Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گا۔

 (۶) … کوئی غافل اسے  دیکھے تو قیام پر ہوشیار ہو جائے اور اسے  بھی عبادت کا شوق پیدا ہو،   پس اس طرح جہری قراء ت کرنے والا اس کے حق میں   نیکی و تقویٰ کے کام پر معاونت کرنے والا شمار ہو گا۔

 (۷) … جہری قراء ت کے سبب کثرت سے  تلاوت کرے گااور جہری قراء ت کی عادت کے سبب ہمیشہ شب بیداری کرے گا۔ پس اس میں   اس کے عمل کی کثرت ہے۔

نیت اور ثواب: 

٭ جب بندہ ان نیتوں   کا اعتقاد رکھے ٭ثواب کا طالب ہو٭اللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب چاہتا ہو ٭اپنی حیثیت جانتا ہو ٭اس کا مقصود بھی صحیح ہو اور ٭اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی جانب نظریں   جمائے ہوئے ہو کہ جس نے اسے  اپنی رضامندی کے کام کی توفیق دی ہے تو اس کا بلند آواز سے  قرآنِ کریم پڑھنا ہی افضل ہے کیونکہ جہری قراء ت میں   کئی اَعمال جمع ہو جاتے ہیں   اور عمل کی فضیلت اس میں   کی گئی نیتوں   کی کثرت کے اعتبار سے  ہوتی ہے۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام بلند مرتبہ ہوتے ہیں   اور ان کے اعمال کے افضل ہونے کا سبب ان کا اپنے اعمال کی اچھی اچھی نیتوں   سے  آگاہ ہونا اور ان کا اعتقاد رکھنا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی عمل میں   دس نیتیں   بھی ہو سکتی ہیں  ،   جو علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس بات کو جانتے ہیں   اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں   تو انہیں   دس گنا اجر عطا فرمایا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی ایک ہی عمل میں   شریک لوگوں   میں   سے  بہترین لوگ وہ ہوتے ہیں   جن کی اس عمل میں   نیتیں   زیادہ ہوں   اور ان کا مقصود اچھا اور ادب والا ہو۔

سماعت و تلاوتِ قرآنِ کریم کی فضیلت: 

 (1) … جس نے کتاب اللہ کی ایک آیت غور سے  سنی وہ قیامت کے دن اس کے لئے نور ہو گی۔  ([1])

 (2) … ایک روایت میں   ہے کہ اس کے لئے دس نیکیاں   لکھی جاتی ہیں  ۔ ([2]) اور تلاوت کرنے والا بھی سماعت کرنے والے کے ساتھ اجر میں   شریک ہوتا ہے کیونکہ اسینے اسے  ثواب کمانے کا موقع دیا۔

 (3) … پڑھنے والے کے لئے ایک اجر اور سننے والے کے لئے دو اجر ہیں   اور ایک قول کے مطابق سننے والے کے لئے نو اجر ہیں  ۔ بہرحال دونوں   قول صحیح ہیں  ۔ کیونکہ پڑھنے اور سننے والے دونوں   افراد میں   سے  ہر ایک کو اس کے خاموش رہنے اور نیت کے مطابق ثواب ملتا ہے۔ جب تلاوت کرنے والا دوسرے کو اجر کمانے کا موقع دیتا ہے تو یقیناً اس کے لئے وہ تمام اجر ہو گا جو سننے والا حاصل کرے گا دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے  کہ’’نیکی پر راہنمائی کرنے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔ ‘‘   ([3])  خصوصاً جب تلاوت کرنے والا قرآنِ کریم کا عالم اور فقیہ بھی ہو تو اس کی قراء ت اور وقوف سامع کے لئے حجت ہوں   گے۔

رسولِ کریم صلَّی اللہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّماور سماعتِ قرآنِ کریم: 

            ایک مرتبہ رسولِ بے مثال،   صاحب جُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا انتظار فرما رہے تھے،   جب وہ دیر سے  حاضرِ خدمت ہوئیں   تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا: ’’آپ کو کس شےنے روکے رکھا؟ ‘‘  عرض کی: ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   ایک شخص کی قراء ت سن رہی تھی،   اس سے  بڑھ کر خوبصورت آواز میں  نے کسی کی نہیں   سنی۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی کھڑے ہوکر کافی دیر تک تلاوت سنتے رہے اور پھر واپس لوٹ کر ارشاد فرمایا:  ’’یہ ابو حذیفہ کا آزاد کردہغلام سالم ہے،   تمام تعریفیں  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہیں   جس نے میری امت میں   اس جیسے  قاری پیدا فرمائے ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

            ایک بار رات کے وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قراء ت سماعت فرمائی جبکہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے۔ سب کافی دیر تک کھڑے رہے،   پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو قرآنِ کریم کو اس طرح پڑھنا چاہتا ہو جیسا کہ یہ ابھی ابھی نازل ہوا ہے تو اسے  چاہئے کہ وہ ابن ام عبد  (یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود )  کے پڑھنے کی طرح پڑھا کرے۔ ‘‘   ([5])

            ایک مرتبہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  ارشاد فرمایا: ’’قرآنِ کریم پڑھو۔ ‘‘  انہوں  نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا میں    (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے)  قراء ت کروں   حالانکہ قرآنِ کریم تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل ہوا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میں   کسی دوسرے سے  سننا چاہتا ہوں  ۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:  (فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ (۴۱)  (پ۵،  النساء:  ۴۱) )   ([6])  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ مبارک نم ہو گئیں  ۔ ([7])

 



[1]     المصنف لعبد الرزاق، کتاب فضائل القراٰن، باب تعلیم القراٰن و فضلہ، الحدیث: ۶۰۳۲، ج۳، ص۲۲۹ قول ابن عباس

[2]     شعب الایمان للبیھقی، باقی تعظیم القراٰن، فصل فی استحباب التکبیر، الحدیث:۲۰۸۵، ج۲، ص۳۷۳الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم ۵۰۹ حفص بن عمر الحکیم، ج۳، ص۲۸۴

[3]     جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ان الدال علی الخیر ، الحدیث: ۲۶۷۰، ص۱۹۲۱

[4]     سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوات، باب فی حسن الصوت بالقراٰن، الحدیث: ۱۳۳۸، ص۲۵۵۶

[5]     المعجم الاوسط، الحدیث:۲۴۰۴، ج۲، ص۳۳

[6]     ترجمۂ کنز الایمان: تو کیسی ہو گی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں۔

[7]     صحیح البخاری، کتاب فضائل القراٰن، باب البکاء عند قراء ۃ القراٰن، الحدیث:۵۰۵۵، ص۴۳۷



Total Pages: 332

Go To