Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے  محبت کرتا ہے تو اسے  افضل اوقات میں   افضل ترین اعمال کی توفیق دیتا ہے تا کہ اسے  بہترین اجر و ثواب عطا فرمائے اور جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی بندے سے  ناراض ہوتا ہے تو اسے  افضل اوقات میں   بدترین اعمال کے حوالے کر دیتا ہے تا کہ شعائر کی حرمت پامال کرنے اور حرام ٹھہرائی گئی اشیاء کی حرمت کا خیال نہ رکھنے کے باعث اس کی برائیوں   میں   کئی گنا اضافہ کر دیا جائے۔

توفیق و ذلت کی علامات: 

            منقول ہے کہ توفیق کی تین علامات ہیں  :  (۱) …نیکی کے کاموں   میں   بلاارادہ مشغول ہو جانا  (۲)…گناہوں   کی خواہش کے باوجود ان سے  دوری کا پیدا ہونا اور  (۳) … تنگی و آسانی کی حالت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ کی جانب محتاجی و ضرورت کے دروازے کا کھلا ہوا ہونا۔ ([1])  ذلت و رسوائی کی بھی تین علامات ہیں  :  (۱)  … نیکی کی خواہش کے باوجود اس پر عمل کا مشکل ہونا  (۲)  … خوفِ معصیت کے باوجود اس پر عمل کا آسان ہونا  (۳)… اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ کی جانب کھلنے والے احتیاج و فقر کے دروازے کا بند ہو جانا۔ ([2])

            ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم کے صدقہ ہر حالت میں   بہترین توفیق کا سوال کرتے اور بری قضا و قدر سے  پناہ مانگتے ہیں ۔

٭٭٭

فصل:  21

جمعہ کا بیان

        اس فصل میں   نمازِ جمعہ،   اس کی کیفیت و آداب اور روزِ جمعہ و شبِ جمعہ کے اَورَاد و وَظائف کا تذکرہ ہو گا۔

جمعہ واجب ہونے کی صورتیں  : 

            نمازِ جمعہ بعض صورتوں   میں   واجب اور بعض میں   واجب نہیں  ۔ واجب ہونے کی صورتیں   یہ ہیں  : مقیم ہونا،   تندرست ہونا،   وقت ظہر ہونا اور 40 آزاد مردوں   کا موجود ہونا۔ ([3])

جمعہ واجب نہ ہونے کی صورتیں  :

            نمازِ جمعہ واجب نہ ہونے کی صورتیں یہ ہیں  : مسافر ہونا  … نمازِ عصر کا وقت ہو جانا  …  مذکورہ تعداد پوری نہ ہونا  … کوئی شرعی عذر پایا جانا۔

            جمعہ حکمرانوں   کے اعمال میں   سے  ہے اور اس کا قائم کرنا بھی انہی کا کام ہے مگر  (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)   میں   یہ پسند کرتا ہوں   کہ جب کسی بدمذہب بدعتی کے پیچھے نمازِ جمعہ ادا کرنا پڑ جائے تو اس کے بعد نمازِ ظہر بھی پڑھ لی جائے۔

جامع مسجد کا انتخاب: 

            اگر بہت بڑے شہر میں   دو جامع مساجد ہوں   تو نمازِ جمعہ اس مسجد کے امام کی اقتدا میں   ادا کی جائے جو زیادہ افضل ہو۔ اگر فضیلت میں   دونوں   برابر ہوں   تو جو مسجد زیادہ قدیم اور پرانی ہو وہاں   ادا کی جائے،   اگر دونوں   ایک جیسی ہوں   تو جو زیادہ قریب ہو وہاں   نماز ادا کی جائے۔ ہاں   اگر دور جانے میں   علمی باتوں   کے سننے یا علم سیکھنے سکھانے کی نیت ہو تو کوئی حرج نہیں   اور سب سے  بڑی جامع مسجد میں   نماز ادا کی جائے کیونکہ جہاں   مسلمان کثرت سے  ہوں   وہاں   نماز ادا کرنا افضل ہے۔ جو شخص ان دونوں   مساجد میں   سے  جس سے  زیادہ محبت کرتا ہو وہاں   نماز پڑھے تو اس کے اس طرح نماز پڑھنے سے   (زیادہ) اجر و ثواب کی امید ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا عطا عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْفَتَّاح سے  عرض کی: ’’جب کسی شہر میں   دو یا تین مساجد ہوں   تو میں   نماز کہاں   پڑھوں  ؟  ‘‘  انہوں  نے ارشاد فرمایا:  ’’وہاں   نماز ادا کرو جہاں   سب مسلمان جمع ہوتے ہیں   کیونکہ یہ جمعہ ہے اور یہ ایسا دن ہے جس کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسلام کو عظمتیں   عطا فرمائیں  ،   اسے  مزین کیا اور مسلمانوں   کو شرف و فضیلت سے  نوازا۔ ‘‘ 

اذانِ جمعہ کے بعد خرید و فروخت کی حرمت: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-  (پ۲۸،  الجمعۃ:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔

            مذکورہ آیتِ مبارکہ میں   حکم امتناعی کے عام ہونے کی وجہ سے  علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت کے نزدیک اذانِ جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرنا حرام ہے۔  ([4])   اور



[1]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی ان القدر خیرہ و شرہ من اللہ، الحدیث: ۱۹۲، ج۱، ص۲۱۵ بتغیر قلیل

[2]     المرجع السابق

[3]     احناف کے نزدیک جمعہ میں افراد کی تعداد امام کے علاوہ تین ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 769 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اگر تین غلام یا مسافر یا بیمار یا گونگے یا ان پڑھ مقتدی ہوں تو جمعہ ہو جائے گا اور صرف عورتیں یا بچے ہوں تو نہیں۔

[4]     المصنف لعبد الرزاق، کتاب الجمعۃ، باب وقت الجمعۃ، الحدیث: ۵۲۳۹، ج۳، ص۷۷



Total Pages: 332

Go To