Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

افضل ہے نہ کہ قصہ گوئی کی محافل میں   شریک ہونا۔ اجر و ثواب میں   ذکر سننے والا ذکر کرنے والے کا شریک ہوتا ہے اور ایک قول کے مطابق رحمت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے جمعہ کے دن خاص طور پر قصہ گوئی کی محفلوں   میں   شریک ہونے کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ وہ پہلی اور دوسری ساعت میں   جامع مسجد جانے میں   باعثِ رکاوٹ ہوتی ہیں   حالانکہ ان دونوں   اوقات کی فضیلت مروی ہے۔   

جمعہ کے دن علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کی زیارت: 

        جس کے لئے جمعہ کے دن صبح کی نماز سے  پہلے یا بعد میں   جامع مسجد میں   کسی ایسے  عالم باللّٰہ کی ملاقات ممکن ہو جس کی زیارت اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد دلائے یا پھر تارک الدنیا علمائے آخرت میں   سے  کسی کی زیارت ممکن ہو تو ضروران کے پاس بیٹھے اور ان کے پند و نصائح سنے۔ اگر کسی علمِ دین کی باتیں   کرنے والے مفتی کی خدمت میں   حاضر ہو اور مسائل سمجھنے کی اسے  ضرورت بھی ہو تو اس کے پاس بیٹھنا سب سے  بہتر ہے کیونکہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں   علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی محافل میں   بیٹھنا باعثِ زینت اور جمعہ کی فضیلت کے کامل ہونے کا سبب ہے۔چنانچہ،   

حضرت سیِّدُنا امام حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ساری دنیا سوائے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی مجالس کے ظلمت و تاریکی کی جگہ ہے۔ ([1]) پس اگر کسی کے لئے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی مجلس میں   حاضری دینا ممکن نہ ہو تو دونوں   نمازوں   کے مابین دن کا پانچواں   وظیفہ  ([2]) پڑھتا رہے۔

جمعہ کے دن حج و عمرہ کا ثواب: 

        جامع مسجد میں   نمازِ عصر تک موجود رہنا مستحب ہے ہاں   اگر کوئی عذر ہو تو اٹھ کر جا سکتا ہے اور اگر غروبِ آفتاب تک بیٹھے یعنی دن کی آخری ساعت تک تو یہ بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے بشرطیکہ فتنے،   تصنع و بناوٹ اور فضول گفتگو کرنے سے  محفوظ ہو۔ چنانچہ منقول ہے کہ جو  (نمازِ جمعہ کے بعد مسجد ہی میں   بیٹھ کر ذکر و اذکار میں   مصروف رہے اور)  نمازِ عصر جامع مسجد میں   ہی پڑھے اس کے لئے ایک حج کا اور جس نے نمازِ مغرب بھی وہیں   ادا کی اس کے لئے ایک عمرہ کا ثواب بھی ہے۔ ([3])

            اگر کسی کو آفت میں   مبتلا ہو جانے یا تصنع و بناوٹ اور فضولیات میں   مگن ہونے کا خدشہ ہو تو گھر جا کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرے اور اس کی نعمتوں   میں   غورو فکر کرتا رہے اور غروبِ آفتاب کے وقت گھر یا محلے کی مسجد میں   بیٹھ کر ذکر و تسبیح اور استغفار کا خیال رکھے تو اس کے لئے ایسا کرنا جامع مسجد میں   بیٹھے رہنے سے  زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔

جمعہ کے دن سب سے  زیادہ خوش نصیب اور بد نصیب: 

            بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ لوگوں   میں   سب سے  زیادہ خوش نصیب وہ ہے جو جمعہ کا خیال رکھے اور ایک دن قبل ہی اس کا انتظار کرنے لگے جبکہ بد نصیب ہے وہ جو جمعہ کے دن صبح اٹھے اور یہ پوچھے کہ آج کونسا دن ہے؟

نمازِ جمعہ اور سلف صالحین: 

        بعض بزرگ نمازِ جمعہ کے لئے شبِ جمعہ جامع مسجد میں   بسر کیا کرتے اور کچھ تو ایسے  بھی تھے جو ہفتے کی رات بھی جامع مسجد ہی میں   بسر کیا کرتے تا کہ جمعہ کی مزید برکتیں   نصیب ہوں  ۔ اکثر اسلاف جمعہ کے دن نمازِ فجر جامع مسجد میں   ادا کرتے اور وہیں   بیٹھ کر نمازِ جمعہ کا انتظار کرتے رہتے تا کہ جلدی آنے کے سبب پہلی ساعت پانے کا اجر و ثواب حاصل کر سکیں   اور اس لئے بھی کہ قرآنِ کریم ختم کر سکیں   جبکہ عوام الناس اپنے محلے کی مساجد میں   نمازِ فجر ادا کرتے،   پھر جامع مساجد کا رخ کرتے۔ چنانچہ،   

جامع مسجد میں   جلدی نہ جانا بدعت ہے: 

            منقول ہے کہ اسلام میں   سب سے  پہلی بدعت یہ پیدا ہوئی کہ جامع مسجد میں   جلدی جانا چھوڑ دیا گیا۔   ([4])

        ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ ہم جمعہ کے دن سحری کے وقت اور نمازِ فجر کے بعد دیکھا کرتے تھے کہ تمام راستے بھرے ہوتے،   لوگ گلیوں   میں   پیدل چل رہے ہوتے اور جامع مسجد کی جانب جانے والے راستوں   میں   اچھی خاصی بھیڑ ہوتی جیسا کہ آج کل عید کے دنوں   میں   ہوتا ہے یہاں   تک کہ یہ عمل کم ہوتا گیا اور گویا کہ لوگ اسے  جانتے ہی نہ ہوں   اور آخرِ کار اسے  مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا۔  ([5])

کیا تمہیں   حیا نہیں   آتی!

            کیا تمہیں   اس بات سے  حیا نہیں   آتی کہ غیر مسلم تمہارے جامع مسجد جانے سے  پہلے صبح سویرے اپنے عبادت خانوں   کا رخ کرتے ہیں  ؟ اور کیا تم جامع مسجد کے ساتھ موجود کھلی جگہوں   میں   چیزیں   بیچنے والے تاجروں   کو بھی نہیں   دیکھتے کہ وہ دنیا کمانے کی خاطر صبح سویرے ان میدانوں   کا رخ کرتے ہیں   اور لوگوں   کے اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کی جانب جانے اور آخرت کا سرمایہ اکٹھا کرنے کی خاطر جانے سے  پہلے وہاں   پہنچ جاتے ہیں  ؟ پس بہتر ہے کہ نمازی ایسے  لوگوں   سے  قبل اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں   حاضر ہونے میں   سبقت لے جائے اور جلدی کرے۔

            مومن پر لازم ہے کہ جمعہ کے دن زیادہ سے  زیادہ اورادو وظائف اور اعمالِ خیر کیا کرے اور خود کو اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کے لئے فارغ رکھے اور سمجھے کہ اگر ہفتے کا دن



[1]     جامع بیان العلم و فضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث: ۲۳۷، ص۷۶

[2]     یہ وظیفہ اسی کتاب کی فصل نمبر ۷ میں صفحہ نمبر ۱۴۷ پر مذکور ہے۔

[3]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصلوات، الحدیث: ۳۰۴۶، ج۳، ص ۱۱۵ بتغیر

[4]     الکشاف، پ۲۸، الجمعۃ، تحت الایۃ۹، ج۴، ص۵۳۴

[5]     تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان، پ۲۸،تفسیر سورۃ الجمعۃ، ج۶، ص۳۰۱باختصار مفھوماً



Total Pages: 332

Go To