Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تلاوت سماعت فرمائی تو ارشاد فرمایا:  ’’ انہیں   لحنِ داودی عطا فرمایا گیا ہے۔ ‘‘  جب حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سماعت فرما رہے ہیں   تو میں   خوب آراستہ کر کے تلاوت کرتا۔ ‘‘   ([1])

صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سماعتِ قرآنِ کریم: 

            حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا علقمہ بن قیس رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حکم دیا کرتے کہ وہ ان کے سامنے قرآنِ کریم پڑھیں   اور پھر ان سے  ارشاد فرماتے: ’’میرے ماں   باپ آپ پر قربان! ترتیل سے  پڑھیں۔ ‘‘  حالانکہ وہ قرآنِ کریم بہت خوبصورت آواز سے  پڑھا کرتے تھے۔  ([2]) اور ایک روایت میں   ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جب آپس میں   جمع ہوتے تو ایک کو قرآنِ کریم کی کوئی سورت پڑھنے کا کہا کرتے۔ ([3])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  فرماتے: ’’ہمیں   ہمارے ربّ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر سنائیں  ۔ ‘‘  تو وہ ان کے سامنے قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کر دیتے یہاں   تک کہ نماز کا درمیانی وقت قریب ہو جاتا تو وہ عرض کرتے:  ’’ اے امیر المومنین ! نماز،   نماز۔ ‘‘  تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے کہ کیا ہم نماز میں   نہیں   ہیں  ؟ ([4]) گویا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان  (وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ- (پ۲۱،  العنکبوت:  ۴۵) )   ([5]) کی تاویل کیا کرتے۔ ([6])

قرآنِ کریم اور ریا: 

            بصرہ کے ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ مَیں   رات کو پیدل چلتا تو تہجد گزاروں   کے رونے کی آوازیں   سنا کرتا تھا گویا کہ وہ پرنالوں   کے بہنے کی آوازیں   ہوں  ،   ان میں   محبت،   نماز اور تلاوتِ قرآنِ کریم کا شوق ہوتا مگر جب اہلِ بغدادنے ریا کاری اور مخفی آفات کے متعلق ایک کتاب لکھی تو تہجد گزار خاموش ہو گئے۔ یہ سلسلہ آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا یہاں   تک کہ ختم ہی ہو گیا ہے۔

            اگر تلاوت کرنے والے کی مذکورہ امور میں   سے  کچھ بھی نیت نہ ہو بلکہ وہ ان امور سے  غافل ہو اور آفات میں سے  کسی شے سے  آگاہ ہو یا اس کے دل میں   سرسری طور پر کسی شخص کا خیال یا نفسانی خواہشات پیدا ہوں   اس طرح کہ وہ انہی میں   کھو جائے تو اس پر لازم ہے کہ جہری قراء ت سے  پرہیز کرے،   اگر اسنے دل کے بوجھ کے باوجود جہری قراء ت کی تو اس کا عمل فاسد ہو گا کیونکہ اس کے دل میں   بیماری قرار پکڑ چکی ہے جو نقصان کے زیادہ قریب اور اخلاص سے  دوری کا سبب ہے۔ پس اس پر لازم ہے کہ اخلاص اختیار کرے جو کہ ریاکاری کا علاج ہے اور جس سے  اس کی حالت کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ اخلاص،   دل کے لئے بہت مفید،   عمل کے لئے زیادہ محفوظ اور آخرت کے لئے زیادہ قابلِ تعریف ہے۔

اخلاص او راس کی حلاوت: 

            بعض اوقات بندہ نماز اور تلاوت میں   نفسانی خواہشات کی حلاوت پاتا ہے اور اسے  اخلاص کی حلاوت و لذت گمان کرتا ہے جبکہ یہ ایک مخفی شہوت اور انتہائی باریک نقص ہے،   کمزور لوگ ہی اس کا شکار ہوتے ہیں   اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے علاوہ اسے  کوئی نہیں   سمجھ سکتا۔ اخلاص کی حلاوت وہی لوگ پاتے ہیں   جو دنیا اور لوگوں   کی مدح سرائی میں   رغبت نہ رکھتے ہوں   اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  محبت کرنے والے اور اس سے  ڈرنے والے ہوں   وہی اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے  تعلقات کی مضبوطی اورصدقِ عبادت کے سبب اخلاص کی لذت پاتے ہیں  ۔

            اس کے نہ ہونے کا اعتبار دو میں   سے  ایک صورتوں   میں   ہوسکتا ہے: (۱)  نفس کے نزدیک مدح و ذم برابر ہو۔ یہ مقامِ زہد کی ایک حالت ہے  (۲)  یا شہادتِ یقین کے باعث دل ان سے  خالی ہو۔ یہ مقامِ معرفت ہے۔

            یہ دونوں   مقامات ایسے  ہیں   جہاں   ظاہری و باطنی اعمال ایک جیسے  ہوتے ہیں  ۔ البتہ متقی و عادل اماموں   کے علانیہ و ظاہری اعمال بعض اوقات افضل ہوتے ہیں  ۔

دورانِ تلاوت غیر کی جانب متوجہ ہونے کا انجام: 

            ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں  نے سحری کے وقت اپنے حجرۂ خاص میں   سورۂ طٰہٰ کی تلاوت کی،   جب میں  نے اسے  ختم کیا تو مجھ پر اونگھ طاری ہو گئی۔ میں  نے دیکھا کہ ایک شخص آسمان سے  اترا جس کے ہاتھ میں   ایک سفید رنگ کا صحیفہ  (رجسٹر)  تھا،   اسنے وہ میرے سامنے رکھ دیا،   میں  نے اس میں   سورۂ طٰہٰ لکھی ہوئی پائی اور سوائے ایک کلمہ کےتمام کلمات کے نیچے دس دس نیکیوں   کا ثواب لکھا ہوا دیکھا،   میں  نے اس کلمے کی جگہ لکھ کر مٹا دینے کے اثرات دیکھے تو مجھے دکھ ہوا،   لہٰذا میں  نے اس شخص سے  کہا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں  نے اس کلمہ کو بھی پڑھا تھا،   لیکن میں   اس کا ثواب لکھا ہوا پا رہا ہوں   نہ ہی اس کلمے کو۔ ‘‘  تو اس شخص نے جواب دیا: ’’آپ سچ کہہ رہے ہیں  ،   آپ نے واقعی اسے  پڑھا تھا اور ہم نے بھی اسے  لکھ لیا تھا مگر ہم نے ایک ندا دینے والے کو یہ کہتے سنا کہ اسے  مٹا دو اور اس کا اجر و ثواب بھی کم کر دو،   پس ہم نے اسے  مٹا دیا۔ ‘‘  یہ سن کر مَیں   خواب میں   رونے لگا اور عرض کی: ’’تمنے ایسا کیوں   



[1]     المرجع السابق، باب حسن الصوت بالقراء ۃ للقراٰن، الحدیث: ۵۰۴۸، ص۴۳۷السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب فضائل القراٰن، باب تحبیر القراٰن، الحدیث: ۸۰۵۸، ج۵، ص۲۳

[2]     الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم ۱۹۸۲ علقمۃ بن قیس، ج۶، ص۱۴۹

[3]     الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب الرابع، ج۵، ص۳۱۶

[4]     امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مقصود نماز سے منع کرنا نہ تھا بلکہ ذکرِ الٰہی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

[5]     ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا۔

[6]     المصنف لعبد الرزاق، کتاب الصلاۃ، باب حسن الصوت، الحدیث: ۴۱۹۲، ج۲، ص۳۲۱۔ ’’لابی مسعود‘‘ بدلہ ’’لابی موسیٰ‘‘ و بدون ’’حتی یکاد    الخ‘‘



Total Pages: 332

Go To