Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

طور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا طالب رہے اور خشوع وخضوع اور عجز و انکساری سے  اس کی جانب متوجہ رہے۔ ([1])

            پس جو بندہ سارا دن مختلف اوراد و وظائف میں   مصروف رہے اور ہر گھڑی و ساعت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے  معمور رکھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اذن سے  اس ساعت کو یقیناً پا لیتا ہے،   اگر تمام اوقات میں   لگاتار اور مسلسل ذکر نہ کر سکے تو مختلف جمعوں   میں   بالترتیب ہر اگلے جمعہ کو اگلی ساعت میں   ذکر کر لیا کرے اور اس طرح بھی یقیناً تمام اوقات میں   اس

کا ذکر کرنا واقع ہو جائے گا۔

        دو اوقات میں   خاص طور پر دعا اور گریہ و زاری کی کثرت کیا کرے یعنی امام کے منبر پر چڑھتے وقت یہاں   تک کہ نماز شروع ہو جائے اور دوسرے غروب آفتاب کے آخری لمحات کے وقت۔ یہ جمعہ کے افضل ترین اوقات ہیں   اور دل میں   اس بات کا یقین رکھے کہ انہی دو اوقات میں   سے  کسی ایک وقت میں   مقبولیت کی وہ ساعت موجود ہے۔

        حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپس میں   ایک جگہ جمع ہوئے اور حضرت سیِّدُنا کعب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس ساعت کے متعلق فرمایا کہ یہ جمعہ کے دن آخری ساعت ہے اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’یہ آخری ساعت کیونکر ہو سکتی ہے؟ حالانکہ میں  نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  سنا ہے کہ وہ ساعت ایسے  بندے کے موافق ہوتی ہے جو نماز پڑھتا ہے اور یہ نماز کا وقت نہیں  ۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّارنے فرمایا کہ کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشاد نہیں   فرمایا: ’’جو شخص نماز کے انتظار میں   بیٹھتا ہے وہ نماز میں   ہی ہوتا ہے۔ ‘‘  تو وہ بولے :  ’’ ہاں   یہ تو فرمایا ہے۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا کعب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ’’یہی تو نماز ہے۔ ‘‘  پس حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خاموش ہو گئے،   گویا کہ انہوں  نے ان کی بات سے  اتفاق کر لیا۔ ([2])

فضائلِ درودِ پاک : 

        روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ درودِ پاک کی کثرت کی جائے اور اس کثرت کی کم از کم تعداد 300 مرتبہ ہے۔

        شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس نے جمعہ کے دن مجھ پر 80 مرتبہ درود بھیجا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے 80 سال کے گناہ بخش دے گا۔  ‘‘  عرض کی گئی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ پر درود شریف کیسے  پڑھیں  ؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ یوں   پڑھو:  (اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِیِّكَ وَرَسُوْلِكَ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ)   ([3])   اور اس کو ایک شمار کرو۔ ‘‘   ([4])

شفاعت واجب ہو گئی: 

        یہ درودِ پاک پڑھیں  : (اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰۤی اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلَاۃً تَکُوْنُ لَكَ رِضَآءً وَّلِحَقِّہٖ اَدَآءً وَّاَعْطِہِ الْوَسِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ نِالَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ وَاجْزِہٖ عَنَّا مَاھُوَ اَھْلُہٗ وَاجْزِہٖ اَفْضَلَ مَاجَزَیْتَ نَبِیًّاعَنْ اُمَّتِہٖ وَصَلِّ عَلٰی جَمِیْعِ اِخْوَانِہٖ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصَّالِحِیْنَ یاۤ  اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ)   ([5])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کی آل پر ایسا درود بھیج جو تیری رضا کا باعث اور سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حق کی ادائیگی کا سبب ہو اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وہ مقامِ محمود عطا فرما جس کا تونے ان سے  وعدہ فرمایا ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہماری طرف سے  وہ جزا عطا فرما جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شایانِ شان ہے اور اس سے  افضل بدلہ عطا فرما جو تونے کسی نبی کو ان کی امت کی طرف سے  عطا فرمایا ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اور آپ کے تمام بھائیوں   یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صالحین پر رحمت فرما،   اے سب سے  زیادہ رحم فرمانے والے!

            سات مرتبہ مذکورہ درود پاک پڑھے،   اس کی بڑی فضیلت مروی ہے۔ چنانچہ،   

            منقول ہے کہ جو شخص سات جمعوں   تک اس طرح پڑھے کہ ہر جمعہ میں   سات بار پڑھے اس کے لئے شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت واجب ہو گئی۔

        اگر اس میں   مزید اضافہ کرنا چاہے تو یہ درودِ پاک بھی ساتھ ملا لے:  (اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَضَآئِلَ صَلَوَاتِكَ وَشَرَآئِفَ زَكَوَاتِكَ وَنَوَامِیَ بَرَكَاتِكَ وَرَاْفَتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَتَحِیَّتِكَ عَلٰی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَرَسُوْلِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ قَآئِدِ الْخَیْرِ وَفَاتِحِ الْبِرِّ وَنَبِیِّ الرَّحْمَۃِ وَسَیِّدِ الْاُمَّۃِ۔ اَللّٰہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا تَزْلَفُ بِہٖ قُرْبَہٗ وَتَقِرُّبِہٖ عَیْنَہٗ یَغْبِطُہٗ بِہِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ)   ([6])   (اَللّٰہُمَّ اَعْطِہِ الْفَضْلَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالشَّرْفَ وَالْوَسِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَالْمَنْزِلَۃَ الشَّامِخَۃَ الْمُنِیْفَۃَ،   اَللّٰہُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدًا سُؤْلَہٗ وَبَلِّغْہٗ مَاْمُوْلَہٗ وَاجْعَلْہٗ اَوَّلَ شَافِعٍ وَّاَوَّلَ مُشَفَّعٍ،   اَللّٰہُمَّ عَظِّمْ بُرْھَانَہٗ وَثَقِّلْ مِیْزَانَہٗ وَاَبْلِجْ حُجَّتَہٗ وَارْفَعْ فِی اَعْلَی الْمُقَرَّبِیْنَ دَرَجَتَہٗ،   اَللّٰہُمَّ احْشُرْنَا فِیْ زُمْرَتِہٖ وَاجْعَلْنَا مِنْ اَھْلِ شَفَاعَتِہٖ وَاحْیِنَا عَلٰی سُنَّتِہٖ وَتَوَفَّنَا عَلٰی مِلَّتِہٖ وَاَوْرِدْنَا حَوْضَہٗ وَاسْقِنَا بِكَاْسِہٖ غَیْرَ خَزَایا وَلَا نَادِمِیْنَ وَلَاشَآ  كِّیْنَ وَلَا مُبَدِّلِیْنَ وَلَا فَتَّانِیْنَ وَلَا مَفْتُوْنِیْنَ،   اٰمِیْنَ،   رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ)   ([7])

تر جمعہ : اے اللہعَزَّ وَجَلَّ ! اپنی رحمت کی فضیلتیں  ،   اپنی پاکیزگی و طہارت کی شرافت،   اپنی برکات ،   بخشش اور رحمت و سلامتی میں   زیادتی فرما حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو تمام رسولوں   کے سردار،   پرہیزگاروں   کے امام،   آخری نبی اور تمام جہانوں   کے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کے رسول،   بھلائی کی طرف لے جانے والے،   نیکی کے دروازے کو کھولنے والے،   رحمت والے نبی اور امت کے سردار ہیں  ۔ اے



[1]     المرجع السابق

[2]     سنن النسائی، کتاب الجمعۃ، باب ذکر الساعۃ التی یستجاب فیھا الدعاء یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۴۳۱، ص۲۱۸۱کعب الاحبار بدلہ عبداللہ بن سلام

[3]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اپنے خاص بندے اور اپنے نبی اور اپنے رسول امی نبی حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیج۔

[4]     تاریخ بغداد، الرقم ۷۳۲۶ وھب بن داود، ج۱۳، ص۴۶۴

[5]     دلائل الخیرات، الحزب الرابع فی یوم الخمیس، ص۷۶

[6]     سنن ابنِ ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم، الحدیث: ۹۰۶، ص۲۵۳۰مختصراً وملتقطاً

[7]     دلائل الخیرات، الحزب الرابع فی یوم الخمیس، ص۷۷تا ۷۸



Total Pages: 332

Go To