Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے اور اب سوائے فرض کی ادائیگی کے کوئی فضیلت باقی نہیں   رہی۔

’’المسجد ‘‘  کے چھ حروف کی نسبت سے  جامع مسجد جانے کے متعلق چھ احادیثِ مبارکہ: 

 (1) منقول ہے کہ دیدارِ باری تعالیٰ کے وقت لوگوں   کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کرنے کا اعتبار ان کے نمازِ جمعہ کی خاطر جلد جامع مسجد جانے سے  ہو گا۔

 (2) … حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جمعہ کے دن صبح سویرے جامع مسجد میں   داخل ہوئے تو تین افراد کو دیکھا کہ وہ جلد آنے میں   ان سے  بھی سبقت لے گئے ہیں   تو انہیں   دکھ ہوا اور دل میں   کہنے لگے کہ تو چار میں   سے  چوتھا ہے۔ حالانکہ چوتھا آدمی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب سے  بعید  (دور)  نہیں   ہوتا۔ ([1])  نیز ان کا یہ کہنا اس یقین کی وجہ سے  تھا جو انہیں   حدیثِ پاک کے مشاہدہ سے  حاصل تھا۔

  (3) … فرشتے ایک شخص کو تلاش کرتے ہیں   جب وہ اسے  جمعہ کے دن اپنے وقت سے  مؤخر پاتے ہیں   تو ایک دوسرے سے  کہتے ہیں  : ’’فلاں  نے کیا کیا؟ اور کس وجہ سے  اسے  دیر ہو گئی۔ ‘‘  پھر وہ کہتے ہیں  :  ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ! اگر محتاجی کی وجہ سے  اسے  تاخیر ہو گئی ہے تو اسے  غنی کر دے اور اگر بیماری کی وجہ سے  تاخیر ہوئی ہے تو اسے  شفا عطا فرما اور اگر کوئی دوسری مشغولیت ہے تو اسے  اپنی عبادت کے لئے فارغ کر دے اور  (اگر یہ تاخیر)  محض کھیل کود کی وجہ سے  ہے تو اس کے دل کو اپنی اطاعت کی طرف متوجہ کر دے۔ ‘‘   ([2])

 (4) … تین کام ایسے  ہیں   کہ اگر لوگوں   کو ان کی فضیلت معلوم ہو جائے تو وہ اس کی تلاش میں   اونٹوں   کی طرح دوڑ پڑیں  : اذان،   پہلی صف اور نمازِ جمعہ کے لئے صبح سویرے جانا۔ ([3])

        امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَوّل اس حدیث ِ پاک کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں   کہ ان تینوں   کاموں   میں   سب سے  زیادہ فضیلت والا کام صبح سویرے جمعہ کے لئے جانا ہے۔

 (5) … جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے ([4])  مساجد کے دروازوں   پر بیٹھ جاتے ہیں  ،   ان کے ہاتھوں   میں   چاندی کے رجسٹر اور سونے کی قلمیں   ہوتی ہیں  ،   وہ بالترتیب پہلے آنے والے لوگوں   کے نام ان کے مراتب کے اعتبار سے  لکھتے ہیں  ۔ ([5])

 (6) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جمعہ کے دن نماز سے  قبل حلقہ بنا کر بیٹھنے سے  منع فرمایا ([6])  ،   سوائے اس شخص کے جو عالم باللّٰہ ہو،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایام کا ذکر کرتا ہو اور اس کے دین کی باتیں   سمجھاتا ہو،   جو صبح کے وقت سے  لے کر نمازِ جمعہ تک جامع مسجد میں   بیٹھا دین کی باتیں   کرتا رہے وہ نمازِ جمعہ کی جانب جلد آنے اور علم کی باتیں   سننے جیسے  دونوں   امور کو جمع کرنے والا ہے۔

جمعہ کے دن غسل: 

        بلا ضرورت جمعہ کے دن غسل ترک نہ کرے کیونکہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک غسلِ جمعہ فرض ہے۔ ([7]) اور گھر میں   غسل کرنا افضل ہے۔ چنانچہ،   

            حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جمعہ کا غسل ہر بالغ پر واجب  (یعنی سنت)  ہے۔ ‘‘   ([8])  اور حضرت سیِّدُنا نافع رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  مروی ایک مشہور حدیث ِ پاک میں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے  مروی ہے کہ’’ جو جمعہ کو آئے اسے  چاہئے کہ غسل کر لیا کرے۔ ‘‘   ([9])

اہلِ مدینہ کا اندازِ ناراضی: 

 



[1]     سنن ابنِ ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی التھجیر الی الجمعۃ، الحدیث:۱۰۹۴، ص۲۵۴۱

[2]     المصنف لعبدالرزاق، کتاب الجمعۃ، باب عظم یوم الجمعۃ، الحدیث:۵۵۸۱، ج۳، ص۱۴۰مختصراً

[3]     صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب الاستفھام فی الاذان، الحدیث:۶۱۵، ص۵۰۔ بدون الغدو الی الجمعۃ

[4]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مسجد کے دروازے پر بیٹھنے والے فرشتوں کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ  یہ فرشتے مخصوص ہیں جن کی ڈیوٹی جمعہ کو لگتی ہے، اعمال لکھنے والے نہیں، بعضنے فرمایا کہ جمعہ کی طلوع فجر سے کھڑے ہوتے ہیں بعض کے نزدیک آفتاب چمکنے سے مگر حق یہ ہے کہ سور ج ڈھلنے سے شروع ہوتے ہیں کیونکہ اسی وقت سے وقت جمعہ شروع ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ وہ فرشتے سب آنے والوں کے نام جانتے ہیں خیال رہے کہ اگر اولاً سو آدمی ایک ساتھ مسجد میں آئیں تو وہ سب اول ہیں یعنی جو سورج ڈھلتے ہی وقت جمعہ داخل ہوتے ہی مسجد میں آجائے اسے مکہ معظمہ اونٹ کی ہدی بھیجنے والے کا ثواب ہے۔ (مراۃ المناجیح، ج۲،ص۴۳۳)

[5]     صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب استماع الی الخطبۃ، الحدیث:۹۲۹، ص۷۳مختصراً الکشاف، پ۲۸، الجمعۃ، تحت الایۃ۹، ج۴، ص۵۳۳

[6]     سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ، الحدیث: ۱۰۷۹، ص۱۳۰۳

[7]     حضرت علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: نمازِ جمعہ کے لئے غسل کرنا سننِ زوائد سے ہے، اس کے ترک پر عتاب (یعنی ملامت) نہیں۔ (درمختار مع رد المحتار،ج۱،ص۳۰۸)دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 496 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ نماز کے احکام‘‘ صَفْحَہ 426 تا 427 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: مفسر شہیر، حکیم الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان فرماتے ہیں، بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ غسلِ جمعہ نماز کے لئے مسنون ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لئے۔ جن پر جمعہ کی نماز نہیں ان کے لئے یہ غسل سنت نہیں، بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نمازِ جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو مگر حق یہ ہے کہ غسل جمعہ کا وقت طلوعِ فجر سے شروع ہو جاتا ہے۔ (مراۃ، ج۲، ص۳۳۴)  معلوم ہوا عورت اور مسافر وغیرہ جن پر جمعہ واجب نہیں ہے ان کے لئے غسلِ جمعہ بھی سنت نہیں۔

[8]     صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ باب فضل الغسل یوم الجمعۃ     الخ، الحدیث: ۸۷۹،ص۶۹

[9]     سنن ابنِ ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الغسل یوم الجمعۃ، الحدیث:۱۰۸۸، ص۲۵۴۰



Total Pages: 332

Go To