Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ادا کرے ،   ہاں   اگر نماز کے بعد چاہے تو اتار دے۔

جامع مسجد جانے کے آداب: 

        چاہئے کہ جب کوئی شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضری کے لئے گھر سے  نکلے تو خشوع وخضوع سے  نکلے پر سکون و پروقار ہو عجز و انکسار کا پیکر ہو اورکثرت سے  استغفار اور دعا میں   مشغول ہو۔

’’اَلْجُمُعَۃ ‘‘  کے 6 حروف کی نسبت سے  نمازِجمعہ کی چھ نیتیں: 

        نمازِ جمعہ کے لیے گھر سے  نکلتے ہوئے یہ چھ نیتیں   کر لیں  :

 (۱) … پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کی زیارت کروں   گا۔

 (۲) … فرض ادا کروں   گا۔

 (۳) … واپس لوٹنے تک مسجد میں   اعتکاف کے ذریعے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کروں   گا۔

 (۴) … اعضاء و جوارح کو لہو و لعب اور دوسرے لغو کاموں   سے  بچاؤں   گا۔

 (۵) … پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں   مشغول ہو کر بقیہ مشاغل سے  بچوں   گا۔

 (۶) … عبادت کی بجا آوری میں   دنیاوی لذتوں   اور آرام و سکون کو ترک کر دوں   گا۔

جمعہ کے دن اوقات کی تقسیم: 

        جمعہ کے دن لگاتار عبادت میں   مصروف رہے،   یعنی دن کی ابتدا سے  لے کر نماز تک نوافل وغیرہ پڑھتا رہے اور دن کے درمیانی حصے میں   نمازِ عصر تک علم کی سماعت او رمجالسِ ذکر میں   مشغول رہے اور دن کے آخری حصے میں   نمازِ مغرب تک تسبیح و استغفار میں   مصروف رہے۔علمائے متقدمین نے یومِ جمعہ کے اسی طرح تین حصے بنا رکھے تھے۔

جمعہ کے دن روزہ رکھنا: 

        اگر جمعہ کے دن روزہ رکھ سکتا ہو تو اچھا ہے لیکن جمعرات یا ہفتہ کے دن کا روزہ بھی ساتھ ملا لے،   صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے اور جو روزہ نہ رکھے اگرچہ صلاحیت ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اس دن  (اپنی بیوی سے )  جماع کر لے کہ اس کی بھی فضیلت مروی ہے اور بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن ایسا ہی کیا کرتے تھے۔چنانچہ، 

        مروی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو جمعہ کے دن غسل کرے اور  (بیوی کو)  غسل کرائے ([1]) بہت جلدی جا کر امام کے قریب بیٹھے اور کوئی لغو کام نہ کرے تو اس کے لئے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں   اور رات کے قیام کا ثواب ہے۔ ‘‘   ([2])  اور ایک روایت میں   ہے کہ’’جو امام کے قریب بیٹھے اور اس کی باتیں   سنے تو اس کا یہ عمل اس کے لئے دو جمعوں   کے درمیانی اعمال کا کفارہ ہو گا اور تین دن مزید کا۔ ‘‘   ([3])

            ایک روایت میں   الفاظ کچھ یوں   ہیں  :  ’’ اس کی دوسرے جمعہ تک مغفرت فرما دی جائے گی۔ ‘‘  اور بعض روایات میں   یہ شرط مذکور ہے کہ وہ لوگوں   کی گردنیں   نہ پھلانگے۔   ([4])

 لوگوں   کی گردنیں   پھلانگنے کا حکم: 

            لوگوں   کی گردنیں   پھلانگنے سے  بچے کہ یہ حد درجہ مکروہ ہے اور اس کے متعلق سخت وعید مروی ہے کہ ’’جس نے ایسا کیا اسے  قیامت کے دن جہنم پر پل بنا دیا جائے گا اور لوگ اس پر پیدل چلیں   گے۔ ‘‘   ([5])

            حضرت سیِّدُنا ابن جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  ایک مرسل حدیثِ پاک منقول ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو لوگوں   کی گردنیں   پھلانگتے ہوئے دیکھا یہاں   تک کہ وہ آگے آ کر بیٹھ گیا،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نمازِ جمعہ ادا فرما کر اس شخص کی جانب متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:  ’’ اے فلاں  ! تجھے آج ہمارے ساتھ جمع ہونے سے  کس چیزنے منع فرمایا؟ ‘‘  اسنے عرض کی:  ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   تو آپ کے ساتھ ہی تھا۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’ کیا میں  نے تجھے لوگوں   کی گردنیں   پھلانگتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ ‘‘   ([6])  اور ایک روایت میں   ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشا د فرمایا:  ’’ تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے  کس شےنے منع کیا؟ ‘‘  تو اسنے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ نے مجھے



[1]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان مراٰۃالمناجیح، ج2،ص337پرارشاد فرماتے ہیں کہ نماز سے پہلے بیوی سے صحبت کرے تاکہ وہ بھی نہائے اور یہ بھی نہائے اور جمعہ کے وقت دل میں سکون رہے، نگاہیں نیچی رہیں، بعضنے فرمایا ان دو لفظوں کے معنی یہ ہیں کہ کپڑے دھوئے اور خود نہائے بعض کے نزدیک یہ معنی ہیں کہ خطمی وغیرہ سے سر دھوئے اور نہائے۔

[2]     سنن النسائی، کتاب الجمعۃ، باب فضل غسل یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۳۸۲، ص۲۱۷۸

[3]     سنن ابی داود، کتاب الطھارۃ، باب فی الغسل للجمعۃ، الحدیث: ۳۴۵ / ۳۴۳، ص۱۲۴۹

[4]     سنن ابن ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الرخصۃ فی ذلک، الحدیث: ۱۰۹۰، ص۲۵۴۰

                                                سنن ابی داود، کتاب الطھارۃ، باب فی الغسل للجمعۃ، الحدیث: ۳۴۷، ص۱۲۴۹

[5]     جامع الترمذی، ابواب الجمعۃ، باب ما جاء فی کراھیۃ التخطی یوم الجمعۃ، الحدیث: ۵۱۳، ص۱۶۹۵

[6]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب فی تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱، ج۲، ص۵۲بتغیر قلیل



Total Pages: 332

Go To