Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

نصیب نہ ہوا تو یہی دن آخری ہو گا۔ جمعہ کے دن مسلسل اوراد و اذکار کی زیادتی ہونی چاہئے نہ کہ جمعہ کا دن تجارت اور اس کے اسباب میں   مشغولیت کے اعتبار سے  ہفتے کے دن جیسا ہو۔ نیز جمعہ کے دن سر انجام دینے والے دنیاوی کاموں   کی تیاری جمعرات کے دن ہی سے  شروع نہ کر دے مثلاً کھانے پینے وغیرہ جیسی آسائشوں   کا اہتمام جمعرات کے دن ہی نہ کر لے۔ چنانچہ،  مروی ہے کہ ماہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ اپنے جمعہ کے دن کے امورِ دنیا کا اہتمام شبِ جمعہ ہی سے  کرنے لگیں   گے جیسا کہ یہود جمعہ کے دن شام کے وقت ہفتے کے دن کے امور کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ ‘‘ 

            یقیناً مومنین اس دن بہترین اوراد کے ذریعے آخرت کی تیاری کرتے ہیں  اور مسلسل اوراد کے سبب اسے  یوم المزید بنا لیتے ہیں  ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ’’ جس نے ایامِ دنیا میں   فرحت حاصل کی وہ آخرت میں   فرحت و تازگی نہ پائے گا اور انہی ایام میں   جمعہ کا دن بھی ہے۔ ‘‘  مزید فرماتے ہیں   کہ’’جمعہ کا دن آخرت سے  تعلق رکھتا ہے نہ کہ دنیا سے ۔ ‘‘ 

            کسی بزرگ سے  منقول ہے کہ ’’اگر جمعہ کا دن نہ ہوتا تو میں   دنیا میں   زندہ رہنا پسند نہ کرتا۔ ‘‘ 

            جمعہ خواص کے ہاں   علوم و انوار اور عبادت و اذکار کا دن ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   جنت میں   دیدارِ باری تعالیٰ کے اعتبار سے  یہ یوم المزید ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے  مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذی وقار ہے: ’’ جمعہ کے دن اپنے تمام مشاغل ترک کر دو کہ یہ دن نماز اور تہجد کا ہے۔ ‘‘  اور حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ’’ جمعہ کا دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہے اس میں   کوئی سفر نہیں  ۔ ‘‘ 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ  (پ۲۸،  الجمعۃ:  ۱۰)                               تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

رضائے خداوندی کی علامت: 

            جمعہ کے دن پڑھی جانے والی نمازیں  ،   سورتیں   ،   رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درودِ پاک اور دوسرے تمام اذکار وغیرہ جو ہم نے ذکر کئے ہیں   ان سب کو شبِ جمعہ پڑھنا بھی مستحب ہے کیونکہ یہ رات باقی ایامِ ہفتہ سے  افضل ہے۔ پس جسے  توفیق نصیب ہو وہ قطعاً یہ اعمال ترک نہ کرے کیونکہ ایک مریدِ صادق ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے  فضل اور مزید احسانات کے حصول میں   مگن رہتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے  محبت کرتا ہے تو اسے  افضل اوقات میں   افضل اعمال بجا لانے کی توفیق دیتا ہے اور جب کسی بندے سے  ناراض ہوتا ہے تو افضل اوقات میں   اسے  برے اعمال کے حوالے کر دیتا ہے تا کہ اس کی سزا زیادہ ہو اور اس پر ناراضی میں   بھی اضافہ ہو کیونکہ وہ برکتِ وقت سے  محروم رہا اور اسنے حرمتِ وقت کا بھی خیال نہ رکھا۔

چار قسم کے اوراد و وظائف:

        جمعہ کے دن مخصوص ذکر کی چار قسمیں   ہیں  :

 (1) … وہ چالیس اسمائے حسنیٰ پڑھنا جن کے ذریعے حضرت سیِّدُنا ادریس عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دعا کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   یہ خاص کلمات سکھائے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بھی ان کلمات کے ذریعے دعا کی اور یہ کلمات شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا میں   سے  بھی ہیں  ۔

 (2) …حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم بہت بڑے زاہد تھے،   وہ ہر جمعہ کو صبح و شام دس مرتبہ ان کلمات کے ذریعے دعا کیا کرتے تھے،   یہی ان کا معمول تھا۔

 (3) (وہ کلمات پڑھنا جو اس روایت میں   بیان کئے گئے ہیں  ۔ چنانچہ)  امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰیوَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر دن اور رات اپنی عظمت و بزرگی خود بیان فرماتا ہے۔ ‘‘   ([1])

 (4) تسبیحاتِ ابی المُعْتَمِر ([2]) پڑھنا،   یعنی وہ تسبیحات جو حضرت سیِّدُنا سلیمان تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی ہیں   کہ انہوں  نے ایک شخص کو شہادت کے بعد خواب میں   دیکھا تو اس سے  دریافت فرمایا:  ’’ تونے وہاں   اعمال میں   سے  کیا دیکھا؟ ‘‘  تو اسنے بتایا کہ میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں تسبیحاتِ ابی المُعْتَمِر کا بڑا مقام و مرتبہ دیکھا ہے۔  ([3])

            تیسری اور چوتھی قسم میں   مذکور تسبیحات اسی کتاب کی ابتدا میں   نمازِ فجر کے بعد اور روزانہ غروبِ آفتاب سے  قبل پڑھی جانے والی دعاؤں   میں   بیان ہو چکی ہیں   ،   لہٰذا یہاں   ان کا اعادہ باعثِ ثقل ہو گا اور باقی دو قسمیں   یہ ہیں  ۔

دعائے ادریس عَلَیْہِ السَّلَام :

            حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا ادریس عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی قوم کی جانب مبعوث فرمایا تو انہیں   یہ اسمائے حسنیٰ سکھائے اور وحی فرمائی:  ’’ ان اسمائے حسنیٰ کو دل میں   آہستگی سے  پڑھا کرو اور اپنی قوم پر ان کا اظہار مت کرنا ورنہ وہ بھی مجھ سے  انہی الفاظ کے ذریعے دعا کیا کریں   



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث: ۵۶۱۲، ج۲، ص۳۹۳ بدون کل یوم و لیلۃ

[2]     ان تسبیحات کا تذکرہ پانچویں فصل میں صفحہ ۱۰۸پر ہو چکا ہے۔

[3]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب المنامات، باب ما روی من الشعر فی المنام، الحدیث: ۱۸۲، ج۳، ص۱۰۳ بتغیر



Total Pages: 332

Go To