Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

آپ نے ان دو کلموں   میں   پوشیدہ فرما دیا۔ چنانچہ،   آپ فرماتے ہیں   کہ فنا یہ ہے کہ بندہ اپنی بندگی کی دِید سے  فانی ہو اور بقا یہ ہے کہ بندہ مشاہدۂ حق سے  باقی ہو۔

 (9) خَفِیفِیہ : 

اس گروہ کے پیشوا حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۳۷۱ھ)  ہیں  ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مسلک و مشرب کا اصل ِ اصول غیبت و حضور   ([1])   ہے۔

 (10) … سَیَّاریہ : 

یہ طبقہ حضرت سیِّدُنا ابو العباس سَیاری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْبَارِی  (متوفی ۳۴۲ھ)  سے  تعلق رکھتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مذہب کی بنیادی خصوصیت جمع و تفرقہ ([2]) ہے۔

شیخ ابو طالب مکی کا مشرب: 

اِمَامِ اَجَلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے واسطہ سے  حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد سہل بن عبد اللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے مسلک و مشرب سے  منسلک تھے اور ہمیشہ اپنے شیخ کی رائے کو ترجیح دیتے،   اس کے علاوہ آپ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  بھی حد درجہ متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے قوت القلوب میں   ان دونوں   ہستیوں    (یعنی حضرت سیِّدُنا حسن بصری  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اور حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل بن عبد اللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی )  کے متعدد اقوال ذکر کئے ہیں  ۔چنانچہ،  فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی علمِ معرفت میں   ہمارے امام ہیں  ،   ہم انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں   اور انہی کے راستے پر رواں   دواں   ہیں   اور ان کے چراغ ہی سے  روشنی حاصل کر رہے ہیں  ۔ ہم نے انہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذن سے  اپنا امام بنایا ہے،   اس طرح کہ دورِ حاضر سے  لے کر ان کے زمانے تک اس فن کی اِمامت اُن پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ ان کا شمار بلند پایہ تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   ہوتا ہے۔ چنانچہ،   ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں  نے چالیس سال تک اپنے سینے میں   حکمت کے موتی اکٹھے کئے،   پھر زبان سے  ان کا اظہار کیا۔  ([3])

شیخ الحدیث حضرت سیِّدُنا عبد الصمد بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی سے  پیش آنے والے واقعہ کے بعد چونکہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کا جی بغداد میں   نہ لگا۔ لہٰذا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بصرہ کا رخ کیا اور وہاں   حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم  (متوفی ۳۶۰ھ)  کی صحبت اختیار کر کے سلوک کی راہیں   طے کیں  ۔ اس صحبت کی مدت تو بڑی قلیل تھی مگر اس کے اثرات آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی پر کافی گہرے مرتب ہوئے۔ ([4])  اگرچہ کئی مؤرخین کے نزدیک آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بصرہ اس وقت گئے جب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم اس جہانِ فانی سے  کوچ فرما چکے تھے مگر یہ درست نہیں   جیسا کہ امام شمس الدين محمد بن احمد بن عثمان ذہبي عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے تاریخ الاسلام میں   حضرت سیِّدُنا سہل تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگردوں   کا تذکرہ کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی نہ صرف حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کی صحبت میں   رہے بلکہ ان سے  علم بھی حاصل کیا۔ پھر حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے متعلق مزید فرماتے ہیں   کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا سہل تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگردِ رشید ہیں   اور ان کی تعلیمات کا پرچار کرتے ہوئے اکثر اوقات انہی کی باتیں   کرتے رہتے تھے۔ ([5])  اور حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے خود بھی قوت القلوب میں   حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم سے  ملاقات کی صراحت فرمائی ہے۔ ([6])

ممکن ہے دیگر مؤرخیننے جو حضرت سیِّدُنا شیخ ابو الحسن بن سالم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم کے جہانِ فانی سے  کوچ کے بعد شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے بصرہ جانے کا ذکر کیا ہے وہ دوسری مرتبہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس بار زیادہ دیر بصرہ میں   نہ رکے بلکہ اپنے شیخ کی صفحۂ قرطاس پر رقم تعلیمات کو سرمایۂ حیات جان کر سینے سے  لگائے دوبارہ بغداد واپس لوٹ آئے اور بغداد کی جامع مسجد میں   وعظ و نصیحت کے مدنی پھولوں سے  عوام الناس کے دلوں   کو معطر کرنے لگے۔

وعظ و نصیحت: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے دور میں   بغداد میں   باطل فرقوں   کا دور دورہ تھا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنےشیوخ کے طریقہ کارکے برعکس بغداد میں   ہر خاص و عام کو علم و عرفان کی دولت سے  مالا مال کرنے لگے یہاں   تک کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا حلقۂ درس اس قدر وسعت اختیار کر گیا کہ جن مؤرخین نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا



[1]     غَیْبَت و حضور دو متضاد صفتیں  ہیں ، چنانچہ غَیْبَت سے مراد یہ ہے کہ دل ماسوا اللہ سے غائب ہوحتی کہ اپنے آپسے بھی غائب ہو۔ جس کی علامت یہ ہے کہ دل رسمی احکام تک سے کنارہ کشی اختیار کر لے اور جب وہ ہر شے سے غائب ہو جائے گا تو بارگاہِ خداوندی میں   حاضر ہو گاکیونکہ دل کا مالک حق تعالیٰ ہے۔ (کشف المحجوب، ص ۲۷۱ ) مزید تفصیلات کے لیے اللمع، کشف المحجوب، عوارف المعارف اور رسالہ قشیریہ وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔

[2]     جمع و تفرقہ بھی تصوف کی اصطلاحات ہیں ، شیخ شہاب الدین سہروردی عوارف المعارف میں  فرماتے ہیں : علم معرفتِ خداوندی جمع ہے اور علمِ احکامِ خداوندی تفرقہ ہے۔ اور یہ دونوں  ایک دوسرے کو لازم و ملزوم ہیں ۔ کیونکہ ”لَا جَمْعَ اِلَّا بِتَفْرِقَہ“ یعنی جمع کی درستی تفرقہ پر اور تفرقہ کی درستی جمع پر موقوف ہے۔ (عوارف المعارف، ص ۳۰۸ ) مزید تفصیلات کے لیے اللمع، کشف المحجوب، عوارف المعارف اور رسالہ قشیریہ وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔

[3]     قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، ج ۱، ص ۲۵۷

[4]     قوت القلوب، مقدمۃ التحقیق، ج۱، ص۹

[5]     تاریخ الاسلام، الجزء السادس و العشرون، ص۲۲۶

[6]     قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون، ج۲، ص۱۵۸



Total Pages: 332

Go To