Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کہ میرا ذکر نہ کیا کریں   کیونکہ میں  نے اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے کہ میں   اسی کا چرچا کروں   گا جو میرا ذکر کرے گا جبکہ میں   ان گناہگاروں   کا ذکر لعنت کے ساتھ کرتا ہوں  ۔ ‘‘  ([1])

            غافلین کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک جگہ ارشاد فرمایا:

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَاۚ-وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُؕ-اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِؕ-وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (۱۶۹)  (پ۹،  الاعراف:  ۱۶۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے اس دنیا کا مال لیتے ہیں   اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی اور اگر ویسا ہی مال ان کے پا س اور آئے تو لے لیں   کیا ان پر کتاب میں   عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں   مگر حق اور انہوں  نے اسے  پڑھا اور بے شک  پچھلا گھر  (آخرت)  بہتر ہے پرہیزگاروں   کو تو کیا تمہیں   عقل نہیں  ۔

            اس آیتِ مبارکہ میں   غافلین کے دو وصف ذکر کئے گئے ہیں   یعنی بے کار امیدیں   باندھنا اور جھوٹے گمان رکھنا۔ یہ دونوں   ایسے  اوصاف ہیں   جو کبھی ایک دوسرے سے  جدا نہیں   ہوئے کہ ڈر اور خوفنے ان کی جگہ لے لی ہو۔ یعنی انہوں  نے دنیا میں   اپنے خالق کی نافرمانی کی اور آخرت میں   اس سے  مغفرت کی امید رکھی،   جس کا سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت سے  جاہل ہونا اور اس کے احکام سے  منہ موڑنا ہے ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ”کیا ان پر کتاب میں   عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں  مگر حق۔“ اس کے بعد ان کے علم کے متعلق آگاہ فرمایا کہ ان کا علم محض قول و خبر کا ہے نہ کہ یقین و مشاہدہ کا۔ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان ”اور انہوں  نے اسے  پڑھا سے  مراد ہے کہ انہوں  نے کلامِ باری تعالیٰ کو پڑھ کر علم حاصل کیا مگر عمل نہ کیا تو انہیں   اس سے  کچھ نفع حاصل نہ ہوا۔ پس یہ فرمان ان کے لئے زجر و توبیخ (یعنی ڈانٹ ڈپٹ)  کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہ فرامینِ عالیشان ہیں:

 (۱) قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۹۳)  (پ۱،  البقرۃ:  ۹۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو۔

 (۲) نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَۗۙ-كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ (۱۰۱)  وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ (پ۱،  البقرۃ:  ۱۰۲،  ۱۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو کتاب والوں   سے  ایک گروہنے اللہ کی کتاب اپنے پیٹھ پیچھے پھینک دی گویا وہ کچھ علم ہی نہیں   رکھتے اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے۔

 (۳) فَنَبَذُوْهُ  وَرَآءَ  ظُهُوْرِهِمْ  وَ  اشْتَرَوْا  بِهٖ  ثَمَنًا  قَلِیْلًاؕ-فَبِئْسَ   مَا  یَشْتَرُوْنَ (۱۸۷)  (پ۴،   ال عمران:  ۱۸۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو انہوں  نے اسے  اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کئے تو کتنی بری خریداری ہے۔

            یہاں   قرآنِ کریم پر عمل نہ کرنے کو ہر حالت میں   پسِ پشت ڈالنے اور چھوڑ دینے کا نام دیا گیا ہے،   نیز اس کی نفی کرنا اور دنیا کے عوض بیچنا بھی قرار دیا گیا ہے۔ وعدہ و وعید کی ہر آیتِ مبارکہ خائفین کے لئے نصیحت اور خوف دلانے والی ہے اور انہی آیاتِ مبارکہ سے  غافلین کی پہچان ہوتی ہے۔ اس راز کو اسی نے جانا جس نے جانا۔ چنانچہ،   

            جہنم کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗؕ-یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ (۱۶)  (پ۲۳،  الزمر:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس سے  اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں   کو اے میرے بندو تم مجھ سے  ڈرو۔

            ایک مقام پر جہنم کے متعلق ارشاد فرمایا:

اُعِدَّتْ  لِلْكٰفِرِیْنَۚ (۱۳۱)  (پ۴،  ال عمران:  ۱۳۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کافروں   کے لئے تیار رکھی ہے۔

فہم قرآنِ کریم: 

            ایک بزرگ سے  مروی ہے کہ بندہ ایک سورت کا آغاز کرتا ہے تو فرشتے اس کے فارغ ہونے تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں   اور ایک بندہ ایساہے جب کسی سورت کا آغاز کرتا ہے تو وہ اس کے فارغ ہونے تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں  ۔ جب ان سے  دریافت عرض کی گئی کہ ایسا کیسے  ہو سکتا ہے؟ تو انہوں  نے بتایا کہ بندہ جب قرآنِ کریم کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانتا ہے تو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں   اور اگر ایسا نہ ہو تو اس پر لعنت کرتے ہیں  ۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  منقول ہے کہ بندہ بعض اوقات قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے لا علمی میں   خود پر لعنت کر رہا ہوتا ہے ،   مثلاً وہ پڑھتا ہے:  (اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ (۱۸)  (پ۱۲،  ھود:  ۱۸) )   ([2])  تو  وہ خود ظلم کرنے والا ہوتا ہے اور جب وہ پڑھتا ہے:  (لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ (۶۱)  (پ۳،  ال عمران:  ۶۱) )   ([3])  تو اس کا شمار بھی انہی جھوٹوں   میں   ہوتا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ- (پ۹،  الاعراف:  ۱۴۶) )   



[1]     المصنف لابن ابي شيبة، کتاب الفضائل، باب ما ذکر من ام داود و تواضعه عليه السلام، الحديث:۹، ج۷، ص۴۶۶ المجالسة وجواهر العلم للدينوری، الحدیث: ۹۶۸، ج۱، ص۳۷۴

[2]     ترجمۂ کنز الایمان: ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔

[3]     ترجمۂ کنز الایمان: جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔



Total Pages: 332

Go To