Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کیا؟ ‘‘  تو وہ بولا: ’’ایک شخص دورانِ تلاوت آپ کے پاس سے  گزرا تو آپ نے اس کی خاطر اپنی آواز بلند کر لی تھی،   پس ہم نے اسے  مٹا دیا۔ ‘‘ 

            مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو بلند آواز سے  قراء ت کرتے سنا تو ارشاد فرمایا: ’’اے فلاں  ! اللہ عَزَّ وَجَلَّکو سناؤ ہمیں   نہ سناؤ۔ ‘‘   ([1])

ریاکاری: 

            شہرت  (جو دوسروں   کو کلام سنا کر حاصل ہو)  کا تعلق ریاکاری کے ساتھ ہے اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو ریاکاری کا ہے یعنی عمل فاسد ہو جاتا ہے اور عمل کرنے والے کے اجرو ثواب میں   بھی کمی ہو جاتی ہے۔ بندہ اپنے عمل کے سبب غَیْرُاللہ کو اپنی آواز سناتا ہے اور چاہتا ہے کہ مخلوق اسے  سنے تا کہ اس کے سبب اس کی خواہشاتِ نفسانیہ کے غلبے اور نفس کی کمزوری کی وجہ سے  وہ اس کی مدح سرائی کرے۔ اس کے اپنے عمل میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق کو شریک کرنے کی وجہ سے  اس کا عمل توحید سے  ناواقفیت کی وجہ سے  باطل ہو گیا کیونکہ اگر وہ یہ یقین رکھتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی نفع دینے والا ہے نہ ہی نقصان پہنچانے والا،   کوئی عطا فرمانے والا ہے نہ ہی اس کے سوا کوئی روکنے والا،   تو توحید کو شرک  (یعنی ریاکاری)  سے  خالص کر لیتا،   پس اس طرح اس کا عمل بھی ریاکاری سے  خالص ہو جاتا۔ ریاکاری سے  مراد چونکہ آنکھوں   کا دیکھنا ہے لہٰذا آواز کے ذریعے شہرت حاصل کرنا ریاکاری کے مفہوم ہی میں   داخل ہے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ نبیوں   کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی شہرت چاہنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں   فرماتا اور نہ ہی کسی ریاکار کا۔ ‘‘  ([2])

            ایک روایت میں   ہے کہ سرکارِ ابد قرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے شہرت کے لئے کوئی عمل کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  رسوا کرے گا اور جو ریاکاری کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  عذاب دے گا۔ ‘‘  پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے عمل کو کم اور حقیر قرار دیا۔ ([3])

            جس شخص کی اپنے بھائی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کلام سنانے میں   نیت اچھی ہو تا کہ اسے  نصیحت کرے اور غور وفکر کی ترغیب دلائے یا اسے  سن کر وہ نفع حاصل کر سکے اور اس کے سبب نصیحت حاصل ہو تو اچھی نیت کے پائے جانے اور مقصود کے صحیح ہونے کی وجہ سے  یہ ریاکاری و شہرت میں   شامل نہیں  ،   نیز اس میں   مدح سرائی یا کوئی دوسری دنیاوی غرض بھی موجود نہیں  ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  یہ عرض کی کہ’’ اگر مجھے معلوم ہوتا تو مزید نکھار اور سنوار کر قراء ت کرتا۔ ‘‘   ([4])  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی اس بات پر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں   فرمایا کیونکہ اس میں   نیت اچھی تھی اور مقصود بہتر تھا۔ جبکہ ایک دوسرے شخص سے  جو آیاتِ کریمہ بلند آواز سے  پڑھ رہا تھا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو سناؤ ہمیں   مت سناؤ۔ ‘‘  ([5])  پس اس کے اس عمل پر اظہارِ ناپسندیدگی کی وجہ شہرت و ریاکاری کا پایا جانا تھا۔

            مروی ہے کہ محسنِ کائنات،   فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مرتبہ ایک ایسے  شخص کے پاس سے  گزرے جو  (خشیتِ الٰہی سے )  آہیں   بھر رہا تھا اور ڈر سے  کانپ رہا تھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ موجود ایک صحابینے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا آپ اسے  ریاکاری کرنے والا خیال کریں   گے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشا د فرمایا:  ’’ نہیں   بلکہ یہ تو  (اَوَّاہٌ مُنِیْبٌ)  ہے۔ ‘‘  یعنی بہت آہیں   کرنے والا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب رجوع کرنے والا ہے۔  ([6])

            مخلوق کی خاطر معمولی سی تصنع اور بناوٹ کی بنا پر رات بھر عبادت کرنے اور دن بھر روزہ رکھنے سے  حالت میں   افضل،   مقام میں   ارفع اور انجام میں   قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ بندہ سلامتی و صدق کی حالت پر رات بھر سویا رہے اور دن کے وقت کھاتا رہے۔ معرفتِ الٰہی حاصل کرنا اور اسے  بجا لانا اللہ عَزَّ وَجَلَّکا علم رکھنے والے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہی کا کام ہے۔

تین امور میں   حلاوت مفقود ہوتی ہے: 

            حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ تین امور میں   حلاوت مفقود ہوتی ہے،   اگر تو اسے  پائے تو خوشی محسوس کر اور اپنے مقصود کی جانب بڑھتا جا اور اگر حلاوت نہ پائے تو جان لے کہ تیرا دروازہ بند ہے:  (۱)  قرآنِ کریم کی تلاوت کے وقت  (۲)  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کے وقت اور  (۳)  سجود کے وقت۔ ([7])  اور بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے ان امور میں   مزید یہ زیادتی کی ہے کہ  (۴) صدقہ کرتے وقت اور  (۵)  سحری کے وقت۔

قرآنِ کریم کی زیارت اور تلاوت: 

            قرآنِ کریم دیکھ کر تلاوت کرنا زبانی تلاوت کرنے سے  افضل ہے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ سات میں   سے  ایک منزل پڑھنا پورا قرآنِ کریم پڑھنا ہی ہے کیونکہ قرآنِ کریم کو



[1]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۲۲۰۰، ج۲، ص۲۸۸

[2]     الزھد لابن مبارک فی نسخۃ الزائد، باب فی الاخلاص فی الدعاء، الحدیث: ۸۳، ص۲۰

[3]     صحیح مسلم، کتاب الزھد،باب تحریم الربا، الحدیث: ۷۴۷۶، ص۱۱۹۵مختصراً

                                                المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمرو، الحدیث: ۶۵۱۹، ج۲، ص۵۵۸بدون ذکر الریاء

[4]     السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب فضائل القراٰن، باب تحبیر القراٰن، الحدیث: ۸۰۵۸، ج۵، ص۲۳

[5]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۲۲۰۰، ج۲، ص۲۸۸

[6]     السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب التفسیر، سورۃ ھود، باب قولہ تعالیٰ ’’منیب‘‘ ، الحدیث: ۱۱۲۴۴، ج۶، ص۳۶۵  مفھوماً

[7]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، فصل فی الطبع علی القلب، الحدیث: ۷۲۲۶، ج۵، ص۴۴۷ مفھوماً



Total Pages: 332

Go To