Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

([1]) کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ یہاں   مراد یہ ہے کہ متکبرین فہمِ قرآن کی دولت سے  محروم ہوتے ہیں  ۔  ([2])

اِسلام کی ہیبت ختم ہو جائے گی: 

            رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے:  ’’ جب میری امت دُنیا اور درہم  (یعنی دولت)  کی تعظیم کرنے لگے گی تو اس سے  اسلام کی ہیبت ختم کر دی جائے گی اور جب اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرترک کرے گی تو وحی کی برکت سے  بھی محروم ہو جائے گی۔ ‘‘   ([3])

            حضرت سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ لوگ فہم قرآن سے  محروم کر دیئے گئے ہیں  ۔  ([4])

قرآن اور اس پر عمل: 

            غافل قراء کی حد درجہ مذمت بیان کی گئی ہے۔ ایک روایت میں   ہے کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے اکثر قراء منافق ہوں   گے۔ ‘‘ ([5])

            حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ تمنے تو قرآنِ کریم کی قراء ت کو منزلیں   اور رات کو سواری بنا ڈالا ہے اور سوار ہو کر بس منزلیں   طے کرتے جاتے ہو حالانکہ تم سے  پہلے لوگ قرآنِ کریم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا پیغام جانتے اور رات بھر اس میں   تدبر و تفکر کرتے اور دن کے اوقات میں   اس پر عمل کیا کرتے تھے۔   ([6])

            حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  قبل حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں   پر قرآنِ کریم نازل کیا گیا تا کہ علم حاصل کریں   مگر انہوں  نے اسے  پڑھنا ہی عمل بنا لیا،   ان میں   ایک قرآنِ کریم سورۂ فاتحہ سے  لے کر اختتام تک تلاوت کرتا ہے کہ کوئی بھی حرف درمیان سے  نہیں   چھوڑتا مگر اس کی حالت یہ ہے کہ اسنے اس پر عمل کرنا چھوڑ رکھا ہے۔

پہلے ایمان تھا پھر قرآن مگر اب !!

            حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور حضرت سیِّدُنا جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی حدیثِ پاک میں   ہے کہ ہم نے زمانے کا ایک حصہ اس حالت میں   بسر کیا کہ ہم میں   سے  ایک شخص کو قرآنِ کریم سے  قبل ایمان دیا جاتا ،   پھر شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کوئی سورت نازل ہوتی تو ہم اس کے حلال و حرام اور امر و نہی اور جن احکام کا ہمارے لئے جاننا ضروری ہوتا سیکھتے جیسا کہ تم قرآنِ کریم سیکھا کرتے ہو،   اس کے بعد میں  نے ایسے  افراد دیکھے جنہیں   ایمان سے  قبل قرآنِ کریم دیا جاتا ہے،   وہ شخص سورۂ فاتحہ سے  لے کر اختتامِ قرآن تک مکمل تلاوت کر دیتا ہے مگر یہ نہیں   جانتا کہ اس کے امر و نہی کیاہیں  ؟ اور نہ ہی جن احکام کا جاننا اس پر لازم ہے وہ جانتا ہے بلکہ وہ اوراقِ قرآن اس طرح بکھیرتا ہے جیسے  ردّی کھجوریں   بکھیری جاتی ہیں  ۔  ([7])

حفظِ قرآن فرض نہیں  : 

            قرآنِ کریم کا مقصود اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے  اجتناب ہے کیونکہ اس کی حدود کی حفاظت کرنا فرض ہے اور بندے سے  اس کے متعلق سوال ہو گا اور اس پر سزا و جزا بھی مرتب ہو گی مگر اس کے تمام حروف زبانی یاد کرنا فرض نہیں   اور اگر کسی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا کردہ قدرت کے مطابق پورا قرآنِ کریم حفظ نہ کیا تو اس پر کوئی سزا نہیں   ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا (۵)  (پ۲۹،  المزمل:  ۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں   گے۔

            یعنی قرآنِ کریم پر عمل کرنا ایک مشکل امر ہے ورنہ اسے  یاد کرنے کے لئے تو سہل و آسان بنا دیا گیا ہے۔

زبان ودل کی موافقت: 

            شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے:  ’’ قرآنِ کریم پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل  (زبان کے)  موافق رہے اور جب تک تمہارے بدن نرم رہیں  ،   جب  (زبان اور دل)  آپس میں   موافق نہ ہوں   تو تم پڑھنے والے شمار نہ ہو گے۔ ‘‘  اور بعض روایات میں   ہے کہ جب موافق نہ ہو تو چھوڑ دو۔   ([8])

قرآنِ کریم پر عمل کرنا لازم ہے: 

                 (حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  )  میں  نے ایک شیخ فاضل کے سامنے قرآنِ کریم کیتلاوت کی تو انہوں  نے ارشادفرمایا میں  نے بھی ایک شیخ کے سامنے



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔ 

[2]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذم الدنیا، الحدیث: ۳۲۲، ج۵، ص۱۴۷

[3]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذم الدنیا، الحدیث: ۳۲۲، ج۵، ص۱۴۷

[4]     المرجع السابق، بتغیر

[5]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص، الحدیث: ۶۶۴۸، ج۲، ص۵۸۸

[6]     التبیان فی حملۃ القراٰن للنووی، الباب الخامس فی اٰداب حامل القراٰن، ص۵۴عن حسن بن علی مختصراً

[7]     السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب البیان انہ انما قیل یؤمھم اقرؤھم، الحدیث: ۵۲۹۰، ج۳، ص۱۷۰

[8]     صحیح البخاری، کتاب فضائل القراٰن، باب اقرؤوا القراٰن، الحدیث: ۵۰۶۱، ص۴۳۸



Total Pages: 332

Go To