Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

دیکھنا بھی عبادت ہے۔  ([1])

            صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  اکثر قرآنِ کریم دیکھ کر پڑھا کرتے تھے اور اس بات کو مستحب قرار دیتے کہ ان کا کوئی دن ایسا نہ جائے جس میں   انہوں  نے قرآنِ کریم کی زیارت نہ کی ہو اور امیر المومنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق تو یہاں   تک مروی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کثرت سے  دیکھ کر تلاوت کرنے  (اور کثرتِ ورق گردانی)  کے باعث دو عدد قرآنِ پاک شہید ہو گئے۔

٭٭٭

فصل:  20

افضل دنوں   اور راتوں   کا بیان

            اس فصل میں   افضل راتوں   اور ان میں   شب بیداری کا مستحب ہونا نیز افضل دنوں   میں   اَوْرَاد و وَظائف وغیرہ پڑھنے کا ذکر ہے۔

فضیلت والی راتیں  : 

            سال بھر میں   پندرہ راتیں   ایسی ہیں   جن میں   شب بیداری مستحب ہے۔ ان میں   سے  5 راتیں   رمضان المبارک میں   ہیں : یعنی آخری عشرے کی طاق راتیں   اور چھٹی رات رمضان المبارک کی سترہویں   رات ہے یعنی جس کی صبح حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا واقعۂ بدر رونما ہوا۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مذہب تھا کہ یہی لیلۃ القدر ہے اور باقی 9 راتیں   یہ ہیں  :  (۱)  محرام الحرام کی پہلی رات  (۲)  عاشورا کی رات  (۳)  رجب کی پہلی  (۴)  پندرہویں   اور  (۵)  ستائیسویں   رات،   اس میں حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو معراج ہوئی تھی  (۶)  عرفہ کی رات  (۷،  ۸)  عیدین  (عید الفطر اور عید الضحیٰ)  کی راتیں   اور  (۹)  شعبان المعظم کی پندرہویں   رات۔

صلوٰۃ الخیر: 

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن شعبان المعظم کی پندرہویں   رات کو 100 رکعت نوافل اس طرح پڑھتے کہ ان میں   1000 مرتبہ  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ)   یعنی سورۂ اِخلاص پڑھتے۔ اس طرح کہ ہر رکعت میں   دس مرتبہ پڑھتے اور اس نماز کو صَلٰوۃُ الْخَیْر کہتے۔ وہ سب اس کی برکتوں   سے  اچھی طرح آگاہ تھے اور اس رات سب اکٹھے ہو جاتے اور بعض اوقات سب مل کر جماعت سے  نماز پڑھتے۔

حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ مجھے 30 صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بتایا کہ جو اس رات صَلٰوۃُ الْخَیْر پڑھے اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی جانب 70 مرتبہ نظرِ رحمت فرماتا ہے اور ہر مرتبہ اس کی 70 حاجتیں   پوری فرماتا ہے جن میں   سب سے  چھوٹی حاجت اس کی مغفرت ہوتی ہے اور یہ بھی منقول ہے کہ اس سے  مراد وہی رات ہے جس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   کیا ہے:  ([2])

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ (۴)  (پ۲۵،  الدخان:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس میں   بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔

            یہی وہ رات ہے جس میں   سال بھر کے امور اور آیندہ پیش آنے والے احکام کی تدبیر لکھی جاتی ہے۔ اس کی حقیقت کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّہی بہتر جانتا ہے مگر   (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ امور وغیرہ کی تدبیر لیلۃ القدر میں   ہوتی ہے،   اسی لئے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ قرآنِ کریم خود اس کی گواہی ان الفاظ میں   دیتا ہے:  (اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ  (پ۲۵،  الدخان:  ۳) )   ([3])  اس کے بعد اس رات کے اوصاف ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:  (یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ)   ([4])  قرآنِ کریم چونکہ لیلۃ القدر میں   ہی نازل ہوا لہٰذا یہ آیتِ مبارکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان کے موافق ہے:

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ (۱)  (پ۳۰،  القدر:  ۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  ہم نے اسے  شب قدر میں   اتارا۔

فضیلت والے ایام: 

            فضیلت والے ایام 19 ہیں   جن میں   اوراد و وظائف اور عبادت مستحب ہے:  (۱)  یومِ عاشورا  (۲)  یومِ عرفہ  (۳)  ستائیس رجب کا دن  (۴)  سترہ رمضان المبارک کا دن  (۵)  پندرہ شعبان المعظم کا دن  (۶)  یومِ جمعہ  (۷)  یومِ عید  (۸تا ۱۷)  ایامِ معلومات یعنی ذی الحج کے پہلے دس دن اور  (۱۸،   ۱۹)  ایام معدودات ([5]) جو ایام تشریق بھی ہیں  ۔

یومِ عرفہ و عاشورا کے روزے کی فضیلت: 

            نبی ٔمُکَرَّم،   نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یومِ عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں   کا کفارہ ہے،   ایک گزشتہ سال کا اور دوسرے آنے والے سال کا اور عاشورا



[1]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعظیم القراٰن، فصل فی القراء ۃ من المصحف، الحدیث: ۲۲۳۸، ج۲، ص۴۱۱

[2]     تفسیر البغوی، پ۲۵، الدخان، تحت الایۃ۴، ج۴، ص۱۳۳    الکشاف، پ۲۵، الدخان، تحت الایۃ۴، ج۴، ص۲۶۹، ۲۷۰

[3]     ترجمۂ کنز الایمان: بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا۔

[4]     ترجمۂ کنز الایمان: بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔

[5]     بقرعید کے دن یعنی دسویں ذی الحجہ کے بعد والے تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح،ج۴،ص۱۷۱)



Total Pages: 332

Go To