجھ سے  دنیا و آخرت کی عقوبتوں   سے  امان طلب کرتا ہوں  ،   میری برائی چاہنے والے ظالموں   کی آنکھیں   مجھ سے  دور فرما دے اور ان کے دلوں   میں   چھپے ہوئے شر اور برائی کا رُخ اس خیر و بھلائی کی جانب موڑ دے جس کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں   ہے،  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! دعا کرنا

Total Pages: 332

Go To