Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ان کو مقامِ محمود پر فائز فرما اور ان کے قرب کو مزید قریب کر دے،   اس کے سبب ان کی آنکھوں   کو ٹھنڈا کر دے کہ ان پر پہلے اور پچھلے رشک کریں  ۔اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فضل،   فضیلت،   بزرگی،   وسیلہ،   بلند درجہ اور بلند مرتبہ عطا فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سوال کو پورا فرما،   انہیں   ان کی امید تک پہنچا،   انہیں   پہلا شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنا۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ان کی دلیل کو بزرگی عطا فرما،   ان کے ترازو کو بھاری کر دے،   ان کی دلیل کو روشن بنا دے،   مقربین میں   ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں   ان کے زمرۂ جماعت میں   اٹھانا اور ہمیں   ان کی شفاعت پانے والوں   میں   شامل فرما دے،   ان کی سنت پر زندہ رکھ اور ان کی ملت پر موت دے،   ہمیں   ان کے حوض پر حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمانا اور ان کے جام سے  سیراب کرنا اس حال میں   کہ ہم رسوا ہوں   نہ نادم،   نہ شک کرنے والے،   نہ تبدیلی کرنے والے،   نہ بدلنے والے،   نہ گمراہ کرنے والے اور نہ گمراہ کئے گئے۔ اے تمام جہانوں   کے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! ہماری دعا قبول فرما۔

جمعہ کے دن استغفار کی کثرت: 

        جمعہ کے دن اور شبِ جمعہ کثرت سے  استغفار پڑھے،   ہر وہ دعا جس میں   مغفرت کا سوال ہو اس سے  دعامانگنا مغفرت چاہنا ہی ہے لیکن اگر ذیل کی کوئی دعا پڑھے تو بہتر ہے:

 (۱) …  (اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ)      ([1])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما،   بے شک  تو بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔

  (۲) …  (رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ)   ([2])

تر جمعہ : اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،   میرا ہر وہ گناہ جو تیرے علم میں   ہے اس سے  درگزر فرما اور تو ہی سب سے  بہتر رحم فرمانے والا ہے۔

جمعہ اور قرآنِ کریم کا ختم: 

            بندے کے لئے مستحب یہ ہے کہ جمعہ کے دن ایک قرآنِ کریم ختم کرے ([3]) اور اگر وقت تنگ ہو تو ساتھ میں   شبِ جمعہ بھی ملا لے تا کہ قرآنِ کریم کی ابتدا شبِ جمعہ سے  ہو۔ اگر قرآنِ کریم کا ختم جمعہ کے دن فجر کی رکعتوں   میں   ہو یا نمازِ مغرب میں   تو زیادہ بہتر ہے تا کہ رات اور دن کا سارا وقت شامل ہو جائے اور اگر کوئی جمعہ کی اذان اور اقامت کے درمیان قرآنِ کریم ختم کرے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔

معمولاتِ جمعہ:

 (1) … نمازِ جمعہ سے  قبل بارہ اور بعد میں   چھ رکعت پڑھنا مستحب ہے۔ جب کوئی شخص جامع مسجد میں   داخل ہو تو اسے  چاہئے کہ چار رکعت نماز میں200مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے یعنی ہر رکعت میں 50 مرتبہ پڑھے۔ چنانچہ،   

            اس کی فضیلت میں   مروی ہے کہ جو اس طرح کرے وہ مرنے سے  پہلے جنت میں   اپنا ٹھکانا دیکھ لے گا یا اسے  دکھا دیا جائے گا۔ ([4])

 (2) … جب جامع مسجد میں   داخل ہو تو بیٹھنے سے  قبل دو رکعت  (تحیۃ المسجد)  ضرور ادا کرے اور اگر مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دونوں   رکعتیں   مختصر ادا کرے اگرچہ امام کی آواز سن رہا ہو ([5]) کیونکہ ان دو رکعتوں   کے پڑھنے کا حکم حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیا ہے۔

 (3) … شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ سورۂ کہف پڑھے اسے  اس مقام سے  لے کر جہاں   وہ پڑھ رہا ہو مکۂ مکرمہ زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا   تک نور عطا کیا جاتا ہے اور آیندہ جمعہ تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں   بلکہ تین دن زائد کے بھی،   70 ہزار فرشتے صبح تک اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں   اور اسے  بیماری سے ،   پیٹ کے پھوڑے سے ،   پہلو کے درد،   برص اور کوڑھ کے مرض سے ،   نیز دجال کے فتنہ سے  محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ ‘‘   ([6])

 (4) … جمعہ کے دن یہ نماز پڑھنا مستحب ہے: یعنی چار رکعتوں   میں   چار سورتیں   پڑھے: سورۂ انعام،   سورۂ کہف،   سورۂ طٰہٰ اور سورۂ یس۔ اگر یہ سب سورتیں   نہ پڑھ سکتا ہو تو سورۂ یس،   سورۂ لقمان،   سورۂ دخان اور سورۂ ملک پڑھے۔

 (5) … ہر شبِ جمعہ مذکورہ سورتوں   میں   سے  کسی سورت کو پڑھنا ہر گز نہ چھوڑے۔ اس کے متعلق ایک روایت بھی مروی ہے جس میں   بڑی فضیلت مذکور ہے۔

 (6) … اگر سارا قرآنِ کریم صحیح طور پر نہ پڑھ سکتا ہو تو جس قدر اچھا پڑھنا اس کے لئے ممکن ہو پڑھے،   اس کے لئے یہی ختمِ قرآنِ کریم ہو گا۔ ایک قول میں   ہے کہ ایسے  شخص کا ختم اس کے علم کے اعتبار سے  ہوتا ہے۔

 



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر بن خطاب، الحدیث: ۵۳۵۴، ج۲، ص۳۴۸

[2]     جامع الاصول فی احادیث الرسول للجزری، کتاب الصلاۃ، فی النوافل، الفصل السابع فی صلاۃ الغرائب، الحدیث: ۴۲۶۸، ج۶، ص۱۷۰ بدون و انت خیر الراحمین

[3]     حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کتاب ہٰذا کی سولہویں فصل کی ابتداء میں (صفحہ نمبر 256پر) جمعہ کے دن ختم قرآنِ کریم کی وضاحت کچھ یوں فرماتے ہیں کہ مرید کے لئے مستحب یہ ہے کہ ہر ہفتے میں دو قرآنِ کریم ختم کیا کرے، ایک ختم دن کے وقت اور ایک رات کے وقت۔ دن کا ختم پیر کے روز نمازِ فجر کی دو رکعتوں میں یا ان کے بعد کرے اور رات کا ختم شبِ جمعہ مغرب یا اس کے بعد کرے تا کہ اس کا قرآنِ کریم ختم کرنا دن یا رات کے ابتدائی حصے میں ہو کیونکہ اگر وہ رات کے وقت قرآن کریم ختم کرے گا تو فرشتے اس کے لئے صبح تک دعا کرتے رہیں گے اور اگر دن کے وقت کرے گا تو رات تک اس کے لئے دعا کرتے رہیں گے۔ پس یہ دو ایسے وقت ہیں جو مکمل طور پر رات اور دن کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’اس شخصنے قرآنِ کریم سمجھا ہی نہیں جسنے تین دنوں سے کم میں ختم کیا۔‘‘ (جامع الترمذی، ابواب القراء ات، باب فی کم اقرا القران؟، الحدیث: ۲۹۴۹، ص۱۹۴۸)   مزید تفصیلات کے لیے متعلقہ صفحات کا مطالعہ فرمائیے۔

[4]     تفسیر القرطبی، پ۳۰،  الاخلاص، الجز ءالعشرون ، ج۱۰ ،ص۱۸۳

[5]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 774 پر ہے: جب امام خطبہ کے لئے کھڑا ہوا اس وقت سے ختم نماز تک نماز و اذکار اور ہر قسم کا کلام منع ہے، البتہ صاحبِ ترتیب اپنی قضا نماز پڑھ لے، یونہی جو شخص سنت یا نفل پڑھ رہا ہو جلد جلد پوری کر لے۔

[6]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب اسرار الصلاۃ، الباب الخامس، ج۳، ص۴۷۸



Total Pages: 332

Go To