Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(3) طَیفُوریہ : 

اس گروہ کے پیشوا و امام حضرت سیِّدُنا ابو یزید طیفور بن سروشاں   بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السَّامِی  (متوفی ۲۶۱ھ)  ہیں۔ آپ کا طریقہ غلبہ ([1]) و سکر ہے۔ خلیفۂ مفتی اعظم ہند شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی مَعْمُوْلَاتُ الْاَبرار میں   فرماتے ہیں   کہ وہ مشایخ جو بادئہ عرفانِ الٰہی سے  اس درجہ مخموروسرشار ہوجاتے ہیں   کہ غلبۂ احوال وکیفیات میں   دامن عقل وہوش تارتار کردیتے ہیں   اور دنیائے بیداری و ہشیاری سے  بیزار ہو کر مستی و مدہوشی کے عالم میں   رہتے ہیں  ۔ ان بزرگوں   کو ’’اربابِ سکر ‘‘  کے نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ ([2])

 (4) جُنَیدِیہ : 

اس گروہ کے پیشوا حضرت سیِّدُنا ابو القاسم جنید بن محمد بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی  (متوفی ۲۹۷ھ)  ہیں  ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا طریقہ حضرت سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السَّامِی کے اُسلوبِ طریقت سکر کے برعکس ہے۔ یعنی آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  صحو کے قائل تھے اور باطن کا مراقبہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے گروہ کا امتیاز ہے۔ خلیفۂ مفتی اعظم ہند شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی معمولاتُ الابرار میں   فرماتے ہیں   کہ اکثر صوفیہ ایسے  گزرے ہیں   کہ معرفت ِالٰہی و وصالِ حقیقی کی دولت سے  مالا مال ہونے کے بعد ان کو مِنْجَانِبِ اللہ ایسے  وسیع ظرف سے  نوازا گیا کہ کیفیات واحوال سے  مغلوب ہوکر دامن ہوش وخرد ان کے ہاتھ سے  نہیں   چھوٹا اور ان کی بیداری وہوشیاری میں   ایک لمحہ کے لئے بھی فتور نہیں   پیدا ہوا۔ یہ لوگ ’’اربابِ صحو ‘‘  کہلاتے ہیں  ۔  ([3])

 (5) نُورِیہ : 

حضرت سیِّدُنا ابو الحسن احمد بن محمد نوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۲۷۵ھ)  اس گروہ کے پیشوا ہیں  ۔ آپ کے مذہب کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے نزدیک تصوف،   فقر سے  افضل ہے۔ نیز آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  صحبت میں   اپنے رفیق کے حق کو اپنے حق پر ترجیح دیتے اور ایثار کے بغیر صحبت کو ہی حرام سمجھتے اور فرمایا کرتے کہ درویشوں   کے لیے صحبت فرض اور گوشہ نشینی ناپسندیدہ ہے،   نیز آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے کہ ایک ہم نشیں   پر دوسرے ہم نشیں   کے لیے ایثار فرض ہے۔

 (6) سُھَیلیہ :

اس طبقہ کے پیشوا و سرخیل حضرت سیِّدُنا سہل بن عبد اللہ تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۲۸۳ھ)  ہیں  ۔ یہ تصوف میں   اپنے زمانے کے سلطانِ وقت اور طریقت میں   اہل حل وعقد اور صاحب اسرار تھے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دلائل بہت واضح اور حکایات فہم عقل سے  بہت بلند ہیں  ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مذہب کی خصوصیت اجتہاد،   مجاہدۂ نفس اور ریاضت شاقہ ہے۔ مریدوں   کو مجاہدے سے  درجہ کمال تک پہنچا دیتے تھے۔ چنانچہ،   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے واقعات میں   مشہور ہے کہ ایک مرید سے  فرمایا: خوب جدو جہد کرو یہاں   تک کہ پورا دن یااللہ یا اللہ ہی کہتے رہو۔ پھر فرمایا: اب دن کے ساتھ رات بھی شامل کر لو اور یہی کہتے رہو۔ چنانچہ مریدنے اس پر عمل کیا اور سوتے جاگتے یہی کہتا رہا یہاں   تک کہ یہ اس کی طبعی عادت بن گئی۔ اس کے بعد فرمایا: اب اس سے  لوٹ آؤ اور یادِ الٰہی میں   مشغول ہو جاؤ۔ اس مرید کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ ہمہ وقت اسی میں   مستغرق رہنے لگا،   ایک دن اپنے گھر میں   تھا کہ ہوا کی وجہ سے  ایک وزنی لکڑی گری جس نے اس کا سر پھاڑ دیا۔ سر سے  خون کے جو قطرے ٹپک کر زمین پر گرتے تھے وہ بھی اللہ اللہ لکھتے جاتے تھے۔

الغرض مجاہدے و ریاضت کے ذریعہ مریدوں   کی تربیت سہیلیوں   کا طریقہ ہے اور صاحبِ قوت القلوب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا تعلق بھی اسی گروہ سے  ہے۔

 (7) حِکْمِیہ : 

اس گروہ کے پیشوا حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللہ محمد بن علی حکیم ترمذی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  (متوفی ۳۲۰ھ)  ہیں  ۔ ان کے مذہب کی خصوصیت اثباتِ ولایت اور اس کے قواعد و درجات کا بیان ہے،   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حقیقت کے معانی اور اولیا کے درجات اس ترتیب اور ایسے  انداز سے  واضح فرماتے گویا کہ وہ ایک بحر بے کنار ہوں  ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مذہب کی ابتدائی وضاحت یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر شخص کو یہ بتانا اور سکھانا چاہتے تھے کہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی شان یہ ہے کہ حق تعالیٰ ان کو مخلوق میں   سے  چن لیتا ہے اور انہیں   ہر قسم کے دنیاوی تعلقات سے  منقطع فرمانے کے ساتھ ساتھ نفسانی خواہشات کے تقاضوں   سے  بھی آزادی کا پروانہ عطا فرما دیتا ہے۔

 (8) خَرَّازِیہ :

اس طبقہ کے بانی و پیشوا حضرت سیِّدُنا ابو سعید خرازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۲۷۷ھ)  ہیں  ۔ فنا و بقا  ([4])   کے حال پر سب سے  پہلے آپ نے گفتگو فرمائی اور طریقت کے تمام رموز کو



[1]    غلبہ وجد متواتر کا نام ہے، وجد بجلی کی طرح ظاہر ہو کر ختم ہو جاتا ہے مگر غلبہ کی صورت میں  یہ تجلی متواتر نمودار ہوتی ہے اور اس وقت سالک کی قوت تمیز باقی نہیں  رہتی، وجد بہت جلد ختم ہو تا ہے مگر غلبہ باقی رہتا ہے۔ (عوارف المعارف، ص۳۰۹)

[2]     معمولات الابرار، ص ۱۱۵  

[3]     معمولات الابرار، ص ۱۱۴

[4]     سید شریف جرجانی حنفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (متوفی ۸۱۶ھ) تصوف کی ان دو اصطلاحات کے متعلق فرماتے ہیں  کہ برے اوصاف کا خاتمہ فنا اور اچھے اوصاف سے متصف ہونا بقا ہے۔ فنا کی دو صورتیں  ہیں  ایک تو برے اوصاف کا خاتمہ ہے اور یہ صورت عبادت و ریاضت کی کثرت سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ بندہ مشاہدۂ حق میں  اس طرح کھو جائے کہ اسے کسی شے کا ہوش نہ رہے۔ (کتاب التعریفات، ص۱۲۰)  مزید تفصیلات کے لیے کشف المحجوب، عوارف المعارف اور رسالہ قشیریہ وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔   



Total Pages: 332

Go To