Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            منقول ہے کہ چار چیزیں   جفا سے  ہیں : (۱)  مرد کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا  (۲)  دوسری صف میں   نماز ادا کرنا اور پہلی صف میں   موجود جگہ کو خالی چھوڑ دینا  (۳)  دورانِ نماز پیشانی کا مسح کرنا  (۴)  شارع عام میں   نماز ادا کرنا۔  ([1])

جامع مسجد کے دروازے پر بیٹھے افراد محترم نہیں : 

        حضرت سیِّدُنا امام حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے:  ’’ جمعہ کے دن جامع مسجد کے دروازوں   پر بیٹھے ہوئے لوگوں   کی گردنیں   پھلانگ لیا کرو کہ ان کے لئے کوئی حرمت نہیں  ۔ ‘‘   ([2])

آدابِ خطبہ: 

        چاہئے کہ امام کے قریب ہو جائے،   خاموش ہو کر اسے  سنے اور اس کی جانب اپنا منہ کر لے کہ یہی مسنون ہے۔ ہاں   اگر امام سے  کوئی ناپسندیدہ بات سننے یا دیکھنے کا خدشہ ہو۔ مثلاً اسنے سیاہ لباس زیبِ تن کیا ہو،   یا ریشم وغیرہ پہنا ہو یا بھاری و خوبصورت اسلحہ لئے ہو اور وہ شخص امام کی حالت بدلنے کی صلاحیت بھی نہ رکھتا ہو تو چاہئے کہ دور ہی بیٹھا رہے کہ یہی زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

            دورانِ خطبہ کسی فضول کام  ([3]) میں   مشغول ہو نہ کسی سے  کوئی بات کرے اگرچہ امام سے  دور بیٹھا ہو،   باتیں   کرنے والوں   کے پاس بیٹھے نہ ہی کسی کو یہ کہے: ’’خاموش ہو جاؤ۔ ‘‘  بلکہ اسے  اشارے سے  سمجھائے اگر اسنے امام کے خطبہ دیتے وقت کوئی لغو کام کیا تو اس کا جمعہ باطل ہو جائے گا  (یعنی اس کا کامل ثواب نہیں   پائے گا) ،   نیز دورانِ خطبہ کوئی علمی بات بھی نہ کرے،   نیز جو شخص نہ تو امام کے قریب ہو اور نہ ہی اسے  اس کی آواز سنائی دے تو اسے  بھی چاہئے کہ خاموش رہے اگرچہ کتنا ہی دور ہو کہ یہی مستحب ہے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ جس نے  (خطبہ)  سنا اور خاموش رہا اس کے لئے دو اجر ہیں   اور جس نے نہ سنا لیکن خاموش رہا اس کے لئے ایک اجر ہے اور جس نے سنا لیکن لغو کاموں   میں   مشغول رہا اس پر دو بوجھ ہیں   اور جس نے نہیں   سنا اور فضول کاموں   میں   مصروف رہا تو اس پر صرف ایک ہی گناہ ہے۔ ‘‘   ([4])

            حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ انہوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خطبہ دینے کے دوران حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  پوچھا کہ فلاں   سورت کب نازل ہوئی؟ تو انہوں  نے اشارے سے  خاموش ہونے کا کہا۔ جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر سے  نیچے تشریف لائے تو سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  فرمایا :  ’’ آپ جائیں  ،   آپ کا جمعہ نہیں   ہوا۔ ‘‘  سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  اس بات کی شکایت کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ارشاد فرمایا کہ اُبَیّنے سچ کہا ہے۔  ([5])

            شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ خطبہ کے دوران جس نے اپنے ساتھی سے  کہا کہ وہ چپ رہے یا ٹھہر جائے تو اس نے لغو کام کیا اور جس نے امام کے خطبہ کے دوران کوئی لغو کام کیا اسے  جمعہ کا ثواب نہیں   ملے گا۔ ‘‘   ([6])

اذانِ ثانی کے وقت نماز کا حکم: 

        بندے کو چاہئے کہ جب مؤذن امام کے سامنے اذان کے لئے کھڑا ہو تو نماز ترک کر دے۔ چنانچہ،   

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ چار اوقات میں   نماز مکروہ ہے: نمازِ فجر اور عصر کے بعد،   نصف النہار کے وقت اور جب امام خطبہ دے رہا ہو۔  ([7])  اور ایک روایت میں   ہے کہ امام کے خطبہ کی خاطر نکلنے سے  نماز کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور اس کا کلام ہر قسم کی گفتگو ختم کر دیتا ہے۔ ([8])

            جب مؤذن خطبہ سے  پہلے اذان کے لئے کھڑا ہوتا ہے اس وقت عام لوگوں   کا سجدہ کرنا مسنون نہیں   ہے،   اگر اس کا یہ سجدہ نماز یا تلاوت کا ہو تو طویل دعا کرنے میں   کوئی حرج نہیں   کیونکہ یہ فضیلت والا وقت ہے۔  (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  میرے نزدیک یہ مباح ہے کیونکہ مجھے اس کی ممانعت کے متعلق کوئی روایت معلوم نہیں   ہوئی۔

جمعہ کے دن صدقہ : 

            حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ جمعہ کے دن خاص طور پر صدقہ کرنا مستحب اور باعثِ فضیلت ہے کیونکہ اس کا اجر کئی گنا ہوتا ہے،   ہاں   جب امام خطبہ دے



[1]     السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب لا یمسح و جھہ     الخ، الحدیث: ۳۵۵۲، ج۲، ص۴۰۵ بدون یصلّی فی الصف الثانی     الخ

[2]     المغنی لابن قدامہ، کتاب صلاۃ الجمعۃ، فصل فان رای فرجۃ، ج۳، ص۲۳۱

[3]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 774 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جو چیزیں نماز میں حرام ہیں مثلا کھانا پینا، سلام و جواب ِ سلام وغیرہ یہ سب خطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ امر بالمعروف ، ہاں خطیب امر بالمعروف کر سکتا ہے، جب خطبہ پڑھے تو تمام حاضرین پر سننا اور چپ رہنا فرض ہے، جو لوگ امام سے دور ہوں کہ خطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچتی انہیں بھی چپ رہنا واجب ہے، اگر کسی کو بری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشارے سے منع کر سکتے ہیں زبان سے ناجائز ہے۔

[4]     المسند للامام احمد بن حنبل،مسند علی بن ابی طالب، الحدیث: ۷۱۹، ج۱، ص۲۰۱ بتغیر

[5]     سنن ابنِ ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الاستمتاع     الخ، الحدیث: ۱۱۱۱، ص۲۵۴۲

[6]     سنن النسائی، کتاب الجمعۃ، باب الانصات للخطبۃ یوم الجمعۃ، الحدیث:۱۴۰۲، ص۲۱۷۹

[7]     المصنف لعبد الرزاق، کتاب الصلاۃ، باب الساعۃ التی یکرہ فیھا الصلاۃ، الحدیث: ۳۹۶۹، ج۲، ص۲۸۴عن ابن سیرین

                      المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب کان یقول اذا خطب الامام فلا تصل، الحدیث: ۱، ج۲، ص۲۰عن عطاء مختصراً

[8]     المؤطا للامام مالک، کتاب الجمعۃ، باب ما جاء فی الانصات یوم الجمعۃ والامام یخطب، الحدیث: ۲۳۶، ج۱، ص۱۱۱



Total Pages: 332

Go To