Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رہا ہو تو اس وقت کسی مانگنے والے کو نہ دے کیونکہ دورانِ خطبہ بات کرنا مکروہ ہے۔

مسجد میں   کسی سائل کو دینے کا حکم: 

            حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ کوئی شخص مسجد میں   سوال کرے تو حق یہ ہے کہ اسے  کچھ نہ دیا جائے اور جب قرآنِ کریم پر کچھ مانگے تب بھی اسے  کچھ مت دو اور بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے جامع مسجد میں   لوگوں   کی گردنیں   پھلانگ کر سوال کرنے والوں   پر صدقہ کرنے کو بھی مکروہ قرار دیا ہے،   ہاں   اگر وہ گردنیں   نہ پھلانگیں   بلکہ کسی جگہ کھڑے رہیں   یا بیٹھیں   رہیں   تو پھر انہیں   دینے میں   کوئی حرج نہیں  ۔

نمازِ جمعہ کے بعد کی دعائیں   اور وظائف: 

 (1) …حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ جو نمازِ جمعہ میں   حاضر ہو،   پھر لوٹ کردو مختلف چیزیں   صدقہ کرے ،   اس کے بعد دوبارہ جامع مسجد آ جائے اور دو رکعت نماز خشوع وخضوع سے  پڑھے،   ان کے رکوع و سجود کامل طریقے سے  ادا کرے اور پھر اس طرح دعا مانگے:  (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْاَلُكَ بِاِسْمِكَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَبِاِسْمِكَ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہُ سِنَۃٌ وَّلَانَوْمٌ)   ([1]) تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  جو بھی سوال کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  عطا فرمائے گا۔

 (2) … سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  ایک دوسرا طریقہ بھی مروی ہے،   فرماتے ہیں   کہ جو جمعہ کے دن کسی مسکین کو کھانا کھلائے پھر بہت جلد جامع مسجد چلا جائے اور کسی کو بھی کوئی تکلیف نہ پہنچائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس طرح کہے:  (اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْاَلُكَ بِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الْحَیِّ الْقَیُّوْمِ اَنْ تَغْفِرَ لِیْ وَتَرْحَمَنِیْ وَاَنْ تُعَافِیَنِیْ مِنَ النَّارِ)   ([2]) اور اس کے بعد جو بھی دعا مانگے قبول کی جائے گی۔

  (3) …جب نمازِ جمعہ کا سلام پھیرے تو حالت ِ تشہد میں   ہی کسی سے  بات کرنے سے  قبل سات مرتبہ الحمد شریف،   سات مرتبہ  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ)   اور سات سات مرتبہ  (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ)   اور  (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ)  پڑھے۔ چنانچہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  مروی ہے کہ جو شخص ایسا کرے گا ایک جمعہ سے  دوسرے جمعہ تک محفوظ ہو جائے گا اور یہ وظیفہ اس کے لئے شیطان سے  آڑ ہو گا۔

 (4) … نمازِ جمعہ کے بعد اس طرح دعا کرنا مستحب ہے:  (اَللّٰہُمَّ یا غَنِیُّ! یاحَمِیْدُ ! یا مُبْدِیُٔ ! یا مُعِیْدُ ! یا رَحِیْمُ ! یاوَدُوْدُ ! اَغْنِنِیْ بِحَلاَ لِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَبِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ)  

تر جمعہ : اے اللہعَزَّ وَجَلَّ ! اے غنی! اے حمید! اے پہلی مرتبہ پیدا کرنے والے! اے دوبارہ لوٹانے والے!اے رحم فرمانے والے ! اے بہت محبت فرمانے والے! مجھے اپنے حلال کے ذریعے حرام سے  اور اپنے فضل و کرم کے سہارے اپنے غیر سے  غنی و بے پروا کر دے۔

            منقول ہے کہ جو شخص ہمیشہ اسی طرح دعا کیا کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  مخلوق سے  بے پروا کر دیتا ہے اور اسے  بےشمار رزق عطا فرماتا ہے۔

تلاشِ فضل سے  مراد: 

        نمازِ جمعہ کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی زمین میں   اس کا فضل تلاش کرنے کی خاطر پھیل جانا چاہئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل سے  مراد علم حاصل کرنا اور اس کی سماعت کرنا ہے۔ چنانچہ،   

                                                منقول ہے کہ عالم اور متعلم کے لئے اس دن کو یوم المزید کہا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں   بھی فضل سے  مراد علم ہی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: 

 (1)  وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا (۱۱۳)  (پ۵،  النساء:  ۱۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور تمہیں   سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔

 (2)  وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًاؕ- (پ۲۲،  سبا:  ۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بیشک ہم نے داود کو اپنا بڑا فضل دیا۔

        یہاں   فضل سے  مراد علم ہے جس کی دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں   موجود ہے:

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًاۚ-وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا (پ۱۹،  النمل:  ۱۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بیشک ہم نے داود اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا اور دونوں  نے کہا سب خوبیاں   اللہ کو جس نے ہمیں   فضیلت بخشی۔

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ  (پ۲۸،  الجمعۃ:  ۱۰) )   ([3])  کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ یہاں   طلبِ دنیا مراد نہیں   بلکہ اس سے  مراد ہے: مریض کی عیادت کرنا،   جنازے میں   شرکت کرنا،   علم حاصل کرنا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر کسی مسلمان بھائی کی زیارت کرنا۔ ([4])

            جمعہ کے دن علم حاصل کرنا اور لوگوں   کو سکھانا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنا اور اس کی دعوت دینا،   بقیہ ایام میں   مذکورہ اعمال بجا لانے سے  افضل ہے۔ کیونکہ یہ یوم المزید ہے۔ اس دن قلوب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب زیادہ متوجہ ہوتے ہیں  ،   اسی طرح وہ زیادہ کوشش کرتے ہیں   اور توجہ سے  سنتے ہیں  ۔ باقی دنوں   کے مقابلے میں   جمعہ کے دن مجالسِ ذکر میں   شرکت کرنا



[1]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں تجھ سے تیرے نام ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ اور ” اَلَّذِیْ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہُ سِنَۃٌ وَّلَانَوْمٌ“ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں۔

[2]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الْحَیِّ الْقَیُّوْم“ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور آگ سے نجات عطا فرما۔

[3]     ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

[4]     تفسیر الطبری، پ۲۸، الجمعۃ، تحت الایۃ ۱۰، الحدیث: ۳۴۱۳۳، ج۱۲، ص۹۷بدون طلب العلم



Total Pages: 332

Go To