Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گے۔‘‘  ([1])

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے اس طویل حدیثِ پاک کو مسند الالف میں   مکمل طور پر ذکر کیا ہے۔

 (3) … بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتاہے جمعہ کا دن ہے،   اسی دن حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو پیدا کیا گیا،   اسی دن انہیں   جنت میں   داخل کیا گیا،   اسی روز انہیں   زمین پر اتارا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہو گی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   یہ دن ’’ یوم المزید  ‘‘  ہے،   آسمان میں   فرشتے اس دن کو اسی نام سے  جانتے ہیں   اور روزِ قیامت دیدارِ باری تعالیٰ کا دن بھی یہی ہو گا۔ ([2])

 (4) … ہر جاندار جمعہ کے دن اپنی ساق یعنی پنڈلی پر کھڑے ہو کر  (صور پھونکے جانے کی آواز سننے کے لیے) کان لگائے ہوتا ہے کہیں    (آج ہی)  قیامت قائم نہ ہو جائے سوائے شیطانوں   اور انسانوں   کے۔ ([3])

 (5) … جمعہ کے دن پرندے اور دوسرے حشرات وغیرہ ایک دوسرے سے  مل کر کہتے ہیں  : ’’سَلَامٌ سَلَامٌ یَوْمٌ صَالِحٌ ‘‘   یعنی نیک بخت دن سلامتی و حفاظت والا ہے۔  ([4])

 (6) … بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر جمعہ کو چھ لاکھ جہنمیوں   کو آ گ سے  آزاد فرماتا ہے۔  ([5])

 (7) … اگر جمعہ کا دن سلامتی کے ساتھ گزرے تو باقی دن بھی سلامتی کے ساتھ گزرتے ہیں  ۔  ([6])

 (8) … حضرت سیِّدُنا کعب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  کہ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی مخلوق کی ہر جنس میں سے  ایک کو

بقیہ پر فضیلت بخشی ہے۔ چنانچہ شہروں   میں   سے  مکہ مکرمہ زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کو،   مہینوں   میں   سے  رمضان المبارک کو اور دنوں   میں   سے  جمعہ کو فضیلت بخشی۔ ‘‘   ([7])

 (9) بیشک ہر زوال سے  پہلے سورج کے آسمان پر ٹھہرنے کے وقت جہنم کو خوب بھڑکایا جاتا ہے،   لہٰذا اس وقت نماز نہ پڑھو،   البتہ جمعہ کے دن پڑھ سکتے ہو  ([8]) کیونکہ یہ تمام وقت نماز کا ہے اور اس دن جہنم کو بھی نہیں   بھڑکایا جاتا۔  ([9])

نمازِ جمعہ کے لئے جلدی جانے کی فضیلت: 

        جمعہ کے دن بندے کا سب سے  افضل عمل یہ ہے کہ وہ پہلی ساعت میں   جامع مسجد جائے،   اگر ایسا نہ کر سکے تو دوسری ساعت میں   چلا جائے اور اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو تیسری ساعت میں   چلا جائے۔ چنانچہ،   

        شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مشکبار ہے: ’’جو نمازِ جمعہ کے لئے پہلی ساعت میں   جائے گویا اسنے اونٹ کی قربانی کی،   جو دوسری ساعت میں   جائے گویا اسنے گائے قربان کی،   جو تیسری ساعت میں   جائے گویا اسنے سینگوں   والے مینڈھے کی قربانی کی،   جو چوتھی ساعت میں   جائے گویا اسنے ایک مرغی قربان کی اور جو پانچویں   ساعت میں   جائے گویا اسنے ایک انڈا ہدیہ کیا،   پس جب امام باہر نکلے تو اعمال کے صحیفے  (یعنی رجسٹر)  لپیٹ دیئے جاتے ہیں   اور قلمیں   اٹھا دی جاتی ہیں   اور فرشتے منبر کے پاس جمع ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر سننے لگتے ہیں  ،   جو اس کےبعد آیا گویا کہ وہ فرض نماز ادا کرنے آیا ہے اور اس کے لئے کوئی فضیلت والی شے نہیں  ۔ ‘‘  ([10])

یومِ جمعہ کی مختلف ساعتیں  : 

        پہلی ساعت: نمازِ فجر کے بعد  (طلوعِ آفتاب تک)  کا وقت … دوسری ساعت:  (طلوعِ آفتاب کے بعد)  سورج کے کچھ بلند ہو جانے کا وقت … تیسری ساعت: سورج کے خوب روشن ہو جانے کا وقت یعنی چاشتِ اعلیٰ کا وقت کہ جب پاؤں   سورج کی گرمی و تپش سے  جلنے لگتے ہیں   … چوتھی ساعت: سورج کے زوال سے  پہلے کا وقت … اور پانچویں   ساعت: جب سورج زوال پذیر ہو یا ٹھیک سر کے اوپر ہو۔

            چوتھی اور پانچویں   ساعت جلدی آنے کے لئے مستحب نہیں   ہے اور پانچویں   ساعت کے بعد تو کوئی فضیلت ہی نہیں   کیونکہ اس کے آخری وقت میں   امام نماز کے لئے نکل آتا



[1]     المعجم الاوسط، الحدیث:۲۰۸۴، ج۱، ص۵۶۶۔ و الحدیث: ۶۷۱۷، ج۵، ص۹۹

[2]     سنن النسائی، کتاب الجعمۃ، باب ذکر الساعۃ التی یستجاب     الخ، الحدیث:۱۴۳۱، ص۲۱۸۱ دون ذکر یوم المزید

[3]     المرجع السابق ۔دون ذکر الشیاطین

[4]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، مطرف بن الشخیر، الحدیث: ۲۵، ج۸، ص۲۴۷ بدون ’’الھوام‘‘

[5]     الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم ۲۳۱ ازور بن غالب،  ج۲،ص۱۲۳

[6]     المرجع السابق، الرقم ۱۴۲۵ عبدالعزیز بن ابان، ج۶، ص۵۰۴

[7]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۳۰۷۱، ج۲، ص۲۱۹۔ بدون مکۃ۔ و عن انس مفھوماً الثقات لابن حبان، السیرۃ النبویۃ، الاستخلاف علی بن ابی طالب، ج۱، ص۲۱۵ عن قول الزبیرمفھوماً

[8]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع اس سے دلیل نہیں پکڑسکتے اور مذہب احناف بہت قوی ہے کہ جمعہ کے دن بھی دوپہری میں نماز ناجائز ہے اور جمعہ کی نماز زوال سے پہلے نہیں پڑھ سکتے۔ (مراۃ المناجیح، ج۲، ص۱۶۴) کیونکہ زوال کے وقت نماز پڑھنا منع ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’ہمیں سورج کے طلوع وغروب اور نصف النہار کے اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا جاتا۔‘‘ (مسند ابی یعلی ، مسند عبد اللہ بن مسعود، الحدیث: ۴۹۴۶، ج ۴، ص ۳۱۱) اور حضرت سَیِّدُنا عبد اللہصنابحی

Total Pages: 332

Go To