Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وسعت اور کشادگی اختیار کر لیا کرو۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے متعلق ہی مروی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی جگہ سے  اٹھنے والے شخص کی جگہ پر نہ بیٹھتے یہاں   تک کہ وہ خود لوٹ کر اپنی جگہ پر آ بیٹھتا۔ ([2])

            منقول ہے کہ ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرۂ اقدس کے پاس ایک قصہ گو آ کر قصے سنایا کرتا،   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کو پیغام بھیجا کہ یہ شخص اپنی قصہ گوئی کے باعث مجھے اذیت دیتا ہے اور میری تسبیحات میں   رکاوٹ بنتا ہے۔ راوی کہتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اس قصہ گو کی اتنی پٹائی کی کہ اس کی پشت پر مار مار کر اپنا عصا توڑ ڈالا،   پھر اسے  ایسے  ہی پھینک دیا۔

نمازی کے آگے سے  گزرنے کا حکم: 

            نمازی کے آگے سے  گزرنے سے  بچنا چاہئے  ([3]) اگرچہ گزرنے سے  نماز منقطع نہیں   ہوتی۔ مروی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’40 سال تک کھڑے رہنا نمازی کے آگے سے  گزرنے سے  بہتر ہے۔ ‘‘   ([4])  اور ایک روایت میں   شدید وعید کا ذکر ہے۔ چنانچہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’نمازی کے آگے سے  گزرنے سے  بہتر ہے کہ آدمی راکھ ہو اور ہوائیں   اسے  اڑاتی پھریں۔‘‘([5])

            ایک روایت میں   آگے سے  گزرنے اور نماز پڑھنے والے دونوں   کو حکم میں   مساوی قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا زید بن خالد جہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ پیکرِعظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ اگر نمازی کے سامنے سے  گزرنے والا شخص اور نمازی جانتے ([6]) کہ ان پر کیا  (گناہ)  ہے تو گزرنے والے کا 40  (سال یا دن)  تک کھڑے رہنا سامنے سے  گزرنے کے بجائے بہتر ہوتا۔ ‘‘   ([7])

            نمازی کو چاہئے کہ کسی ستون یا دیوار کے قریب نماز ادا کرے،   جب وہ ایسا کرے گا تو کسی کو بھی اپنے سامنے سے  ہر گز گزرنے نہ دے بلکہ جہاں   تک ممکن ہو اسے  روکے۔ ([8])

            حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اگر گزرنے والا بات نہ مانے تو اس سے  قتال کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔  ([9]) بلکہ حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے سامنے سے  گزرنے والے شخص کو

روکتے یہاں   تک کہ اسے  زمین پر گرا دیتے اور بعض اوقات تو اس سے  چمٹ ہی جاتے اور وہ  (امیرِ شہر)  مروان سے  مدد طلب کرتا۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے  بتاتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔

            اگر نمازی کے قریب ستون نہ ہو تو اپنے سامنے کسی بھی ایسی شے کو رکھ لے جس کی لمبائی ایک گز ہو اور ایک قول کے مطابق اگر لمبی رسی بھی رکھ دے تو وہ بھی نمازی اور گزرنے والے کے درمیان آڑ ہو گی۔ ([10])

 



[1]     صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحریم اقامۃ الانسان     الخ، الحدیث: ۵۶۸۴،ص۱۰۶۵

[2]     المرجع السابق، الحدیث: ۵۶۸۶ بدون حتی یعود الیہ

[3]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 615 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میدان اور بڑی مسجد میں مصلی کے قدم سے موضع سجود تک گزرنا ناجائز ہے، موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کرے تو جتنی دور تک نگاہ پھیلے وہ موضع سجود ہے اس کے درمیان سے گزرنا ناجائز ہے، مکان اور چھوٹی مسجد میں قدم سے دیوارِ قبلہ تک کہیں سے گزرنا جائز نہیں اگر سترہ نہ ہو۔

[4]     صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، باب اتم المار بین یدی المصلی، الحدیث: ۵۱۰، ص۴۲

[5]     التمھید لابن عبد البر، تحت الحدیث: ۵۹۶، ج۸، ص۴۷۸ بدون الریاح

[6]     حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عبد الباقی بن یوسف زرقانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِیشرح الزرقانی علی موطا الامام مالک“ جلد اوّل صفحہ 464 پر اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ نمازی اور گزرنے والے دونوں کے گناہگار ہونے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نمازی گزرنے والے کو روکنے میں زبردستی کرے یا پھر وہ شارع عام میں نماز ادا کرے۔

[7]     شرح الزرقانی علی الموطأللامام مالک، کتاب قصر الصلاۃ فی السفر، باب التشدید فی أن یمر احد بین یدی المصلی،ج ۱، ص۴۶۴

[8]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 617 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: نمازی کے سامنے سترہ نہیں اور کوئی شخص گزرنا چاہتا ہے یا سترہ ہے مگر وہ شخص مصلی اور سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہتا ہے تو نمازی کو رخصت ہے کہ اسے گزرنے سے روکے، خواہ سُبْحَانَ اللّٰہ کہے یا جہر کے ساتھ قراء ت کرے یا ہاتھ، یا سَر، یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، مثلا کپڑا پکڑ کر جھٹکنا یا مارنا، بلکہ اگر عملِ کثیر ہو گیا تو نماز ہی جاتی رہی۔

[9]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی سختی سے اسے روکے، یہاں لڑنا بھڑنا اور قتل کرنا مراد نہیں۔ مرقاتنے فرمایا ہے کہ اگر کوئی جاہل نمازی اسے قتل کردے تو عمداً قتل میں قصاص واجب ہوگا اور خطا میں دیت۔ خیال رہے کہ اگر نمازی بغیر سترے راستہ میں نماز پڑھ رہا ہے تو اسے گزرنے والے کو روکنے کا حق نہ ہو گا کہ اس میں قصور نمازی کا ہے اسی لیے یہاں سترے کی قید لگائی شیطان سے مراد یا تو اصطلاحی شیطان ہے یعنی جنات کا مورث اعلیٰ۔ تب تو یہ مطلب ہوگا کہ اسے شیطان بہکا کر ادھر لارہا ہے اور اس پر شیطان سوار ہے اور یا شیطان سے انسانوں کا شیطان مراد ہے جو شیطانوں کا سا کام کرے وہ شیطان ہی ہوتا ہے قرآن کریم نے بھی شیطانی کام کرنے والے انسانوں کو خناس فرمایا ہے کہ ارشاد فرمایا الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵)مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے ایک یہ کہ دینی



Total Pages: 332

Go To