Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

قرآنِ کریم کی تلاوت کی تھی اور جب میں  نے قرآنِ کریم کی تلاوت ختم کی تو انہوں  نے مجھے یہ کہتے ہوئے جھڑک دیا کہ تونے مجھ پر قرآنِ کریم پر عمل کرنا لازم بنا دیا ہے،   جاؤ اور جا کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضر ہو کر پڑھو! پھر دیکھو کہ وہ تمہیں   اس میں   سے  کیا سناتا ہے اور کیا سمجھاتا ہے؟

تلاوت اور استغفار: 

            حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  عرض کی گئی کہ آپ ختمِ قرآنِ کریم کے وقت کیا دعا کرتے ہیں  ؟ تو آپ نے فرمایا:  ”میں   کس چیز کی دعا کروں  ؟ میں   تو اپنی تلاوت  (کی کوتا ہیوں  )  سے  100مرتبہ استغفار کرتا ہوں  ۔“ اور یہ بھی فرماتے کہ میں   قرآنِ کریم کی تلاوت کا خوب اہتمام کرتا ہوں   اور جب ایسی آیات پڑھتا ہوں   جن سے  مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا اندیشہ ہو تو تسبیح و استغفار کرنے لگتا ہوں  ۔

جیسی تعظیم ویسا مرتبہ!

            جان لیجئے کہ قرآنِ کریم کی قراء ت میں   بندہ اسی مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جس قدر وہ قرآنِ کریم کی تعظیم بجا لاتا،   اس کا فہم رکھتا،   اس کی زیارت کرتا اور اس پر عمل کرتا ہے کیونکہ قرآنِ کریم زمین پر موجود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام مخلوق میں   اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی سب سے  عظیم نشانی ہے اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کامل نعمتوں   میں   سے  ایک نعمت بھی ہے۔ بندے کی تعظیم اس کی پرہیزگاری کے مطابق ہوتی ہے اور اسے  خطاب کا فہم اور کلام کی تعظیم کرنے کی توفیق اسی قدر ملتی ہے جس قدر اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت وہیبت اور بزرگی کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت اپنے دل میں   بسا لیتا ہے اور اپنے فہم میں   اس کی بڑائی و بزرگی کو جگہ دیتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  اپنے کلام میں   تدبر کی نعمت سے  نوازتا ہے اور جب وہ اس کے خطاب میں   طویل تفکر کرتا ہے اور بار بار دل میں   اسے  دہراتا ہے اور ہر نازل ہونے والی مصیبت کے وقت اسے  یاد کرتا ہے اور اسی کا محتاج ہوتا ہے تو تقویٰ و پرہیزگاری کا پیکر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

 (۱) وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (۶۳)  (پ۱،  البقرۃ:  ۶۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں   پرہیزگاری ملے۔

 (۲) كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ (۱۸۷)  (پ۲،  البقرۃ:  ۱۸۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ یوں   ہی بیان کرتا ہے لوگوں   سے  اپنی آیتیں   کہ کہیں   انہیں   پرہیزگاری ملے۔

 (۳) وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ (۲۲۱)  (پ۲،  البقرۃ:  ۲۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنی آیتیں   لوگوں   کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں   وہ نصیحت مانیں  ۔

کلام کی تعظیم قائل کے مطابق ہوتی ہے: 

            ہر کلام چونکہ اپنے قائل پر موقوف ہوتا ہے لہٰذا کلام کی تعظیم اس کے قائل کی عظمت کی وجہ سے  ہوتی ہے اور دل میں   بھی اس کا بلند مرتبہ اسی کی بلند شان کی بنا پر ہوتا ہے اور قائل کی شان کم ہوتو اس کے کلام کی بھی دل میں   کوئی وقعت نہیں   ہوتی۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ- (۲۵،  الشوری:  ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس جیسا کوئی نہیں  ۔

            یعنی عظمت و سلطنت میں   اس جیسا کوئی نہیں   اور نہ ہی احکام و بیان میں   اس کے کلام کی طرح کسی کا کلام ہے۔

اے بندۂ خدا سوچ ذرا !

             (حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  میں  نے تورات کی سورۂ حنین میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان پڑھا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے سے  ارشاد فرماتا ہے: ’’اے میرے بندے! کیا تجھے مجھ سے  حیا نہیں   آتی؟ اگر تو پیدل چل رہا ہو اور تیرے پاس کسی دوست یا بھائی کا خط آ جائے تو تو اسے  پڑھنے کے لئے راستے سے  ہٹ کر بیٹھ جاتا ہے،   پھر اس کے ایک ایک حرف کو بغور پڑھتا ہے کہ کہیں   کوئی شے رہ نہ جائے اور یہ میری کتاب ہے،   میں  نے اسے  تیری طرف نازل کیا ہے،   ذرا دیکھ تو سہی! میں  نے تجھے اس کتاب میں   کتنے احکام عطا کئے ہیں   اور انہیں   بار بار ذکر کیا ہے تا کہ تو ان میں   غورو فکر کرے؟ پھر بھی تو اعراض کئے ہوئے ہے۔ کیا میری حیثیت تیرے نزدیک اپنے ان بھائیوں   سے  بھی کم ہے؟ اے میرے بندے! جب تیرا کوئی بھائی تیرے پاس بیٹھتا ہے تو تُو اس کی جانب مکمل طور پر متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی بات دل سے  سنتا ہے کہ اگر کوئی شخص تجھ سے  بات کرے یا کسی دوسرے کام میں   مشغول کرنے کی کوشش کرے تو اسے  اشارے سے  چپ کرا دیتا ہے اور ادھر میں   تجھ پر نظر رحمت فرماتا ہوں   اور تجھ سے  خطاب کرتا ہوں   لیکن تو ہے کہ مجھ سے  اپنے دل کو موڑے ہوئے ہے،   پس تونے مجھے اپنے بھائی سے  بھی کم مرتبہ سمجھ رکھا ہے۔  (اَوْ کَمَا قَالَ)  

            رات بھر عبادت کرنے والوں   کو خطاب کی سوجھ بوجھ کے باعث رات بھر کا قیام بھی ہلکا محسوس ہوتا ہے جبکہ سونے والوں   پر قیام بھاری ہوتا ہے اس لئے کہ ان کے دل سمجھنے سے  دور ہوتے ہیں   اور ان پر حجاب ہوتا ہے۔

٭٭٭

٭سرکار کے شہزادے اور شہزادیاں ٭

 



Total Pages: 332

Go To